Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Bloods EP 6 by Munaza Niaz

 


Bloods

By Munaza Niaz

Ep - 6


اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو خود کو ایک کمرے میں پایا کافی دیر تک وہ لکڑی کی چھت کو دیکھتی رہی پھر اس نے نظر گھما کر دائیں بائیں دیکھا چاروں طرف لکڑی کی دیواریں تھیں وہ اٹھ بیٹھی دفعتاً اس کی نظر

ریوالونگ چیئر پر بیٹھے رابرٹ پر پڑی اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھا جس میں سے دھواں نکل رہا تھا سامنے لکڑی کی میز پر ایش ٹرے راکھ سے بھری ہوئی تھی آتش دان میں بھڑکتی روشنی اس کے آدھے چہرے پر پڑ رہی تھی وہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر اس کے ساتھ والی کرسی پر جا بیٹھی رابرٹ اسے اپنے دائیں طرف بیٹھتا دیکھ کر ہلکا سا چونکا پھر مسکرایا


"کیسی ہو؟"

وہ سیدھا ہو بیٹھا وہ کچھ نہیں بولی بلکہ ہاتھ بڑھا کر میز پر رکھی سگریٹ کی ڈبی سے ایک سگریٹ نکالی ہونٹوں میں دبا کر اس نے میز پر رکھا لائٹر اٹھا کر شعلہ بھڑکایا ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد اس نے سگریٹ جلا دیا ایک گہرا اور لمبا کش لگا کر اس نے دھواں ہوا میں چھوڑا۔


رابرٹ نے اپنا سگریٹ ایش ٹرے میں مسل دیا اب وہ فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا جس کی نیلی آنکھوں کی ڈوریاں ہلکی ہلکی سرخ تھیں ارورا نے پورے پانچ سگریٹ پھونک ڈالے جب اس نے چھٹا اٹھانا چاہا تو رابرٹ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر نفی میں سر ہلایا گہری سانس بھر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی


"مجھے امید نہیں تھی کہ میں بچ جاؤں گی بلکہ یہ امید تھی کہ تم مجھے بچالو گے"


لکڑی کی دیوار پر قد آدم شیشے کی کھڑکی تھی جس کے پار وہ دیکھ رہی تھی باہر برف باری ہو رہی تھی وہ اس کے ساتھ آ کھڑا ہوا تھا


"میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس نے یہ سب کیا؟"

وہ بھی شیشے کے پار برف باری کو دیکھ رہا تھا


"مجھے نہیں معلوم میں نے دشمنوں کی گنتی چھوڑ دی ہے"

اس نے کندھے اچکائے


"جب میں نے تمہیں گاڑی میں بے ہوش ہوتے دیکھا تو مجھے لگا میں نے خود کو کھو دیا ہے"

وہ آہستہ آواز میں بولا 


" اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو تمہیں معلوم ہے کہ میں کیا کرتا؟"

وہ پورا اس کی طرف گھوما 


ارورا کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی

" تم ہر اس شخص کو جہنم میں بھیج دیتے جس سے میں نفرت کرتی ہوں"


وہ تھوڑا سا اس کی طرف جھکا

"میں ہر اس شخص کو ختم کر دیتا جس نے تمہیں دیکھا ہوا ہے"

اب وہ پھر سے شیشے کے پار دیکھ رہا تھا


"میرے بچوں سے نہیں ملو گی؟"

اچانک ہی رابرٹ نے کہا پہلے وہ چونکی پھر ہنس پڑی

"کیوں نہیں"

وہ دروازے کی طرف بڑھی وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا 


جب وہ دروازہ کھول کر راہداریوں سے ہوتی ہال کے دروازے سے باہر نکلی تو برف باری نے اس کا استقبال کیا اندر گھر بالکل گرم تھا جبکہ باہر اسے تھوڑی تھوڑی سردی محسوس ہوئی۔ دوسرے لمحے کسی نے پیچھے سے موٹی سی جیکٹ اس کے کندھوں پر پھیلائی۔ مسکرا کر رابرٹ کو دیکھتے اس نے جیکٹ پہن لی 


رابرٹ نے زور دار سیٹی بجائی ارورا نے سامنے دیکھا جہاں سڑک کے دوسری طرف چھوٹے بڑے پتھروں سے ہوتے بھاگ کر دو سیاہ و سفید بھیڑیے انہی کی طرف آ رہے تھے 


وہ بھی ان کی طرف بڑھی وہ دونوں بھیڑیے چھلانگ لگا کر اس کے اوپر گر کر اسے برف پر گرا چکے تھے اس کے اطراف میں چلتے وہ عجیب و غریب آوازیں نکالنے لگے یعنی وہ ارورا سے مل کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے وہ برف پر لیٹی ان کو دیکھتے ہنستی جا رہی تھی 


دونوں بازو سینے پر باندھے مسکرا کر وہ اسے دیکھنے لگا۔ بھیڑیے نے پنجا مار کر بہت سی برف ارورا کے چہرے پر پھینکی وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔ دونوں بھیڑیے اس سے بڑے تھے رابرٹ قدم قدم چلتا اس کے پاس پہنچا وہ اب بھیڑیوں کے سر اور جسم پر ہاتھ پھیرتے انہیں سہلا رہی تھی ساتھ ساتھ ہنس بھی رہی تھی اس کے بالوں میں بہت سی برف پھنس چکی تھی وہ پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا پھر ہاتھ بڑھا کر انگلیاں اس کے بالوں میں ڈال کر بالوں کو ہلایا برف اس کے بالوں سے جھڑ کر اس کی گود میں گرنے لگی۔


"مجھے اگر معلوم ہوتا کہ تم یہاں آ کر اتنی خوش ہو گی تو میں تمہیں بہت پہلے یہاں لے آتا"

اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اٹھا اور اسے بھی کھڑا کیا وہ کچھ لمحے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتی رہی پھر ہاتھ چھڑا کر وہ دائیں سمت بھاگی


"اگر تم نے مجھے پکڑ لیا تو سمجھ لینا کہ وہ ریس تم جیتے ہو"

وہ بھاگتے ہوئے چلائی 


وہ بے ساختہ ہنس پڑا کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا جو کافی دور جا چکی تھی پھر خود بھی بھاگنے لگا ارورا کے برعکس وہ برف پر ایسے بھاگ رہا تھا جیسے سڑک پر بھاگ رہا ہو اگلے دو منٹ میں اس نے ارورا کو جا لیا بھاگتے ہوئے اس نے ارورا کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا وہ ایک جھٹکے سے اس کی طرف گھومی کھلے بھورے بال اس کے کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے تیز بھاگنے کی وجہ سے اس کا سانس پھول گیا تھا


"کیا میں جیت گیا ہوں؟"

اس کا سانس بھی پھولا ہوا تھا وہ ہنستے ہوئے برف کی زمین پر پھر سے ڈھیر ہو گئی آسمان کو دیکھتے اس نے آنکھیں بند کر لیں ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد وہ بھی اس کے پہلو میں برابر ذرا فاصلے پر لیٹ گیا 


اب وہ دونوں ہی آسمان سے گرتی برف کو دیکھ رہے تھے وہاں پر ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا دونوں بھیڑیے چلتے ہوئے ان دونوں کی اطراف میں بیٹھ گئے


"ہاں تم جیت گئے"

اس نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا وہ کچھ کہنے لگا تھا کہ انہیں کسی جانور کی آواز آئی وہ تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے اچانک ہی ان کی نظر سامنے سے آتے دو سیاہ برفانی ریچھوں پر پڑی وہ دونوں ہی چونک کر کھڑے ہوئے 


ان کے بھیڑیے غراتے ہوئے ان دونوں کے سامنے آئے اچانک دو اور ریچھ ان کی پیٹھ پر آئے وہ دونوں تیزی سے پلٹے رابرٹ نے اپنا چاقو نکال لیا گن اس کے پاس نہیں تھی اس کے دونوں بھیڑیے غراتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے ریچھوں پر پل پڑے۔


رابرٹ کے سامنے کھڑا ریچھ اس کی طرف بھاگا رابرٹ نے اپنے ہاتھ میں پکڑا چاقو اپنی طرف بھاگتے جنگلی ریچھ کے پیٹ میں گھسا دیا وہ ہیبت ناک آواز نکالتا اس سے فاصلے پر گرا تیزی سے بھاگ کر اس نے چاقو نکال کر ریچھ کی گردن میں گھسا دیا وہ وہیں ڈھیر ہو گیا 


ارورا اپنے سامنے کھڑے چوتھے ریچھ کو دیکھ رہی تھی اس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ کافی انجوائے کرنا چاہتی ہے جیسے ہی وہ ریچھ اس کی طرف بھاگا ایک لمبی کلا بازی لگاتے وہ ریچھ کے اوپر سے گھومتی دوسری طرف کود گئی اس نے گردن موڑ کر دیکھا وہ ریچھ زور سے سر ہلاتے اس کی طرف چھلانگ لگا چکا تھا وہ بروقت برف پر لیٹی ریچھ اس کے اوپر سے ہوتا ہوا اس کے سر کو پار کر گیا وہ تیزی سے کھڑی ہوئی


"ارورا۔۔۔"

رابرٹ نے چلا کر اپنا چاقو اس کی طرف پھینکا چھلانگ لگا کر اس نے چاقو پکڑا جیسے ہی وہ ریچھ اس پر کودا اس نے جھک کر چاقو اس کے پیٹ میں گھسا کر چیرنے کے سے انداز میں چلایا 


ایک خوفناک آواز ریچھ کے منہ سے نکلی وہ جھٹکے سے دائیں طرف مڑ گئی خون کے چھینٹے اس کے کپڑے اور منہ پر گرے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس نے گہرے سانس بھر کر ریچھ کی طرف دیکھا جو کچھ لمحے تڑپتا رہا پھر ساکت ہو گیا رابرٹ تیزی سے اس کے پاس آیا کندھوں سے تھام کر اسے کھڑا کیا 


" تم ٹھیک ہو؟"

وہ بالکل بھی پریشان نہیں تھا بس غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا تھا۔


"میں بالکل ٹھیک ہوں"

ہلکا سا مسکرا کر کہا


وہ خطرناک طریقے سے معصوم تھی رابرٹ بھی مسکرایا جیکٹ کی جیب سے رومال نکال کر اس نے اورار کا چہرہ صاف کیا جہاں خون کے چھینٹے گرے تھے اس کے بھیڑیے ان کے دائیں بائیں آ کھڑے ہوئے جن کے منہ پر بھی خون لگا تھا اس کا ہاتھ پکڑ کر اب وہ واپس جا رہا تھا


☆☆☆


وہ سیاہ کار ایک بلڈنگ کے سامنے رکی تھی ایک آدمی اس گاڑی سے نکل کر ایک بریف کیس تھامے بنا کسی کی طرف دیکھے تیز تیز چلتا اس بلڈنگ میں داخل ہوا دروازے پر کھڑے گارڈ نے اسے روک لیا اس آدمی نے اپنا کارڈ نکال کر اسے دکھایا گارڈ نے سوری سر کہتے راستہ چھوڑ دیا 


تیز تیز چلتا اب وہ ایک لفٹ میں سوار ہو گیا لفٹ میں اس کے ساتھ اور بھی لوگ سوار تھے وہ ہر دوسرے سیکنڈ اپنی گھڑی دیکھتا گویا اسے کسی چیز کی جلدی ہو لفٹ کے رکتے ہی وہ سب سے پہلے باہر نکلا تھا۔ وہ ایک کمرے میں داخل ہوا۔ روم لاک کرتے اس نے بریف کیس بیڈ پر رکھ کے کھولا اندر ایک گن تھی جس کے حصے الگ الگ ترتیب سے رکھے تھے انہیں نکال کر وہ جوڑنے لگا 


جوڑنے کے بعد اس نے گن بیڈ پر رکھی کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر اس نے باہر کا جائزہ لیا باہر دن کا سماں تھا سامنے چھوٹی بڑی بلڈنگ سڑک کے کنارے ترتیب سے کھڑی تھیں اس کی نظر دائیں طرف والی بلڈنگ کے اپارٹمنٹ کی ایک کھڑکی پر تھی وہاں فی الحال کوئی نہیں تھا 


مڑ کر اس نے بیڈ پر پڑی لمبی نال والی وہی گن اٹھائی اب وہ کھڑکی کے پاس پوزیشن بنا کے بیٹھ گیا اگلے تین گھنٹے تک وہ بیٹھا رہا تھا مگر کوئی نہیں آیا پہلے تو وہ ٹھیک ٹھاک بیٹھا انتظار کرتا رہا پھر آہستہ آہستہ پریشانی، بیزاری اور پھر اکتاہٹ نے اسے آن گھیرا 


باہر رات ہونے لگی تھی اس کا شکار ابھی تک نہیں آیا تھا اس نے جلدی سے موبائل نکال کر ایک نمبر ملایا کال ملتے ہی اس کے بولنے سے پہلے کوئی اور بول پڑا


"کام ہوا یا نہیں؟"

اس کے بات سن کر اس نے ضبط سے کہا

"کوئی نہیں آیا"

"تم کہاں ہو پھر؟"

"میں یہی ہوں"

اس نے کہا 

" کیا بکواس کر رہے ہو نکلو فوراً وہاں سے"

وہ چلائی 


جیسے ہی اس نے فون رکھا اسے لاک کھلنے کی آواز آئی اس نے گن کا رخ دروازے کی طرف کر دیا جیسے ہی دروازہ ذرا سا کھلا ایک گولی تیزی سے اس کے گن والے ہاتھ میں لگی کراہتے ہوئے اس نے گن چھوڑ دی گولی پیچھے سے کھڑکی کے باہر کسی نے چلائی تھی پورا دروازہ کھول کر دو لڑکے اندر داخل ہوئے تھے پھر اسے بے ہوش ہونے تک مارتے رہنے کے بعد وہ دونوں اسے ایک سوٹ کیس میں بند کر کے باہر لے گئے


☆☆☆


" گاڑی کے بریکس خراب تھے لاک کے ساتھ کسی نے گڑبڑ کر دی تھی اس لیے کوئی دروازہ نہیں کھلا گاڑی کی ڈگی ٹوٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے پانی فوراً گاڑی میں بھر گیا اور سب جانتے ہیں کہ پانی کا اس گاڑی میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں اس سب کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے"

رابرٹ کے سامنے کھڑا شیرف اسے بتا رہا تھا 


وہ شیرف کو نہیں بلکہ اس سے تھوڑا فاصلے پر کھڑی روزلی کو دیکھ رہا تھا


"کس نے کیا ہوگا یہ سب روزلی؟" 

وہ براہ راست اس سے پوچھنے لگا اس کی آنکھوں میں کون سا تاثر تھا روزلی نہیں سمجھ سکی


"میں پوری کوشش کر رہی ہوں رابرٹ میں۔۔۔۔۔ میں اسے ڈھونڈ لوں گی بہت جلد"

آخر میں اس نے تھوک نگلا کیونکہ وہ چلتا ہوا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا


"میں سمجھا تم اب تک ڈھونڈ چکی ہوگی"

وہ پتہ نہیں اس سے کیا سننا چاہتا تھا۔ روزلی گنگ ہو چکی تھی۔


"پال۔۔۔۔ ارورا کی کار کی سروس جہاں ہوئی وہاں جاؤ اس وقت وہاں جو جو بھی تھا ان سب کو اکٹھا کر کے اگلے دس منٹ میں یہاں پہنچو جو منع کرے آنے سے اسے اپنے طریقے سے لے کر آنا اور جو غائب ہو اس کا ڈیٹا لے کر آنا۔۔۔۔۔۔ گو"

روزلی پر دوسری نظر ڈالے بغیر وہ پال سے بولا اور واپس جا کے بیٹھ گیا 


اگلے ایک منٹ میں پال کچھ آدمیوں کو لیے فوراً وہاں سے نکل گیا رابرٹ نے دیکھا روزلی کا رنگ پھیکا پڑا تھا مگر وہ فوراً ہی خود کو سنبھال چکی تھی


"جاؤ روزلی تم بھی جاؤ اور پتا کرو کہ اب اور کون سا نیا دشمن بن چکا ہے میرا"

وہ اس کی بے قراری بھانپ چکا تھا آخر میں اس نے جان بوجھ کر میرا کہا تھا 


وہ چونکی پھر سر ہلا کر فوراً وہاں سے غائب ہوگئی اس کے جاتے ہی اس نے فوراً شیرف کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا وہ کنٹرول روم کی طرف جا رہا تھا


"روزلی کا فون ہیک کرو"

اندر پہنچ کر اس نے شیرف کو کہا سر ہلا کر شیرف نے سسٹم ان کر کے کمپیوٹر کے کچھ بٹن دبائے


"اس کے فون میں کوئی انجانا نمبر نہیں ہے سب اپنے ہیں"


"اس کی لوکیشن معلوم کرو کہ وہ اب اس وقت کہاں جا رہی ہے"

کچھ لمحے سوچنے کے بعد وہ بولا


"وہ شہر کی طرف جا رہی ہے"

"اوکے اب ارورا کی لوکیشن ٹریس کرو"

"وہ ٹائم سکوائر میں ہے"

شیرف نے کہا انہوں نے دیکھا روزلی شہر سے دور ہی رک گئی تھی وہ کسی کو کال کر رہی تھی اور وہ نمبر نیا تھا


"اس نمبر کی لوکیشن اس وقت کہاں کی ہے؟"

"ٹائم سکوائر سے ذرا فاصلے پر ہے لیکن اسی طرف جا رہا ہے"

شیرف نے کہا


"ان کی کال ریکارڈ کر لو"

کہہ کر رابرٹ نے موبائل نکال کر ارورا کو کال کی


"تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے سویٹی جلدی سے یہاں پہنچو"

کال ملتے ہی رابرٹ نے لہجہ خوشگوار کر لیا وہ ایک دم ہنس پڑی


"مگر مجھے یہاں کچھ ضروری کام ہے"

شاپنگ مال میں داخل ہوتے ہوئے وہ بولی اس کے بعد اسے اپنی کسی دوست سے ملنے جانا تھا


"مجھ سے زیادہ کون سا ضروری کام ہو سکتا ہے تمہارے لیے؟" 

" کوئی بھی نہیں۔۔۔ ویٹ میں آ رہی ہوں"

مسکرا کر کہتے ہوئے وہ مال سے باہر نکلی


" اس کی کال ریکارڈ نہیں ہوئی اس کے فون رکھتے ہی کال ریکارڈ خود بخود مٹ گیا یہ روزلی نے کیا ہے بہت ہی شاطر ہے وہ"

شیرف نے اسے دیکھتے ہوئے کہا


"اٹھا لو اس کو"

اسے کہتا ہوا وہ باہر نکل گیا شیرف بھی اس کے پیچھے تھا


☆☆☆


رابرٹ سے بات کرنے کے بعد وہ گاڑی میں جا بیٹھی اسے ڈرائیو کرتے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اسے لگا کوئی اس کی گاڑی کا پیچھا کر رہا ہے اس نے بیک ویو مرر میں دیکھا وہ سات آٹھ موٹر بائیکس تھیں اور ہر بائیک پر دو دو لڑکے سوار تھے دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے اس کی گاڑی کو چاروں طرف سے گھیر لیا اس نے سپیڈ مکمل تیز کر دی


"الو کے پٹھے"

بڑبڑاتے اس نے گاڑی ڈھلوان کی طرف موڑ دی کافی دور جا کر اس نے گاڑی روکی اور گاڑی کی ساری لائٹس بھی آف کر دی تھیں۔ رات ہو چکی تھی اس نے دیکھا وہ سارے لڑکے اس کی گاڑی کو چاروں طرف سے گھیرے کھڑے تھے وہ گاڑی سے باہر نکل آئی ان کی بائیکس کی روشنی اس پر پڑ رہی تھی


"کیا ہوا گاڑی خراب ہو گئی ہے کہتی ہو تو میں ڈراپ کر دیتا ہوں کہاں جانا چاہو گی میرے گھر۔۔۔۔ اس کے گھر۔۔۔۔ اس کے گھر یا سب کے گھر"

ایک لڑکا اس کے سامنے کھڑا ہنستے ہوئے بولا اس کی بات پر سبھی ہنسے تھے جبکہ وہ پرسکون سی کھڑی اسے دیکھتی رہی


"کتوں کا بھی گھر ہوتا ہے؟ میں تو سمجھی تھی کہ بس سڑکوں پر پھرتے رہتے آنے جانے والوں پر بھونکتے رہتے ہیں پھر بدلے میں ڈنڈے وغیرہ کھاتے ہیں اور پھر کتے کی ہی موت مرتے ہیں"

وہ سب کی طرف دیکھتے ہوئے پھنکار کر بولی


" ہمیں کتا بول رہی ہے؟ تجھے تو ہم بتاتے ہیں کہ کتے صرف بھونکتے نہیں ہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔"

اس لڑکے نے تیش میں اسے دیکھتے باقیوں کو اشارہ کیا تین لڑکے تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔


اگلے ہی پل اس نے گھومتے ہوئے ان پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش شروع کر دی وہ منہ اور پیٹ پر ہاتھ رکھے پیچھے ہوئے باقی کھڑے سارے لڑکے ایک ساتھ اس کی طرف بڑھے تھے وہ سب نہیں جانتے تھے کہ سامنے کھڑی لڑکی کون ہے۔ 


وہ مارشل آرٹ اور کراٹوں کے مکسچر میں ان کا قیمہ بنا رہی تھی چار لڑ کر پیچھے گرتے، مزید چار اس کی طرف بڑھتے اور ان سے بری طرح مکے کھا کر پھر پیچھے جا گرتے اگلے دو منٹ میں وہ سب ایک دوسرے پر گرے پڑے کراہ رہے تھے اب وہ اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی جس نے اسے ڈراپ کرنے کی آفر کی تھی


"ارے کیا ہوا تم تو ڈر گئے ہو اگر اس طرح ڈرو گے تو مجھے ڈراپ کیسے کرو گے"

مسکرا کر کہتے آخر میں اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا 


وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی گلے پر ہاتھ رکھے وہ لڑکا خوف سے پیچھے ہونے لگا وہ اس کے قریب پہنچی ہی تھی کہ کسی نے زور سے کوئی چیز اس کے سر میں دے ماری 


سر پر ہاتھ رکھے اس نے مڑ کر دیکھا وہ ایک لڑکا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ڈنڈا تھا اور وہ کانپ رہا تھا اس کے منہ سے خون بھی نکل رہا تھا منظر دھندلا ہونے لگا وہ جھکی پھر گھٹنوں کے بل بیٹھی اگلے ہی پل میں وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی تھی۔ اس لڑکے نے دوبارہ ڈنڈا مارنا چاہا مگر دوسرے نے اسے روک دیا


"اسے گاڑی میں ڈالو۔۔۔ چلو جلدی کرو"  

وہ لڑکا تیزی سے بائیک پر بیٹھا باقی سارے گرتے پڑتے اٹھے اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا 


دو لڑکے گاڑی میں بیٹھے باقیوں نے بھاگ کر اپنی اپنی بائیکس سٹارٹ کیں۔ تب ہی اس لڑکے کا موبائل بجنے لگا اس نے چونک کر دیکھا


"مارک کہاں ہو تم پلیز جلدی یہاں آؤ۔۔۔۔۔ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے"

وہ ایمی تھی اور کافی گھبرائی ہوئی بھی تھی۔


"ریلیکس ایمی۔۔۔ کیا ہوا ہے؟ تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ میں اس وقت شہر سے دور ہوں فوراً نہیں پہنچ سکتا"


" تم مت آنا ہم کل بات کر لیں گے"

کچھ لمحے بعد ایمی نے اسے کہا پھر فون کھٹاک سے بند کر دیا


"کم اون ایمی میں تو کب سے انتظار کر رہا تھا کہ تم مجھے بلاؤ لیکن سوری یار میں آج نہیں آ پاؤں گا کیونکہ آج مجھے تم سے زیادہ خوبصورت لڑکی مل گئی ہے بٹ ڈونٹ وری چھوڑوں گا تو میں تمہیں بھی نہیں"

حیوانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس نے بائیک تقریباً اڑائی تھی

جاری ہے


Bloods ep 7 link 🖇️ 👇

https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/04/bloods-ep-7-by-munaza-niaz.html

Comments

Popular Posts