Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Bloods ep 7 by Munaza Niaz
Bloods
By Munaza Niaz
Ep - 7
گاڑیوں کی ایک لمبی قطار تھی جو دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ گاڑیوں کے سامنے کھلا سینکڑوں میل پھیلا ایک بڑا میدان تھا جبکہ پیچھے کی طرف گھنا جنگل تھا۔ اس کے سامنے دو لڑکے کھڑے تھے جو خوفزدہ ہوتے کبھی اسے تو کبھی اطراف میں دیکھتے۔
"کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو؟"
اس نے ایک سے پوچھا۔
"میں نے کچھ نہیں کیا، مجھے نہیں معلوم، مجھے چھوڑ دو۔"
وہ لڑکا ہاتھ جوڑے رونے لگا۔ وہ آگے بڑھا اور ایک جان لیوا تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔ پھر دوسرا تھپڑ، پھر تیسرا... وہ لگاتار اس کے منہ پر تھپڑ برساتا رہا۔
لڑکے کا منہ تقریباً ٹیڑھا ہو گیا تھا، ناک اور منہ سے خون نکل رہا تھا۔ وہ زمین پر منہ کے بل گرا اور کراہنے لگا۔ اس نے دوسرے کو دیکھا جس کی ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں۔
تب ہی ایک اور گاڑی وہاں آکر رکی۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر شیرف اور پال باہر نکلے۔ دونوں نے پھرتی سے گاڑی کی ڈگی کھولی اور ایک سوٹ کیس باہر نکالا۔ کیس کھول کر انہوں نے ایک لڑکے کو باہر نکالا تھا جو ہوش میں آ چکا تھا۔
اسے دبوچے انہوں نے اس لڑکے کے ساتھ کھڑا کیا جو رابرٹ کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے دو آدمیوں نے اس گرے ہوئے لڑکے کو بھی اٹھا کر ان کی قطار میں کھڑا کر دیا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے ان سب کو پیچھے ہو جانے کا کہا۔
" کس نے تمہیں ہائر کیا تھا؟"
اس نے اس لڑکے سے پوچھا جس کو شیرف اور پال ابھی لے کر آئے تھے پھر اس نے باقی دونوں کو بھی دیکھا گویا ان دونوں سے بھی وہی سوال پوچھ رہا ہو۔
"آخری بار۔۔۔۔"
ساتھ ہی اس نے چاقو نکال لیا۔ اس کی آنکھوں میں سفاکیت تھی۔
"میں......... میں بتاتا ہوں"
ان میں سے ایک بولنے ہی لگا تھا کہ ایک گولی اس کے سر میں لگی۔ اگلی گولی دوسرے کی گردن میں، آخری گولی تیسرے کے سینے میں۔
یہ سب بالکل اچانک ہوا تھا رابرٹ نے بے یقینی سے انہیں پھر مڑ کر اپنے پیچھے دیکھا۔ فائر پیچھے جنگل سے کسی نے کیا تھا اس کے آدمی تیزی سے جنگل کی طرف بھاگے۔ دھیرے سے جھک کر اس نے ان تینوں کو دیکھا جو مر چکے تھے۔ غصہ ضبط کیے اس نے موبائل نکال کر ارورا کو کال کی۔ پہلے بیل جاتی رہی مگر اس نے نہیں اٹھایا دوسری بار ملانے پر فون بند ہو گیا
"شیرف ارورا کا فون ٹریس کرو۔۔۔ ابھی۔۔۔۔ لوکیشن دیکھو کہاں ہے وہ"
تیزی سے کہتے وہ گاڑی کی طرف بڑھا
"پورے جنگل میں پھیل جاؤ وہ جو کوئی بھی ہے اسے ڈھونڈ نکالو"
باقیوں سے کہتا ہے وہ تیزی سے گاڑی میں بیٹھا
شیرف اس کے ساتھ تھا جس نے کچھ ہی سیکنڈز میں ارورا کا فون ٹریس کر لیا تھا وہ ابھی تک شہر میں تھی اور ایک جگہ پر رکی ہوئی تھی۔
"مجھے پہلے ہی ارورا کو روک دینا چاہیے تھا کہ جو کچھ بھی اس کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کوئی اتفاق نہیں ہے کوئی ہے جو اسے مارنا چاہتا ہے"
تیزی سے ڈرائیو کرتے اس نے غصے سے اسٹیئرنگ پر مکا مارا۔
اسے بیس منٹ لگے تھے مطلوبہ جگہ پہنچنے تک شیرف اسے راستہ بتاتے ہوئے خود بھی پریشان لگ رہا تھا۔
"اس کا موبائل یہیں کہیں ہے"
گاڑی سے اتر کر شیرف نے کہا رابرٹ نے اطراف میں نظریں دوڑائیں سڑک کے دونوں طرف گھر تھے وہ ایک پوش علاقہ تھا جب کہ سڑک بالکل سنسان تھی اس نے شیرف کے ہاتھ سے ٹیب لے لیا پھر وہ سامنے کی طرف بھاگا
تبھی اس کی نظر سڑک کے کنارے گرے ارورا کے موبائل پر پڑی اس نے تیزی سے اسے اٹھایا وہ بند تھا اور اسکرین ٹوٹی ہوئی تھی
"شٹ...... کہاں ہو تم"
بے بسی سے اس نے چاروں طرف دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا
•••••
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی وہ غائب دماغی سے خود کو دیکھ رہی تھی اس کی آنکھیں سیاہ گہری تھیں اس نے نظر جھکا کر اپنے ہاتھ میں موجود ہیرے کی انگوٹھی کو دیکھا اس سے پہلے کہ وہ اسے اتارتی کسی نے دروازہ بجایا اس نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا
"آجائیں"
کہتی وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی اس نے پیروں تک چھوتے سفید لمبے فراق کو پہن رکھا تھا لمبے بال چوٹی میں بندھے تھے وہ ممی تھیں جو اندر آئی تھیں۔ دھیرے سے چلتے ہوئے وہ اس کے ساتھ آ بیٹھیں۔
"تم خوش تو ہو نا بچے؟"
انہوں نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما پہلے پہل تو وہ چونکی پھر نرمی سے مسکرائی
"جی میں خوش ہوں"
اپنا دوسرا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھا۔ ممی کے چہرے پر اطمینان سا پھیلا پھر انہوں نے مسکرا کر اس کا سر چوما
"اللہ پاک تمہیں ہمیشہ خوش رکھے فنکشن میں تم بجھی بجھی سی تھی یہ چیز تمہارے پاپا نے نوٹ کی تھی انہوں نے ہی مجھے بھیجا ہے کہ تم سے معلوم کروں کہ کہیں تم اس رشتے سے نہ خوش تو نہیں اگر ایسا ہے تو تم مجھے بتا سکتی ہو ہم یہ رشتہ ختم کر دیں گے ہماری ہیر کی جہاں خوشی ہو گی ہم وہیں اس کی شادی کریں گے"
انہوں نے مسکرا کر کہا البتہ اندر سے انہیں کچھ کھٹک رہا تھا
"ممی میں بس ایک چیز چاہتی ہوں میں اگلے پانچ سال تک شادی نہیں کرنا چاہتی میں بس...."
انہوں نے یکدم ہی اس کی بات کاٹ دی
"پانچ سال؟ کہیں تم پاگل تو نہیں ہو گئی تمہارے پاپا چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی دو تین ماہ تک کر دی جائے آفان اور اس کے گھر والے بھی یہی چاہتے ہیں کہ شادی جلد از جلد کر دی جائے"
انہوں نے دیکھا ہیر نے اپنے دونوں ہاتھ ان کے ہاتھ سے ہٹا کر اپنی گود میں رکھ لیے تھے
"میں کیا چاہتی ہوں ممی یہ بات تو آپ بھی جانتی ہیں"
اس نے گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔
"جو کچھ تم چاہتی ہو وہ ناممکن ہے ہیر..... تم ایک ایسے شخص کے انتظار میں اپنی زندگی ضائع کر رہی ہو جو شاید مر چکا ہے"
اس نے تڑپ کر ممی کو دیکھا
"پلیز ممی ایسا مت کہیں میرا دل کہتا ہے وہ آج بھی زندہ ہے اسے کچھ نہیں ہوا ہوگا وہ ٹھیک ہوگا"
اس کی آنکھوں میں نمی تیری
"اکیس سال ہیر اکیس سال..... کون جانے کہ وہ ہے بھی یا نہیں سب کہتے ہیں کہ داؤد مرتضیٰ مر چکا ہے جو بچے اغوا ہوتے ہیں وہ مار دیے جاتے ہیں اگر وہ زندہ ہوتا یا پہنچ جاتا تو اب تک واپس آ چکا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ وہ اب نہیں ہے تم اس بات کو قبول کر لو بچے کہ اب وہ نہیں رہا"
ہیر سر جھکائے بیٹھی رہی ممی کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں پھر مایوس ہو کر کمرے سے باہر چلی گئیں۔
ان کے جاتے ہی وہ تیزی سے الماری کی طرف بڑھی پٹ کھول کر اس نے اندر کپڑے ادھر ادھر کرنے شروع کر دیے اس نے جب ہاتھ باہر نکالا تو ایک تصویر اس کے ہاتھوں میں تھی
ایک دس سالہ بچے کی تصویر وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتی رہی اس نے پلکیں جھپکائیں تصویر دھندلی ہو گئی اس نے دوسری بار پلکیں جھپکائیں پانی آنکھوں سے نکل کر گالوں پر پھسلا اور منظر واضح ہوا
چلتے ہوئے وہ بیڈ پر گر گئی تھوڑی دیر بعد اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگی تھیں۔
••••
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کے دونوں ہاتھ پیٹھ پر رسی سے بندھے تھے وہ اوندھے منہ فرش پر پڑی تھی اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا آہستہ آہستہ اسے سب یاد آنے لگا سر میں ہلکے ہلکے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں گہرا سانس بھر کر اس نے خود کو ریلیکس کیا پھر آہستہ سے اٹھ بیٹھی اس نے چاروں طرف نظر ڈالی وہ ایک کمرے میں تھی کمرہ خالی تھا بس ایک کونے میں ایک میز اور اس پر ایک لیمپ جل رہا تھا دروازہ بند تھا
اس نے ہاتھ کھینچے مگر وہ مضبوطی سے بندھے تھے ایسے حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے وہ جانتی تھی۔ زمین پر بیٹھے اس نے گھٹنے کھڑے کیے اور بازو بالکل سیدھے کرتے اس نے دونوں ہاتھ فرش پر ٹکاۓ
تھوڑا سا اونچا ہو کر وہ پیچھے ہوئی اور جھک کر پوری کوشش کرتے اپنے دونوں ہاتھ ٹانگوں کے نیچے آگے کر کے نکلا لیے۔
اب وہ تیزی سے دانتوں سے رسی کھول رہی تھی اور اس میں اسے زیادہ سے زیادہ وقت نہیں لگا تھا 20 سے 25 سیکنڈ میں اس نے رسی کھول لی تھی۔ تبھی اچانک اسے بہت سے قدموں کی آوازیں آنے لگیں دونوں ہاتھ پیٹھ پر کر کے وہ دیوار کی طرف کمر کیے لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں
"تم ایسے اندر نہیں جا سکتے مارک نے منع کیا ہے کہ جب تک وہ نہیں آتا کوئی بھی اس کمرے میں داخل نہیں ہو گا"
" بکواس مت کرو مارک خود تو چلا گیا ہے مگر ہمیں کیوں روک رہا ہے تم سب نے آنا ہے تو آؤ ورنہ دفع ہو جاؤ"
ایک ہی جھٹکے سے دروازہ کھول کر وہ سب اندر گھس گئے تھے
اس لڑکے نے بورڈ پر ہاتھ مار کر پورا کمرہ روشن کر دیا۔ ارورا نے ذرا کی ذرا آنکھیں کھول کر اپنی طرف آتے ان لڑکوں کو دیکھا ایک نے جھک کر اس کا بازو پکڑا۔ جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی ایک گھونسا اس کی ناک پر پڑا۔
ناک پر ہاتھ رکھے وہ پیچھے ہوا پھرتی سے پنڈلی سے بندھا چاقو نکال کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی ان سب کی سٹی گم ہو گئی۔
" لیٹس پلے بوائز"
مسکرا کر کہتے انہیں اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا
وہ سب ایک ساتھ اس کی طرف بڑھے وہ جھکتی تو کبھی گھومتی ہوئی چاقو کسی کے پیٹ، کسی کے سینے تو کسی کی گردن میں اتار رہی تھی۔ وہ سب چلاتے ہوئے فرش پر گرتے گئے
ایک کا گھونسا اس کے چہرے پر پڑا تھا اس کا ہونٹ پھٹ گیا منہ سے خون نکلنے لگا۔ وہ ہلکا سا جھکی۔ آنکھوں کے سامنے چھائی دھند کو سر جھٹک کر دور کیا۔
اس نے اپنی طرف بڑھتے لڑکے کو دیکھا اگلے ہی لمحے اس نے چاقو لڑکے کی آنکھ میں گھسا کر چھوڑ دیا وہ ساکت ہوتا نیچے گر گیا۔ اب وہ اس کی طرف بڑھنے لگی جو آخری بچا تھا۔
وہ نہیں نہیں کرتا پیچھے ہونے لگا دونوں ہاتھوں میں اس کے بال جکڑ کر اس نے اپنا گھٹنا اس کے منہ پر مارا اور تب تک مارتی رہی جب تک اس کا جبڑا ٹوٹ نہیں گیا
نفرت سے اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی ٹھوڑی اور ہونٹ پر لگا خون ہاتھ مار کر صاف کیا پھر انہیں پھلانگ کر دروازہ کھول کر باہر نکل گئی وہ لنگڑاتے ہوئے چل رہی تھی اسے چوٹ لگی تھی جو وہ اب محسوس کر رہی تھی۔
وہ باہر نکلی۔ خالی سڑک پر کھڑے ہو کر دائیں بائیں دیکھا موبائل انہوں نے نکال کر کہیں پھینک دیا تھا اور اس کی گاڑی بھی غائب کر دی تھی وہ اس سنسان سڑک پر آہستہ آہستہ چلنے لگی اس کی سفید شرٹ پر خون لگا تھا جو اندھیرے میں سیاہ نظر آ رہا تھا اس نے تھوڑا سا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی
"رابرٹ۔۔۔"
وہ آواز کی سمت بھاگی۔ بے اختیار اس کی نظر سامنے شیرف کے ساتھ بھاگتے رابرٹ پر پڑی تھی اس نے ابھی تک ارورا کو نہیں دیکھا تھا
"رابرٹ۔۔۔"
وہ پھر چلائی۔
رابرٹ نے رک کر سیدھا دیکھا وہ سامنے کھڑی تھی۔
"ارورا"
وہ تیزی سے اس کی طرف بھاگا
"تم ٹھیک ہو؟ کیا ہوا تھا تمہیں...... او خدایا تم ٹھیک ہو"
اس کا چہرہ ٹٹولتے اس نے نرمی سے اسے خود سے لگایا اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اس کے سینے سے لگی وہ اس کی دھڑکن سن رہی تھی اس کے کپڑے بھی گندے ہو گئے تھے اسے چوٹ لگی تھی
"شیرف گاڑی لے کر آؤ"
اسے سامنے کرتے اس نے شیرف کو کہا وہ سر ہلاتا واپسی کی طرف بھاگا رابرٹ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
"میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ تم نے ان کے ساتھ کیا کیا میں بس یہ پوچھوں گا کہ وہ کون لوگ ہیں جو تمہاری جان کے دشمن بن چکے ہیں"
"وہ کچھ لڑکے تھے انہوں نے مجھے راستے میں گھیر لیا میں ان کو نہیں جانتی کہ وہ کون تھے مگر وہ مجھے مارنے کی نیت سے نہیں کسی اور وجہ سے لے گئے تھے"
پھر اس نے کندھے اچکائے
"آئی ڈونٹ کیئر کہ وہ مر چکے ہیں"
گاڑی ان کے پاس آ کر رکی اس کا ہاتھ پکڑے اس نے اسے گاڑی میں بٹھایا پھر خود بھی گھوم کر دوسری طرف اس کے ساتھ آ بیٹھا
"کوئی اتنا خطرناک کیسے ہو سکتا ہے مجھے یقین نہیں آتا"
اسے رابرٹ کی آواز سنائی دی اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اور وہ بالکل سنجیدہ تھا
"جب آپ کے ساتھ کوئی ایسا شخص کھڑا ہو جس کے ساتھ کھڑے ہو کر آپ کو کسی کا ڈر نہ ہو تو آپ سمجھیں کہ یہ بہادری آپ کو اسی کی وجہ سے ملی ہے۔ جن سے ہم محبت کرتے ہیں نہ۔۔۔ ان کے لیے ہم خطرناک کام کر جاتے ہیں"
وہ ہلکا سا مسکرائی پھر سامنے دیکھنے لگی
رابرٹ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں لے لیا
"تم میری ہو اور تم صرف میری ہی رہو گی تمہیں کوئی اب نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو دیکھنا میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں"
وہ بس خاموش ہو گئی پھر اس نے تھک کر سیٹ کی پشت سے سر ٹکا دیا اور آنکھیں بند کر لیں
اس کا ہاتھ ابھی تک رابرٹ کے ہاتھ میں تھا اسے دیکھتے رابرٹ نے بھی آنکھیں بند کر لیں
☆☆☆
صوفے پر بیٹھے وہ سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو بیڈ پر بکھرے گنز کے ڈھیر کو جوڑ رہا تھا ان سب کے پرزے الگ ہوئے پڑے تھے
"اور کتنے لوگ ہیں جنہیں تم مارنا چاہتے ہو؟"
اس کا گنز کو جوڑتا ہاتھ رکا اس نے مڑ کر سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
"تمہارے دو مجرم رہتے ہیں میرے کتنے دشمن ہیں جنہیں میں مارنا چاہتا ہوں فی الحال میں نے گنے نہیں آج رات ایک مر جائے گا اور دوسرا۔۔۔۔۔"
وہ رکا پھر سر جھٹک کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا
" اور دوسرا۔۔۔۔؟"
وہ اٹھ کر اس کے پیچھے آ کھڑی ہوئی
"دوسرا نہیں دوسری اور آخری"
وہ بنا پلٹے بولا تھا کام سے فارغ ہو کر اس نے ایک قدم ہی اٹھایا تھا کہ اگلے الفاظ نے اس کے قدم زنجیر کر دیے
"کیا تم مجھے اپنی کہانی سناؤ گے داؤد؟"
اس نے پلٹ کر سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا اس کی آنکھوں میں دلچسپی جیسا کوئی تاثر نہیں تھا
" تم سن نہیں پاؤ گی اور نہ ہی میں سنانا چاہتا ہوں اگر میرا دل مانا تو سب کچھ بتا دوں گا ورنہ سمجھنا یہ دل تو کب کا مردہ ہو چکا"
کہہ کر وہ الماری کی طرف بڑھ گیا اندر سے ایک سوٹ کیس نکال کر اب وہ گنز اس میں ترتیب سے رکھ رہا تھا
وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی اور پھر رات کو انہوں نے اپنا چوتھا شکار بھی کر لیا وہ داؤد مرتضیٰ تھا اور وہ اکیس سال بعد بھی زندہ تھا.
جاری ہے
Bloods ep 8 link
https://munazaniaznovelist.blogspot.com/2026/04/bloods-ep-8-by-munaza-niaz.html
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment