Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Gunhegaar EP 1 by Munaza Niaz

 


گنہگار 

از قلم: منزہ نیاز 

قسط نمبر: 1


سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا، لیکن اس دو منزلہ عمارت کا آنگن تلاوت کی روشنی سے جگمگا رہا تھا. وہ سورت یاسین پڑھ رہی تھی ایک ایسی آواز جو دعا نہیں، زخموں کی مرہم لگ رہی تھی۔ پورا گھر خاموشی میں ڈوبا تھا اور پرندے اس پاکیزہ لمحے کی گواہی دے رہے تھے۔ کچھ دیر بعد اس کی تلاوت ختم ہوئی تو اس نے مسکرا کر کلام پاک کو بوسہ دیا اور غلاف میں لپیٹا پھر اسی مسکراہٹ کے ساتھ وہ کرسی سے کھڑی ہوئی اور کلام پاک سامنے ٹیبل پر رکھ کر ان کیاریوں کی طرف بڑھ گئی جو لان میں لگی تھیں۔ وہاں پر ہر رنگ کے پھول کھلے تھے جس میں نمایاں وہ سرخ گلاب تھا جس کی خوشبو چاروں طرف بکھری ہوئی تھی اس نے ایک گلاب کلی سمیت توڑا اور اسے ناک کے قریب لے جا کر سونگھا، ایک دل فریب سی مہک اس کی روح میں اتر گئی۔ 

کاش خوشبو بھی کسی کی توجہ کا بدل بن سکتی۔  

اس نے دل ہی دل میں سوچا، اور پھیکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔ کچھ مہکیں باہر کی ہوا کو بھاتی ہیں، اور کچھ دل میں بند ہو جاتی ہیں... ہمیشہ کے لیے۔ اس کا چہرہ بھی اسی گلاب کی مانند تھا جو خوبصورتی اور کشش میں اپنی مثال آپ تھا یا شاید اس کا چہرہ اس گلاب سے زیادہ خوبصورت اور پرکشش تھا وہ مسکرا کر واپس میز کی طرف پلٹی قرآن پاک اٹھایا اور اندر کی طرف بڑھ گئی کلی ابھی تک اس کے ہاتھ میں ہی تھی اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے کلام پاک بک ریک کی سب سے اوپری سطح پر رکھا اور واپس پلٹ گئی اب اس کا رخ دوسرے کمرے کی جانب تھا دروازہ کھول کر بنا اجازت لیے وہ اندر داخل ہو گئی کھڑکی سے پردے ہٹا کر اس نے دھیرے سے پکارا

" ہادی اب اٹھ بھی جاؤ اور کتنا سو گے!"

 بیڈ پر لیٹا نفوس ٹس سے مس نہ ہوا اس نے کچھ خفگی سے اس کا کمبل کھینچا وہ تیرہ چودہ سال کا لڑکا تھا اس کے کمبل ہٹانے پر وہ من منایا 

" پلیز نور آپی کچھ دیر اور سونے دیں نا "

اور کمبل واپس کھینچ لیا 

" ٹھیک ہے سوتے رہو پھر جب بابا سے ڈانٹ پڑے گی تو مجھے کچھ بھی مت کہنا میں جا رہی ہوں ناشتہ بنانے اور اگلے دس منٹ میں اگر تم تیار ہو کر باہر نہیں نکلے تو میں یونی چلی جاؤں گی اور تم اکیلے اسکول جانا اور ہاں!"

 اس نے پھر سے اس کا کمبل کھینچا

" میں بابا سے یہ بھی کہہ دوں گی کہ آج تم پھر سے سوتے رہے اور نماز نہیں پڑھی"

 اور پھر وہ مسکرا کر باہر بھاگ گئی ہادی منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا اٹھ بیٹھا ڈائننگ ہال میں اس نے وہ گلاب سربراہی کرسی کے سامنے میز پر رکھا اور کچن کی طرف پلٹ گئی پندرہ منٹ بعد وہ کچن سے باہر نکلی تھی اس نے چار لوگوں کا ناشتہ میز پر لگایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جب وہ یونی کے لیے تیار ہو کر واپس آئی تو اس گھر کے باقی تین نفوس اس وقت ناشتہ کرنے میں مصروف تھے وہ سلام کرتے ہوئے ہادی کے ساتھ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی کنکھیوں سے اس نے اس گلاب کو دیکھا جو ان چھوا وہیں کا وہیں پڑا تھا اس کے چہرے کی شادابی اس گلاب کی طرح مانند پڑنے لگی جو توجہ نہ ملنے پر اپنا آپ کھونے لگتا ہے بابا نے محض سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیا جب کہ ماما نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا تھا

" وعلیکم السلام!"

 ہادی ناک سکوڑے آملیٹ کھا رہا تھا

" ہادی تمہارے پیپر کب شروع ہوں گے؟"

 انہوں نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا 

" نیکسٹ منتھ سے بابا"

 ہادی نے جواب دیا 

" تیاری کیسی ہے؟"

 انہوں نے دوبارہ پوچھا

" بابا میں اس کی تیاری کرواتی ہوں انشاءاللہ اچھے گریڈز آئیں گے"

 بابا کے سوال پر جہاں ہادی کا رنگ اڑا وہیں نور بول پڑی 

" میں اپنے بیٹے سے بات کر رہا ہوں"

 انہوں نے سپاٹ انداز میں کہا نور بالکل چپ ہو گئی جب کہ ماما نے ناشتے سے ہاتھ کھینچ کر اپنے شوہر کو دیکھا جو کرسی گھسیٹ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور باہر کی طرف بڑھ گئے 

" نور بیٹا میں کہتی ہوں تم ہادی کو اسکول چھوڑتے وقت اس کی ٹیچر سے بات کرتی جانا "

ان کا اشارہ ہادی کے ٹیسٹ وغیرہ کی طرف تھا جس میں تقریباً وہ فیل ہوتے ہوتے رہ گیا تھا وہ جو سن سی بیٹھی تھی ان کی طرف ایک خاموش نظر ڈالی اور کھڑی ہو گئی 

" چلو ہادی "

کہہ کر وہ بھی باہر کی طرف بڑھ گئی ماما نے افسوس سے اسے جاتے ہوئے دیکھا مگر کچھ کہا نہیں ان کے جانے کے بعد ملازمہ آ گئی تھی جس کے ساتھ مل کر وہ برتن سمیٹنے لگیں یہ روٹین اس وقت سے چلی آ رہی تھی جب نور صرف چار سال کی تھی پرانی یادیں ان کے ذہن میں گڈ مڈ ہونے لگیں لیکن انہوں نے سر جھٹک دیا یادیں صرف اذیت دیتی ہیں راحت نہیں

☆☆☆


پانچ کنال پر پھیلا وہ سفید بنگلہ اپنی شان و شوکت میں باقی تمام عمارتوں کو پیچھے چھوڑے کھڑا تھا۔ اونچی دیواروں پر خاردار تاریں تھیں جیسے حفاظت بھی اب خوبصورتی کا حصہ بن چکی ہو۔ پورچ کے سامنے ایک سیاہ پراڈو جگمگا رہی تھی، جسے ایک ملازم تیزی سے صاف کر رہا تھا۔ دائیں بائیں پھیلا ہوا لان رنگ برنگے پھولوں سے سجا تھا، جنہیں مالی اپنے دن کی عبادت کی طرح سنوارنے میں مصروف تھے۔ اس سفید بنگلے کے اندر ڈائننگ  ہال میں دو نفوس بیٹھے باتیں کر رہے تھے ان کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی 

"بھائی، آپ کو پتہ بھی ہے آپ یونیورسٹی کی لڑکیوں کا قومی خواب بن چکے ہو؟"

سارہ نے چمکتی آنکھوں سے شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

"ہر بار جب آپ مجھے لینے آتے ہیں نا، میری دوستیں مجھ سے بس ایک ہی سوال پوچھتی ہیں, کیا تمہارا بھائی انگیجڈ ہے؟"

 وہ خوبصورت سی سمارٹ لڑکی جس کا نام سارہ تھا مسکراتے ہوئے اپنے خوبرو اور ہینڈسم بھائی کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی اس کے ہاتھ میں مینگو شیک تھا جس کے وہ وقفے وقفے سے گھونٹ بھر رہی تھی اس کے بھائی نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور چائے کا کپ اٹھا لیا ملازم وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی چیز رکھ دیتے 

" اچھا تو پھر تم ان کو کیا جواب دیتی ہو؟"

 عون نے دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا 

عون! جس کا ہر تیکھا نقش اور خاموش اعتماد کسی magazine cover کی کہانی لگتا تھا، بنا کوشش کیے لوگوں کا دل جیت لیتا تھا۔

" یہی کہ میرے ڈھیر سارے بھتیجے اور بھتیجیاں ہیں جن سے مجھے بے حد پیار ہے"

 جہاں سارا نے ہنستے ہوئے کہا وہی عون کو چائے پیتے ہوئے اچھو لگا اس نے کچھ مصنوعی خفگی سے اس کو دیکھا پھر بے اختیار ہنس پڑا

"لگتا ہے اگر تم ہر لڑکی کو یہی سناتی رہو گی، تو وہ میری دوسری بیوی بننے پر بھی راضی ہو جائیں گی۔"  

عون نے شوخی سے کہا، 

"کوئی لڑکی تمہارے بھائی کو نہ کہہ سکتی ہے؟ ناممکن!"

"جو لڑکی آپ کو ریجیکٹ کرے گی، وہ اپنی تقدیر برباد کرے گی۔ اور ویسے بھی۔۔۔ آپ کو ریجیکٹ کرنا کوہِ نور ٹھکرانے جیسا ہے۔"  

سارہ نے سینہ تان کر کہا اور خود ہی قہقہہ لگا دیا۔

" اچھا بھائی مجھے کچھ پیسے چاہیے!"

اس نے گلاس رکھتے ہوئے کہا عون نے سامنے میز پر رکھا والٹ اٹھایا اسے کھولا اور اس میں سے ایک پرچی نکالی کوٹ کی جیب سے پین نکال کر اس پر کچھ ہندسے اور اپنا نام لکھا پھر اس کی طرف بڑھا دیا 

" بھائی مجھے چیک نہیں پیسے چاہیے!"

 اس نے چیک کی طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھایا تھا عون نے بنا کچھ کہے اپنا والٹ خالی کر دیا اور سارے پیسے اس چیک کے اوپر رکھ دیے سارہ کی آنکھوں میں چمک ابھری، خوشی سے نہال ہوتے وہ کرسی سے اٹھی 

"آئی لو یو بھائی۔۔۔ آپ میرے ہیرو ہو، ہمیشہ سے۔"  

سارہ نے اس کی گردن کے گرد بازو ڈالے اور نرمی سے سر کندھے پر ٹکا دیا۔ عون مسکرا دیا، وہ جانتا تھا کچھ رشتے لفظوں سے زیادہ لمس میں بولتے ہیں۔ سارہ نے جلدی سے سارے پیسے اور چیک اپنے خوبصورت سے کلچ میں ڈالے، یونی بیگ اٹھایا اور پھر عون کی طرف دیکھا

" آج آپ نے مجھے لینے آنا ہے کیونکہ میں نے آج لڑکیوں کو مزید جلانا ہے"

 وہ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئی جب کہ عون اس کی بات سن کر محض مسکرا دیا تھا چائے ختم کرنے کے بعد وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا کلائی میں بندھی گھڑی دیکھنے کے بعد اس نے اپنا والٹ اور موبائل اٹھایا اور باہر کی طرف بڑھ گیا 

اس کا آفس اس کے انتظار میں تھا

☆☆☆


یونیورسٹی کے باہر، وہ بے مقصد سڑک کے کنارے چل رہی تھی قدم آہستہ تھے جیسے وہ صرف جسم کے بوجھ کو گھسیٹ رہی ہو بیگ کندھے پر تھا، ہاتھ میں فائل اور موبائل  لیکن دل میں صرف ایک جملہ گونج رہا تھا

" میں اپنے بیٹے سے بات کر رہا ہوں"

یہ الفاظ کسی چاقو کی طرح اس کے دل پر بار بار وار کر رہے تھے۔ کیا واقعی وہ صرف اپنی ماما کے شوہر کی بیٹی تھی؟ کیا خون کا نہ ہونا رشتہ چھین لیتا ہے؟ کیا صرف ہادی ان کا بیٹا تھا وہ ان کی بیٹی نہیں تھی؟ تو پھر وہ کون تھی؟ ہاں، وہ ان کی بیوی کے پہلے شوہر کی بیٹی تھی

جس دن اس کے اصل بابا دنیا سے گئے، اسی دن اس کی پہچان بھی اس دنیا سے چلی گئی ماں نے اسے گود میں لیا اور کہا

 "یہ رشتہ تمہارا سب کچھ واپس لے آئے گا"  

مگر وقت نے ثابت کیا کچھ رشتے صرف کاغذوں پر ہی مکمل ہوتے ہیں۔ بچپن سے وہ یہی سنتی آئی تھی کہ وہ اپنے بابا کے لیے ایک بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور وہ جو اسے پال رہے ہیں یہ بہت بڑا احسان ہے اس کی ماما اسے سمجھاتی تھیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا بابا اس سے محبت کرنے لگیں گے اس لیے تم ہمیشہ ان کی فرمانبرداری کرنا ان کا ہر کہا ماننا اس نے یہ بات اپنی گراہ سے باندھ لی تھی وہ ان کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرتی تھی روز ان کے لیے وہ اس چھوٹے سے لان میں لگے پھولوں میں سرخ گلاب توڑ کر لاتی سراج الحسین اس پھول کو دیکھنے کے علاوہ اسے ہاتھ تک نہیں لگاتے تھے مگر وہ دل چھوٹا نہیں کرتی تھی اس کو یقین تھا کہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا بابا کسی نہ کسی دن اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر " میری بیٹی"  ضرور کہیں گے اور وہ آج تک اسی یقین کے ساتھ جیتی آرہی تھی لیکن صبح جو کچھ ہوا اس کے یقین کے چیتھڑے اڑ گئے تھے دل تھا کہ بار بار ٹوٹ کر بکھر رہا تھا اور آنکھیں؟ آنکھیں جو خشک ہو چکی تھیں یک دم ہی نم ہو گئیں کیا تھا کہ بابا بس اسے ایک بار کہہ دیتے کہ وہ بھی اب ان کی بیٹی ہے چاہے سگی نہ سہی مگر ہے تو سہی! وہ بے دھیانی میں سڑک پار کرنے لگی ہر قدم جیسے کسی خواب کے جنازے پر پڑ رہا تھا سڑک کے بیچ پہنچ کر وہ لمحے بھر کو رکی اپنی سیاہ آنکھوں سے دھند کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن قسمت کی دھند کے آگے نظر کمزور تھی ایک تیز رفتار گاڑی اس کی طرف بڑھ رہی تھی مگر نور کی آنکھوں میں اب بھی وہی سوال تھا

"بابا۔۔۔ کیا میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں؟"

اور پھر ایک زوردار آواز، ایک ٹکر، اور نور سڑک کے کنارے جا گری کبھی کبھی انسان حقیقت سے نہیں، امید سے ٹکراتا ہے اور یہ ٹکر موت سے بھی زیادہ دردناک ہوتی ہے

☆☆☆


وہ غرور کی چادر اوڑھے آہستہ قدموں سے بلڈنگ میں داخل ہوا سلام کرنے والوں کی آوازیں اس کے گرد گونج رہی تھیں مگر اس نے پلٹ کر ایک نظر بھی نہ ڈالی وہ بنا کسی کی طرف دیکھے لفٹ کی طرف بڑھا 

"آج کوئی میٹنگ ہے تو ختم کر دو!"  

اس نے سن گلاسز اتارے، نگاہ سیدھی سیکرٹری کی آنکھوں میں گاڑ دی 

لہجہ حکم نہیں، فیصلہ سنانے والا تھا اس کی سیکرٹری جو اس کی پیچھے چلتے ہوئے کچھ بتانے لگی تھی کہ یکدم ہی رک گئی

" لیکن سر آج کی میٹنگ میں ڈیل فائنل ہونی ہے "

عون لفٹ کے سامنے جا کر رک گیا اس کی سیکرٹری نے لفٹ کی چند بٹن دبائے اور انتظار کرنے لگی

" کیا تم نے وہ نہیں سنا جو میں نے تمہیں کہا؟"

وہ شیشے میں اس کی عکس کو دیکھ رہا تھا 

" یس۔۔۔ یس سر"

 اس کی سیکرٹری نے سمجھ کر سر ہلاتے ہوئے کہا اور واپس پلٹتے ہوئے موبائل نکال کر کوئی نمبر ملانے لگی

" میٹنگ کل دوپہر دو بجے ہوگی"

 کان سے موبائل لگاتے ہوئے اس نے کہا  جبکہ عون نے سر جھٹک کر لفٹ میں قدم رکھ دیے آفس روم میں پہنچ کر اس نے اپنا کوٹ اتار کر ریوالونگ چیئر پر لٹکا دیا سامنے رکھی فائل اٹھا کر اب وہ اس کی ورک گردانی کر رہا تھا ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔

" come in!"

 اس نے بنا دیکھے کہا، دروازہ کھول کر وہ سفید ہیل پر چلتی ہوئی اس کے سامنے آ کر ٹھہر گئی عون نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر بیٹھنے کا اشارہ کیا سامنے کھڑی لڑکی نے اپنا پرس تقریباً میز پر پھینکنے والے انداز میں رکھا اور کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھ گئی 

"مجھے اجازت نہیں چاہیے عون! تم نے کل رات ڈنر کا وعدہ کیا تھا، اور میں تمہاری ایک کال کے لیے ترستی رہی! تم نے ایسا کیوں کیا؟ "

 جب اتنی دیر ہونے کے بعد بھی عون  نے دوسری نظر اس پر نہ ڈالی تو وہ غصہ دباتے ہوئے دانت پیس کر بولی

" میں جواب دینے کا پابند نہیں ہوں!"

عون نے اس کے انداز پر چبھتی ہوئی نظروں سے اس کو دیکھا 

" واؤ!"

 اس نے تالی بجائی پھر ہنسی

" یہ جو اتنے دنوں سے میرے ساتھ ساتھ تھے وہ کیا تھا؟ کیا مجھے ٹائم پاس کے لیے رکھا ہوا تھا "

وہ طنزیہ بولی

" تم جیسی لڑکیاں خواہش ہوتی ہیں، رشتہ نہیں، میں نے تمہیں استعمال کیا، ہاں لیکن تم نے خود کو اوویلیبل کیا قصور میرا نہیں، تمہاری بھولی امیدوں کا ہے! تمہیں لگا میں تم سے شادی کروں گا؟ تمہاری آنکھوں میں محبت دیکھ کر ہنسی آتی ہے مجھے تم نے خود بلایا تھا اور میں آیا۔ اور اب... تم صرف ایک 'نامکمل پیج' ہو میری زندگی کی فائل میں۔"

اس کے چہرے پر آخر میں شیطانی  مسکراہٹ بکھری مایا نے بے یقینی سے اس کو دیکھا کیسے منہ پہ اس نے اس کو دو کوڑی کا کر دیا تھا 

" تم تم مذاق کر رہے ہو نا؟"

 وہ بے یقین سی اس کی طرف دیکھ رہی تھی 

" مس مایا میں مذاق ہرگز نہیں کر رہا تم نے خود مجھے اپنے فلیٹ میں بلایا تھا بھلا تمہارے جیسی خوبصورت لڑکی کو کون کافر نہ کرے گا "

میز پر دونوں ہاتھ ٹکائے کھڑا وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا پھر مسکراتے ہوئے وہ جھک کر دھمیی سرگوشی میں بولا 

" سوری مایا جو کچھ بھی تمہارے ساتھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور میں بالکل بھی شرمندہ نہیں ہوں کیونکہ تم نے مجھے بلایا تھا نہ کہ میں نے تمہیں"

ایک مدھر قہقہہ لگاتے ہوئے وہ گھوم کر اس کی طرف آیا

" مجھے کیا پتہ تھا کہ تم سیریس ہو جاؤ گے، کیا واقعی تم یہ سمجھی تھیں کہ اس سب کے بعد بھی میں تم سے شادی کروں گا او مایا تم بھی کتنی بڑی بے وقوف ہو پتہ نہیں کون کون سے خواب دیکھ لیے تم نے"

 وہ اس کی کرسی کے پیچھے دونوں ہاتھ ٹکائے ہنستے ہوئے بولا پھر اس کے کندھے پر بکھرے بالوں کو ہٹا کر اس کے کان کے قریب جھکتے ہوئے سرگوشی کی 

" ناو گیٹ آؤٹ رقم تمہارے اکاؤنٹ میں آ جائے گی"

 وہ اسے ایک "مال" سمجھ کر ٹریٹ کر رہا تھا۔ مایا نے صدمے سے اٹھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا عون کے چہرے پر ایک دل فریب سی مسکراہٹ تھی 

" پچھتاو گے عون! بہت پچھتاو گے"

اس نے ایک قہر آلود نظر اس پر ڈالی ہاتھ سے اسے پرے دھکیلتے ہوئے اس نے اپنا پرس اٹھایا اور دروازے کی جانب بڑھ گئی عون نے سر جھٹکا اور واپس آکر بیٹھ گیا کچھ دیر بعد اس کے موبائیل پر میسج ٹون بجی وہاں سارہ کا میسج جگمگا رہا تھا اس کے پرفیوم کی دل فریب مہک پورے روم میں بکھری ہوئی تھی 

" مجھے لگتا ہے بھائی کہ آج آپ کا کسی بھی لڑکی کا دل توڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے "

میسج پڑھتے ہوئے اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی 

دل توڑنا تو اس کا دل پسند مشغلہ تھا

 دل ہی دل میں کچھ سوچتے ہوئے اس نے رپلائی کیا 

" بس آ رہا ہوں!"

عون عالمگیر... وہ نام تھا جو محبت کو کھیل اور عزت کو قیمت سمجھتا تھا لیکن کچھ کھیل انسان خود ہارنے کے لیے کھیلتا ہے، یہ بات اسے ابھی نہیں معلوم تھی

☆☆☆


سیاہ سن گلاسز کے پیچھے چھپی آنکھیں، سوچوں کی گرفت میں تھیں۔ ڈرائیونگ اس کے ہاتھ میں تھی، مگر دماغ کہیں اور۔ سارہ کی یونی صرف چند لمحے کی دوری پر تھی لیکن اس کی یادیں برسوں پرانی تھیں

سارہ اس کی دنیا تھی وہ واحد رشتہ جس نے اسے سنبھالا بھی، اور باندھ کر بھی رکھا ماں کے بعد، بہن کے آنسو ہی اس کا کمزور پہلو بنے تبھی شاید دنیا کے باقی ہر رشتے سے وہ بے نیاز ہو گیا تھا۔ اس کی ممی اس کے بچپن میں ہی انتقال کر گئی تھیں اس وقت وہ گیارہ سال کا تھا جبکہ سارہ صرف تین سال کی تھی وہ اپنی بہن سے بے حد محبت کرتا تھا سارہ باپ سے زیادہ بھائی کی مانتی تھی اس لیے جب عالمگیر کو کچھ منوانا ہوتا تو وہ عون کو آگے کر دیتے تھے جب اس کی پڑھائی مکمل ہوئی تب عالمگیر ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے ان کا اپنا ایک بزنس تھا عون نے ان کے انتقال کے اگلے ہی دن آفس جانا شروع کر دیا  عالمگیر ایک نرم مزاج شخصیت کے مالک تھے مینجر سے لے کر صفائی کرنے والے تک کی ہر بات وہ خود سنتے تھے جبکہ عون ان کے برعکس تھا وہ تو کسی کو دیکھنا تک گوارا نہ کرتا تھا اس کو پتہ تھا کہ کس کو کیسے ٹریٹ کرنا ہے اسی لیے سب کو کھینچ کر رکھتا تھا ۔ تبھی بے اختیار اس کی نگاہ ایک عبایا اور نقاب میں لپٹی لڑکی پر پڑی اس کے لیے سڑک پر جیسے وقت تھم گیا تھا

"یہ ہٹی کیوں نہیں؟" 

اس نے دانت پیسے رفتار تیز رہی اس نے ہارن دیا، مگر وہ ہلی تک نہیں تھی 

اور پھر

ایک زور دار جھٹکا اور وہ لڑکی سڑک کے کنارے جا گری

" ایڈیٹ!" 

 غصے سے کہتے ہوئے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا اور اس کے پاس جا کر دیکھا اس کا موبائل اور فائل ایک طرف گرے پڑے تھے جبکہ اس کا بیگ اس کے ساتھ ہی پڑا تھا

"اندھی ہو یا بہری؟ یا دونوں؟"  

وہ جھکا، اور زہر گھولتا ہوا بولا

"زندگی سے اتنی نفرت ہے تو کسی پل سے چھلانگ لگا لو سڑک تمہارا تخت نہیں!"

 وہ پنجوں کے بال بیٹھا غصے سے اسے گھور رہا تھا نور نے سیاہ ڈبڈبائی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اس کی سیاہ آنکھوں میں حیرانی، دکھ اور شرمندگی ایک ساتھ اتر آئے 

وہ بول بھی نہیں سکی، بس نم آنکھوں سے اسے تکتی رہی چوٹ کا درد کم تھا اس کی توہین کا زیادہ اس نے اٹھنے کی کوشش کی ہاتھ پر زور پڑنے سے اس کی کراہ نکل گئی وہ ایک جھٹکے سے واپس بیٹھی عون نے نفرت سے اس کو دیکھا

" اگر اتنا ہی مرنے کا شوق ہے تو پھر زہر کھا لو"

 وہ دانت پستے ہوئے بولا نور کی آنکھیں چھلک پڑی آنسو اس کے گالوں پر پھسل گئے اس نے دوسرے ہاتھ سے آنکھیں رگڑیں اس کا نقاب جو اس سارے میں ڈھیلا ہو گیا تھا ایک دم کھل گیا اس کا ایک بازو بالکل سن ہو گیا تھا دوسرے ہاتھ سے اس نے نقاب کرنے کی کوشش کی تو رک گئی کیونکہ عون نے اس کی کلائی پکڑ لی تھی نور  نے سرخ ششدر نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا پھر ایک جھٹکے سے اپنی کلائی چھڑوا لی عون جو گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا اس کے ہاتھ جھٹکنے پر ماتھے پر بل لے آیا نور کے ماتھے پر سے ہوتی ہوئی گال سے ٹھوڑی تک ایک سرخ لکیر بن گئی تھی ماتھے پر شاید چوٹ لگی تھی مسلسل اٹھنے کی کوشش میں اس کا سفید چہرہ سرخ ہونے لگا تھا 

" میں تم سے بات کر رہا ہوں او ہیلو سن رہی ہو یا بہری ہو گئی ہو؟"

عون نے پھر سے کہا اس کی مسلسل خاموشی سے اسے کوفت ہونے لگی تھی یک دم ہی اس نے نور کو بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے کھڑا کیا اور اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا وہ جو مسلسل درد کی شدت سے رو رہی تھی اس کی اس حرکت پر دنگ رہ گئی تیزی سے بازو چھڑوا کر اس نے غصے سے اس کو دیکھا پھر لنگڑاتے ہوئے واپس پلٹ گئی اور اپنی چیزیں سمیٹنے لگی جب وہ اٹھا چکی تو سائیڈ پر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی اس نے پھر سے نقاب کر لیا تھا عون اب بھی اسے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا وہ لڑکی اپنے تیزی سے بہتے آنسو بار بار صاف کر رہی تھی اسے چوٹ زیادہ تو نہیں لگی تھی مگر پھر بھی وہ بہت بری طرح رو رہی تھی اس کا دوسرا بازو شاید کام نہیں کر رہا تھا وہ دوبارہ اس کے سامنے جا کھڑا ہوا نور کی ہتھیلی کی پشت سے خون رس رہا تھا اس نے چہرہ اٹھا کر سرخ نم آنکھوں سے اس کو دیکھا 

" میں ٹھیک ہوں آپ چلے جائیں"

 وہ سمجھی تھی کہ شاید وہ شرمندہ ہے اور معافی مانگنے آیا ہے حالانکہ وہ ہرگز شرمندہ نہ تھا 

"You're so beautiful…"  

وہ جھکا، اس کے کان میں سرگوشی کی جیسے زخم پر نمک چھڑکا ہو نور کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا نہ شرم سے، نہ خوشی سے صرف ذلت سے۔ وہ واپس گاڑی کی طرف بڑھ گیا نور کا چہرہ مارے شرمندگی کے تمتما اٹھا اس کے جسم میں ایک غصے کی لہر دوڑ گئی بجائے معذرت کرنے کی کس بے شرمی سے اس نے کیا کہہ دیا تھا گاڑی میں بیٹھتے ہوئے عون نے پھر سے اس لڑکی کو دیکھا جو غصے سے اسے دیکھ رہی تھی مگر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی

عون عالمگیر، تم نے آج صرف ایک لڑکی کو ٹکر نہیں ماری بلکہ تم نے اپنے مقدر سے وہ دشمنی مول لی ہے

جو تمہیں جیت کر بھی ہارنے پر مجبور کر دے گی


☆☆☆


ڈائننگ ہال میں نور کے علاوہ ہادی اور ماما بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ سراج الحسین کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے کچھ ٹھٹکے تھے آج پہلی بار میز پر سرخ گلاب کی غیرموجودگی نے سراج الحسین کو پل بھر کے لیے روک دیا سترہ برسوں سے روز کا معمول آج ٹوٹا تھا مگر چہرے پر کوئی تاثر نہ لائے وہ خاموشی سے بیٹھ گئے 

چائے کا کپ اٹھایا، مگر ذائقہ کڑوا محسوس ہوا

" آج نور یونی نہیں جائے گی اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے"

 ماما نے خود ہی انہیں بتا دیا انہوں نے اس کے ایکسیڈنٹ کے بارے میں نہیں بتایا تھا ہادی روٹین کے خلاف پراٹھا آدھا چھوڑ چکا تھا آپی کی آواز، ان کا جگانا، وہ چھوٹی چھوٹی ڈانٹیں آج سب غیر موجود تھیں خاموشی نے سب کو الگ الگ کر دیا تھا۔ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا جیسے  انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ آئے یا نہ آئے ادھر کمرے میں نور آنکھوں پر اپنے دودھیا بازو رکھے لیٹی ہوئی تھی نماز پڑھ کر وہ واپس دوبارہ سو گئی تھی

" اگر اتنا ہی مرنے کا شوق ہے تو زہر کھا لو"

 اس کے ذہن میں وہ آواز دوبارہ گونجی اس نے بیزاری سے کروٹ بدل لی اس کے سیاہ ریشمی لمبے بال تکیے پر بکھرے ہوئے تھے کاش وہ حادثہ آخری لمحہ ہوتا، کاش تکلیف ختم ہو جاتی، پھر یک دم زبان سے نکلا

 "استغفراللہ!"  

آنکھوں میں نمی اتری، اور وہ تڑپ کر اٹھ بیٹھی یہاں تو خود کشی بھی حرام تھی وہ کیسے خود کو مار ڈالتی بستر سے اٹھ کر وہ لنگڑاتے ہوئے باتھ روم میں چلی گئی جب وہ واپس آئی تو اس کی آستینیں اور چہرہ گیلا تھا بک ریک کی طرف بڑھ کر اس نے قرآن پاک اٹھایا اور بیڈ پر بیٹھ گئی اب وہ تلاوت کر رہی تھی اس کا دل جو بوجھل تھا ہر آیت کے ساتھ دل کی دراڑیں بھرنے لگیں جن لفظوں نے برسوں اسے سنبھالا تھا، آج پھر سے اسے زمین سے اٹھا رہے تھے۔ اس کی آواز، جیسے کمرے کے ہر کونے میں دعا کی روشنی بکھیر رہی تھی سر پر دوپٹہ اس نے حجاب کی صورت لپیٹا ہوا تھا اس کی خوبصورت آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی آہستہ آہستہ ماحول کا بوجھل پن بھی ختم ہونے لگا تلاوت کرنے کے بعد اس نے کھڑکی کے پردے ہٹائے روشنی اندر آئی، جیسے رحمت برسنے لگی ہو باہر بابا تھے مگر نظر اس پر ایک لمحے کو بھی نہ رکی ہادی خوشی سے ان کے پیچھے بیٹھ گیا، اور بائیک دور نکل گئی۔  نور نے لب بھینچ کر آنکھیں بند کیں اور خود کو پھر سے تنہا پایا۔ نور کو اب یقین ہو چلا تھا محبت نہ ملے، تو صبر عبادت بن جاتا ہے اور وہ صبر سیکھ چکی تھی گہری سانس لے کر وہ واپس پلٹ گئ

☆☆☆


وہ ریوالونگ چیئر پر نیم وا آنکھوں کے ساتھ بیٹھا، انگلیوں سے ٹیبل پر ہلکی تھپتھپاہٹ دے رہا تھا کچھ پل بعد جیسے فیصلہ کر چکا ہو، اس نے فون کا ریسیور اٹھایا 

"شہریار کو فوراً میرے آفس میں بھیجو!"

کچھ لمحوں بعد وہ اس کے سامنے کھڑا تھا 

" مجھے ایک لڑکی کا بائیو ڈیٹا چاہیے!"

 اس نے اس لڑکی کا نام اور یونیورسٹی بٹائی عون کی آواز میں تحکمانہ سردی تھی 

"مجھے اس کے بارے میں سب کچھ چاہیے  رہائش، خاندان، بیک گراؤنڈ، سب کچھ۔"

 وہ کرسی پر سیدھا ہوتے ہوئے بولا شہریار نے اوکے سر کہا اور واپس چلا گیا اس نے اس لڑکی کا نام اس کی فائل پر دیکھ لیا تھا اور اسے پورا یقین تھا کہ وہ سارہ کی یونیورسٹی میں ہی پڑھتی ہوگی ایک گھنٹے کے بعد شہریار نے ایک فائل اس کی ٹیبل پر رکھی تھی عون نے مسکرا کر اسے داد دی وہ یہی امید کر رہا تھا

" تم واقعی کام کے بندے ہو اور مجھے پورا یقین ہے کہ تم بہت تیزی سے آگے بڑھو گے"

 ساتھ ہی اس نے فائل اٹھا کر دیکھنی شروع کر دی شہریار ایک دم خوش ہوا اور تھینک یو سر تھینک یو سو مچ کہتے ہوئے باہر چلا گیا 

" نام نور الہدی، یونی میں ایم اے کے طالبہ ماں باپ اور ایک عدد بھائی باپ کا نام؟" 

"سراج الحسین؟"  

عون کے لبوں سے جیسے کسی نے ہوا کھینچ لی اس کی آنکھیں فائل پر جمی رہیں، پھر اس نے جھٹ سے فون ریسیور اٹھایا 

"مومل۔۔۔ فوراً سراج الحسین کو میرے آفس میں بھیجو!" 

اگلے دو منٹ میں سراج الحسین اس کے سامنے کھڑے تھے۔ وہ ایک نچلے درجے کا ایک عام ایمپلائی تھا سراج کے قدم بوجھل ہو گئے تھے باس کی طرف سے بلاوا، وہ بھی آفس میں؟  

جسے اپنے سائے سے بھی پرہیز تھا، وہ آج کیوں اسے بلوا رہا تھا؟

" بیٹھو سراج! کھڑے کیوں ہو"

عون نے اسے دیکھتے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ کچھ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئے

" تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں یہاں کیوں بلوایا ہے؟"

 وہ کھڑا ہوا 

" نہیں سر!"

وہ اٹھنے لگے تھے کہ عون نے انہیں اشارے سے بیٹھے رہنے کا کہا

" مجھے تم سے کچھ چاہیے تھا بدلے میں تم جو کچھ بھی مانگو گے وہ دوں گا اور ہاں مجھے انکار مت کرنا کیونکہ مجھے انکار سے سخت نفرت ہے"

 وہ قدم قدم چلتا ہوا کھڑکی کے سامنے جا کھڑا ہوا سراج الحسین اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تھے اس لیے کچھ بھی نہ سمجھے

" پلیز سر آپ حکم کریں"

 اس کی پشت کو تکتے ہوئے وہ بولے 

"میں تمہاری بیٹی نور سے نکاح کرنا چاہتا ہوں..."  

عون کی آواز میں فیصلہ تھا، سوال نہیں 

"اور بدلے میں۔۔۔ چار کروڑ روپے!"  

وہ ہنوز کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، جیسے سراج کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو سراج الحسین کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔ اس کی بیٹی؟ اگر اس کی کوئی بیٹی ہوتی اور کوئی شخص چاہے وہ اس کا باس ہی کیوں نہ ہو، ایسی کوئی بات کرتا تو وہ اس کا منہ نوچ لیتا مگر ایک منٹ نور تو ان کی بیٹی ہی نہیں تھی اور پھر عون نے نور کو کہا دیکھ لیا تھا اور وہ اسے کیسے جانتا تھا؟ 

سراج غائب دماغی سے عون کو دیکھ رہے تھے

" سر آپ کیا کہہ رہے ہیں میری بیٹی؟  آپ؟ میرا مطلب آپ کیسے اسے جانتے ہیں اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا آپ کہاں اور ہم کہاں"

 ان کی بولتی اس وقت بند ہوئی جب عون اس کے سامنے جا کھڑا ہو 

" اچھا چلو چھ کروڑ لے لو، چلو تم خود سوچو تمہاری تنخواہ کتنی ہے؟ پچیس ہزار یقیناً کتنی بچت ہوتی ہوگی تمہاری پانچ سے چھ ہزار سوچو ذرا ان پیسوں سے جو میں تمہیں اب دوں گا تم اس کے ساتھ کیا کچھ نہیں کر سکتے تم اپنا ایک بزنس چلا سکتے ہو تم ہر وہ چیز خرید سکتے ہو جسے تم کبھی حسرت سے دیکھتے آئے ہو اور وہ جو تمہارے بجٹ سے بہت باہر تھی ان پیسوں سے تمہارا جو جی چاہے کرنا اور ویسے بھی تم نے اپنی بیٹی کی شادی کہیں تو کرنی ہے تو پھر وہ شخص میں کیوں نہیں ہو سکتا ؟"

وہ انہیں لالچ دے رہا تھا اور اسے پتہ تھا کہ اتنی بڑی رقم کے لیے وہ کبھی نہ نہیں کہے گا 


"سوچ لو سراج۔۔۔ اگر تم نے ہاں نہ کی، تو میں نور کو اٹھوا لوں گا۔۔۔ راتوں رات پھر کچھ دن اپنے پاس رکھوں گا، اور واپس کر دوں گا بوسیدہ عزت کے ساتھ!"  

عون کے لبوں پر شیطانی سکون تھا، اور سراج کا رنگ سفید ہو چکا تھا۔

" اور تمہیں پتہ ہے کہ مجھے تم سے کتنی ہمدردی ہے" 

 وہ چہرے پر معصومیت طاری کرتے ہوئے دکھ بھرے انداز میں بولا جیسے اسے سراج کے ساتھ ہونے والے واقعے کا افسوس ابھی سے ہو رہا ہے سراج گنگ شکل لیے بیٹھے تھے

" جاؤ سراج اچھی طرح سوچ لو چھ کروڑ یاد رکھنا"

واپس کرسی پر بیٹھ کر اس نے یاد دہانی کروائی سراج بنا کچھ کہے اٹھ کھڑے ہوئے صرف دو الفاظ تھے جو ان کے ذہن میں گونج رہے تھے 

" چھ کروڑ، چھ کروڑ"

عون نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا پھر اپنے گھنے بالوں میں انگلیاں چلا دیں 

" نور الہدی!"

وہ زیر لب مسکرایا اس نے جیسے یہ نام چکھا تھا۔ تلخ، مگر نشہ آور 

لبوں پر وہی پرسرار سی مسکراہٹ تھی 

"اب کھیل شروع ہو گا۔"


جاری ہے

Comments

  1. Beautiful start ❤️ i hope k ending happy ho plz jibal 🫣🫩😍🥰❣️💕🙏🏻

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts