Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Gunhegaar EP 10 and Last Episode by Munaza Niaz
ناول: گنہگار
از منزہ نیاز
قسط نمبر دس - آخری قسط
اسے دیکھتے ہی وہ ایک جھٹکے سے مڑی پتا نہیں کیوں مگر اس کا دل کیا وہ وہاں سے سر پر پیر رکھ کر بھاگے
" اب اگر تم چلی گئی تو میں اگلا سانس نہیں لے سکوں گا "
نور کے قدم زنجیر ہوئے وہ آہستہ سے چلتا ہوا اس کے پیچھے آکھڑا ہوا
" تم واپس کیوں نہیں آئی نور؟"
وہ نم لہجے میں پوچھ رہا تھا
" کیونکہ میں خود نہیں گئی تھی تم نے مجھے نکالا تھا"
ایک جھٹکے سے پلٹ کر وہ نم لہجے میں بولی وہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا
" تم نے ابھی تک مجھے معاف نہیں کیا نا ؟"
اس کی آنکھوں میں بھی نمی تھی
" تم نے معافی مانگی کب تھی تم نے تو سچ جانے بغیر مجھ پر الزام لگایا اور گھر سے نکال دیا تم نے تو اتنا بھی نہیں سوچا کہ میں اکیلی کیسے اور کہاں جاؤں گی ؟"
وہ رو پڑی تھی
" سارہ بے ہوشی میں بول رہی تھی کہ تم نے اسے کہا۔۔۔ کیا کہا؟ یہ جانے بغیر میں نے وہ سب تمہارے ساتھ کر دیا اور پھر بعد میں مجھے اس نے کہا کہ تم اسے روک رہی تھیں آدھی ادھوری باتیں ایسے ہی ہمارا نقصان کر دیا کرتی ہیں اور دیکھو تمہارے جانے کے بعد کیسے میں مٹی کا ڈھیر ہو گیا تھا "
اس کے آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
" اور وہ رخ۔۔۔۔ کیا وہ تمہاری بیٹی ہے؟؟ کیا تم نے میرے جانے کے بعد دوسری۔۔۔؟؟"
نور نے بولتے بولتے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی
" وہ سارہ کی بیٹی ہے۔۔ سارہ نے نکاح کیا تھا مگر پھر اسے طلاق ہو گئی تھی تمہارے جانے کے بعد مجھے کسی اور کا خیال تک نہیں آیا اگر تم میرے خیالوں میں بھی نہ ہوتی تو یہ شخص کب کا ختم ہو چکا ہوتا"
اس نے نرمی سے نور کے دونوں ہاتھ تھامے آنسو آنکھوں سے نکل کر ساحل کی ریت پر گرے
نور نے اسے پہلی مرتبہ روتے ہوئے دیکھا تھا وہ بھی اپنے لیے
" مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے میں اب تمہارے پاس واپس نہیں آنا چاہتی میں اکیلی ٹھیک ہوں"
وہ لفظ خوش بول نہیں سکی عون اس کے ہاتھ تھامے گھٹنوں کے بل ساحل پر بیٹھ گیا
" میرا کیا ہوگا نور کچھ تو رحم کرو جس دن سے تمہیں دیکھا ہے میں خود کو بھول گیا ہوں اگر تم واپس چلی گئی تو میرا دل دھڑکنا چھوڑ دے گا اور دیکھو تم نے مجھے بد دعا دی تھی نا کہ میں لمبی زندگی جیوں پل پل مروں دیکھو نور میں پچھلے چوبیس سالوں میں پل پل مرتا آیا ہوں مگر کبھی مکمل نہیں مر سکا تم یا تو واپس آ جاؤ یا پھر مجھے ہمیشہ کے لیے مر جانے کے بد دعا دے دو اور اس سزا کو ختم کر دو یہ سزا میرے جرم سے بہت بڑی ہو گئی ہے"
وہ اس کے ہاتھ اب اپنی آنکھوں پر رکھے روئے جا رہا تھا
اس کے سامنے آنے کی خوشی تھی یا پھر سے اس کے دور جانے کا غم؟ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کچھ لمحے بعد وہ دھیرے سے کھڑا ہوا اور نور کے ہاتھ چھوڑ دیے نور خاموشی سے اسے دیکھے گئی
سامنے کھڑے شخص کو وہ نہیں جانتی تھی یا پھر جانتے ہوئے بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی اس نے چاہا تھا کہ ایک ایسا ہم سفر اسے ملے جو اسے پانے کے لیے روئے اسے کھونے سے ڈرے اور یہ خواہش اس کی پوری ہوئی بھی تو کب؟
" تمہیں معلوم ہے تمہارے جانے کے بعد میری دنیا تاریک ہو گئی تھی ایک تم ہی تو تھی جو میری زندگی کا نور تھی اور میں نے تمہیں اپنے ہاتھوں سے بجھا دیا اگر میں چاہتا تو تمہیں بھلا کر دوسری شادی کر لیتا مگر میں تمہیں بھلا ہی تو نہیں پایا اگر اس وقت میں تمہیں آزاد کر دیتا جب تم نے پیپرز بھجوائے تھے تو تم اتنے سالوں تک اکیلی نہ رہتی میں تو یہ سمجھا تھا کہ تم واپس لوٹ آؤ گی مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ جب تم واپس آؤ گی تو وقت ریت کی طرف پھسل چکا ہوگا میں نے سارے گناہ "جانے" میں کیے تھے مگر یہ گناہ مجھ سے "انجانے" میں ہوا تھا اگر تم مجھ سے دوبارہ رابطہ کرتی تو میں تمہیں آزاد کر دیتا تمہارا حق تھا کہ تم اپنی مرضی کی زندگی جیو اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ان گزرے ماہ و سال کو مٹھی میں دبا لیتا، کبھی گزرنے نہ دیتا "
نور کے آنسو بہنے لگے
" میں۔۔۔ میں یہ شہر چھوڑ کر چلی گئی تھی کبھی واپس نہ آنے کے لیے مگر مجھے ہمارا بیٹا واپس لے آیا میں نے یہ چوبیس سال کیسے گزارے ہیں میں نہیں بتا سکتی مگر میں نے یہ بیکار نہیں گزارے میں نے ہر پل تمہارے لیے دعا کی تھی کہ تم پلٹ آو اس دلدل سے نکل آؤ اور دیکھو اللہ نے میری دعا قبول کر لی اس لیے مجھے ان بیتے ماہ و سال کے گزر جانے کا کوئی غم نہیں ہے میں نے اللہ سے تمہارا ساتھ مانگا ہے یہاں پر بھی اور جنت میں بھی میں چاہتی ہوں کہ جب میں جنت میں جاؤں تو تمہارے ساتھ جاؤں کیونکہ میں نے بہت لمبا سفر کیا ہے دھیرے دھیرے مجھے احساس ہوا کہ میں تو تم سے محبت کرنے لگی ہوں یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم میرے ساتھ کیا کر چکے تھے "
اس کے آنسو اس کے پیروں پر گر رہے تھے
" اب اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی کیا ہمارے لیے اللہ نے جنت واجب نہیں کی ہوگی اگر نہیں کی تو میں اللہ سے شکوہ کروں گی اور اس دن۔۔۔۔۔ جب مجھے یہاں تمہارا ساتھ نہیں مل سکا تو وہاں تو ملنا بنتا ہے نا"
اس نے ہتھیلی سے آنکھیں صاف کیں
" تم تو جا سکتی ہو جنت میں لیکن میرے جیسا گنہگار کہاں جا سکتا ہے"
عون نے اسے دیکھتے ہوئے گہری سانس بھری نور کو لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں بھینچ لیا ہو
" تم ایسا کیوں سوچتے ہو اللہ کو تو ہر وہ بندہ بڑا ہی محبوب ہے جو توبہ کر لے اس یقین کے ساتھ کہ اللہ اس کو معاف کر دے گا مجھے اپنے اللہ پر کامل یقین ہے تم دیکھنا انشاءاللہ ہم دونوں ساتھ جائیں گے"
وہ نم آنکھوں سے مسکرائی روکنے کے باوجود بھی آنسو پھر سے روا ہونے لگے تھے
" میری ایک بات مانو گی ؟"
عون نے نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے
نور نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا چلو یسع کے علاوہ کوئی تو تھا جو اپنی بات منوانا چاہتا تھا
" وعدہ کرو اب کبھی نہیں روؤ گی۔ اگر کبھی میں کوئی الٹی سیدھی حرکت بھی کروں تو تم مجھے مار لینا مگر رونا ہرگز نہیں میری آنکھوں نے ہمیشہ تمہیں روتے دیکھا ہے میں نے اگر زندگی میں کبھی کوئی چیز مانگی ہے تو وہ تم سمیت تمہاری مسکراہٹ ہے۔ میں نے دعا کی ہے کہ مرنے سے پہلے تمہیں مسکراتے ہوئے دیکھ لوں کیا تم میری یہ دعا قبول ہونے دو گی؟"
نور نے ایک لمحہ اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں بچوں جیسی خواہش مچل رہی تھی
پہلے وہ مسکرائی پھر ہنس پڑی
عون کو اگر معلوم ہوتا کہ وہ ہنستے ہوئے جان نکال دیتی ہے تو وہ اس طریقے سے اپنی جان نکلوانا پسند کرتا
" جب میرا آخری وقت ہوگا نا تو تم نے رونا نہیں ہے بلکہ مسکرانا ہے کیونکہ میں آخری دفعہ تمہیں مسکراتے ہوئے دیکھنا چاہوں گا تمہاری ہنسی کو دیکھنا چاہوں گا "
نور کے مسکراہٹ غائب ہوئی مگر وہ روئی نہیں بلکہ ہاتھ چھڑوا کر غصے سے اس کے سینے پر مکا مار ڈالا
" مار کیوں رہی ہو یار"
اس نے سینہ مسلہ
" اب تو میں بوڑھا ہو گیا ہوں کچھ تو خیال کرو"
" تم نے ہی کہا کہ اگر میں الٹی سیدھی حرکت کروں تو تم مجھے مار لینا اب میں تمہاری ساری خواہشیں پوری کروں گی"
عون مسکرایا پھر کچھ بھی کہے بغیر اس نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
" اس بندہ ناچیز کی اور بھی بہت سی خواہشیں ہیں کہتی ہو تو وہ بھی بتا دوں؟"
نور نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا
" کیا؟"
وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی اس لیے نہ سمجھ سکی
" ایک بار پھر کہہ دو کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو"
" نور تم سے بہت محبت کرتی ہے عون!"
وہ ہنس پڑی اور عون بھی
☆☆☆
اس کے بولنے سے پہلے ہی اس کا موبائل بج اٹھا نور اسے کال کر رہی تھی اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر رخ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا رخ نے بیزاری سے چہرہ موڑ لیا
" جی ممی خیریت؟ اتنی رات کو کال"
وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا
دوسری طرف کی بات سن کر اس کے ماتھے پر بل پڑے پھر کچھ بھی کہے بغیر وہ فون کان سے لگائے بیٹھا رہا
" آپ پریشان مت ہوں وہ مل جائے گی"
رخ یکدم چونکی یسع نے الوداعی کلمات کے بعد فون رکھ دیا کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے رخ کو اٹھنے کا اشارہ کیا وہ ایک ساتھ کھڑے ہوئے
" بہت جلد تم یہ شہر چھوڑ کر اپنے اس نقلی باپ کے ساتھ چلی جانا"
کچھ لمحے اس کے چہرے کو دیکھنے کے بعد وہ بولا
" کیوں؟"
اس کا ماتھا سکڑا
" کیونکہ میں کہہ رہا ہوں"
" تم ہو کون جس کی میں بات سنوں میں کہیں نہیں جا رہی اگر اتنا ہی مسئلہ ہو رہا ہے تو تم خود کیوں نہیں چلے جاتے یہ شہر چھوڑ کر"
رخ نے دانت بھینچے
" میں بحث کے موڈ میں نہیں ہوں اور میں نہیں تم جاؤ گی یہاں سے "
سینے پر بازو باندھے وہ اسے گھورنے لگا
" تم یہاں سے دفع ہو جاؤ"
اس نے غصے سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھکیلا وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا
" یہ کیا بدتمیزی ہے؟"
اسے تاؤ آیا رخ نے اچنبھے سے رک کر اس کو دیکھا
" بدتمیزی نہیں ہے یہ تم میرے سامنے کھڑے تھے بس میں نے تمہیں پیچھے کیا"
" تو تم مجھے بول بھی تو سکتی تھی مگر نہیں تم نے مجھے دھکا دینا ضروری سمجھا دو انچ کی زبان ہلا نہیں سکتی آدھ فٹ کے ہاتھ سے مجھے چھ فٹ کے بندے کو ہلا ڈالا آخر کس چیز کا بدلہ لے رہی ہو تم مجھ سے؟"
وہ فضول بحث کرنے لگا رخ نے اپنا ماتھا مسئلہ
" کیا تم لڑنا چاہتے ہو مجھ سے؟"
اس نے سینے پر بازو باندھے
" میں لڑکیوں سے نہیں لڑتا اور تمہارے جیسی لڑکیوں سے تو بالکل نہیں"
انگلی اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کیا
" میرے جیسی سے کیا مطلب ہے تمہارا؟"
وہ صدمے سے بولی
" کبھی دیکھا ہے خود کو اتنی سی تو ہو"
انگوٹھے اور انگشت شہادت سے اس نے ننھا سا خلا بنایا پھر اس کی نازک سی کلائی پکڑ لی
" اگر اس ہاتھ سے مجھے مارو گے تو یقین کرو میں بالکل نہیں مروں گا"
ایک جھٹکے سے رخ نے اپنی کلائی چھڑوائی
" میں تمہیں ہاتھ سے نہیں گولی سے ماروں گی "
اس نے گردن اکڑائی وہ کچھ پل اسے دیکھتا رہا پھر اپنا ریوالور نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا
" یہ لو"
رخ کا گلا سوکھ گیا پھر اس نے گن پکڑ لی اور اسے اچھی طرح چیک کیا کہ کہیں پانی والی تو نہیں مگر وہ اصلی تھی اگلے ہی لمحے اس نے گن کا رخ یسع کے ماتھے پر کر دیا
یسع کو پورا یقین تھا کہ وہ نہیں چلائے گی وہ اسے ہلکا سا مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا اور اگلے پل رخ نے ٹریگر دبا دیا لیکن یہ کیا کوئی آواز نہ آئی کیونکہ گن خالی تھی
یسع کی مسکراہٹ اڑن چھو ہوئی
طنزیہ مسکراتے رخ نے گن اس کے ماتھے سے ہٹا کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے تھما دی
" تم نے ٹریگر دبایا؟"
یسع کا گلا خشک ہو چکا تھا وہ اس کی جرات پر اش اش کر اٹھا
" اتنا ڈر کیوں رہے ہو مر تو نہیں گئے تم"
وہ پوچھ نہیں بتا رہی تھی
" اگر اس میں گولی ہوتی تب تم کیا کرتی؟"
" میں پھر بھی ٹریگر دبا دیتی لیکن میرا نشانہ تم نہیں تمہارے پیچھے وہ کھڑکی ہوتی "
وہ مسکرائی یسع نے سمجھ کر گن واپس رکھ دی وہ جھوٹ بول رہی تھی کہ وہ کھڑکی پر گولی چلاتی۔۔۔ اسے پورا یقین تھا گولی ہونے پر اب تک وہ اس کا بھیجا اڑا چکی ہوتی
" چلو "
یسع نے اب کی بار اسے راستہ دیا لیکن رخ نے پھر سے اسے دھکا دے کر اپنا راستہ کھلا کیا یا شاید اسے مزید غصہ دلایا
تیز تیز قدم اٹھاتی وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی یسع نے برہمی سے سر جھٹکا عجیب بے وقوف پاگل سی تھی وہ گہری سانس لے کر وہ بھی باہر نکل گیا
☆☆☆
گھر پہنچ کر وہ تیزی سے گاڑی سے نکلی اور اندر کی طرف بھاگی یسع کو تو اس نے دیکھا تک نہیں تھا لاؤنچ میں عون غصے سے فون پر کسی پر گرج رہا تھا اسے آتے دیکھ کر وہ وہی رک گیا
" تم کہاں تھی رخ ؟"
وہ بے قراری سے اس کی طرف بڑھا
" تمہیں کچھ ہوا تو نہیں مجھے بتاؤ کس نے کیا یہ سب؟"
عون کی آنکھوں میں غصہ اور خوف ایک ساتھ تھا
" آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟"
رخ نے بس اتنا پوچھا
" کیا مطلب کیا نہیں بتایا "
عون کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی
" آپ نے مجھے سچ کیوں نہیں بتایا سب کچھ کیوں چھپا کر رکھا مجھ سے"
اس کی سنہری آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی عون کو لگا اس نے آج رخ کو بھی کھو دیا ہے
" میں نور سے محبت کرتا تھا لیکن میں نے اسے چوبیس سال پہلے کھو دیا میں اپنی بہن سارہ سے محبت کرتا تھا اور وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی صرف میری اپنی وجہ سے اور پھر تم آئی اور میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا تم میری سارہ کی بیٹی ہو میرے پاس تمہارے علاوہ کوئی دوسرا خونی رشتہ نہیں تھا مجھے لگا اگر میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا تو تم بھی مجھ سے نفرت کرنے لگو گی، مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ گی بس اسی لیے میں نے وہ سب تمہیں نہیں بتایا"
عون نے اذیت سے آنکھیں میچ لیں
" بس اس وجہ سے"
اس نے ہلکی سی گردن دائیں طرف جھکائی عون نے کچھ نہیں کہا
" آپ کو ایسا کیوں لگا کہ میں آپ کا سچ یا جھوٹ جو بھی ہو جاننے کے بعد آپ کو چھوڑ کر چلی جاؤں گی یقین کریں پاپا مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے کہ آپ ماضی میں کیا تھے کیا کر چکے تھے جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے آپ کو ویسا بالکل نہیں پایا جیسا آپ کے بیٹے نے مجھے بتایا میرا یقین کریں آپ جیسا سوچ رہے ہیں یا سوچتے آئے ہیں ویسا بالکل نہیں ہوگا مجھے پورا بھروسہ ہے آپ میرے آئیڈیل ہیں پاپا"
رخ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام لیا عون کو لگا جیسے اسے نئی زندگی کی نوید مل گئی ہے
" مجھے بس ایک بات پوچھنی ہے "
" کیا؟"
وہ ایک لمحہ رکی
" کیا۔۔۔میری ممی نے۔۔۔نکاح کیا تھا"
اس کی زبان لڑکھڑائی خود کے بارے میں اس طرح کا سوال پوچھنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے
عون کچھ لمحے اسے دیکھنے کے بعد دھیرے سے بولا
" میرے ساتھ آؤ "
اسے لیے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اس نے الماری کھولی اور ایک پیپر باہر نکالا تبھی اس کی نظر ایک انگوٹھی پر پڑی تھی اس نے وہ انگوٹھی بھی اٹھا لی اور گھوم کر اس کے پاس آیا
" یہ سارہ کے طلاق کے کاغذات ہیں اس کا مطلب تو یہ ہوا نا کہ اس نے نکاح کیا تھا"
رخ نے وہ کاغذ پکڑا آنسو گال پر سے ہوتے ہوئے ٹھوڑی سے ٹپکنے لگے
" میں جانتا تھا کہ ایک نہ ایک دن تم مجھ سے یہ ضرور پوچھو گی اور یہ انگوٹھی مجھے سارہ نے دی تھی کہ میں نور کو پہنا دوں مگر میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ یہ ممی کی انگوٹھی تھی ان کے انتقال کے بعد بابا نے یہ سارہ کو دے دی تھی اور اب میں یہ تمہیں دینا چاہتا ہوں نور سے زیادہ اس پر تمہارا حق بنتا ہے یوں سمجھو یہ تمہاری ممی کی نشانی ہے"
اس نے انگوٹھی رخ کی طرف بڑھا دی وہ ہیرے کی تھی رخ نے وہ ہاتھ میں تھام لی آنسو صاف کرتے وہ عون کے سینے سے لگ گئی
" ایم سوری پاپا"
وہ پھر سے رونے لگی تھی عون نے اس کا سر تھپکا
" سوری نہیں تھینک یو"
اور وہ ہنس پڑی
☆☆☆
" تم کب واپس آئے؟"
نور نے اسے آتے دیکھا تو تیزی سے اٹھی وہ جو دھیرے دھیرے قدم اٹھا رہا تھا ٹھٹک کر رکا پھر بے اختیار اپنا ماتھا مسلا
وہ تو نور کو بول کر گیا تھا وہ کسی کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جا رہا ہے اور دو دن بعد آئے گا رخ نے تو اس کا دماغ ہی خالی کر دیا تھا وہ ہلکا سا مسکرایا اور اس کے پاس چلا آیا
" ابھی واپس آیا ہوں کام جلدی ختم ہو گیا تھا "
اس نے نور کو کندھوں سے تھام کر کہا
" کون سا کام تھا؟"
نور نے اس کے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹا کر شکی نظروں سے اسے گھورا
" آفس کا ایک کام تھا "
وہ گڑبڑایا
" اور کوئی جھوٹ "
نور نے سینے پر دونوں بازو باندھ لیے
" جھوٹ کیوں بولوں گا میں؟"
وہ حیران ہوا کیونکہ نور اس کا جھوٹ پکڑ لیتی تھی
" رخ کہاں ہے؟"
نور نے اندھیرے میں تیر چلایا وہ سٹپٹا گیا
" اپنے گھر ہی ہو گی مجھے اس سے کیا لینا دینا "
اس نے ناگواری سے کہا کیونکہ وہ جان گیا تھا اس کے باپ نے نور کو سب کچھ بتا دیا ہے تبھی نور کا فون بج اٹھا عون کا نام جگمگا رہا تھا یسع نے دیکھا تو اس کی تیوریاں چڑھ گئی
اس کے بولنے سے پہلے نور نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا وہ بالکل چپ ہو گیا
" کب واپس آئی؟ کیا وہ ٹھیک ہیں؟ اللہ کا شکر ہے اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ اللہ حافظ"
فون بند کرنے کے بعد اس نے پھر سے یسع کو گھورا
" یہ میں کیا سن رہی ہوں ؟"
نور نے آنکھیں دکھائیں
" مجھے کیا پتہ کہ آپ اس شخص سے کیا سن رہی تھیں"
اسے غصہ آ رہا تھا کہ آخر وہ شخص اس کی ماں کو فون کیوں کر رہا تھا
" تم نے رخ کو اغوا کیا؟"
نور اس کی ڈھٹائی پر غصے سے بولی
" جیسا آپ سوچ رہی ہیں ویسا میں نے کچھ نہیں کیا بس آپ کے شوہر سے کچھ حساب کتاب کرنے تھے اسی لیے میں نے ایسا کیا"
یسع نے جتایا نور بالکل چپ ہو گئی
" تمہیں کس نے کہا کہ میرے شوہر سے حساب کتاب کرتے پھرو "
وہ حیران ہوا
" کیا آپ نے مجھے نہیں کہا تھا کہ میرا باپ مر چکا ہے کیا آپ وہی نہیں ہیں جو آدھی رات کو اٹھ اٹھ کر روتی تھیں صرف اس شخص کے لیے۔۔۔ کیا آپ وہی نہیں ہیں جس پر اس شخص نے گھٹیا الزامات لگا کر آپ کو رات میں گھر سے نکال دیا تھا اب آپ کس طرح سے اسے اپنا شوہر کہہ رہی ہیں ممی؟ وہ تو شکر ہے کہ میں نے آپ کی ڈائری پڑھ لی ورنہ آپ نے مجھے کہاں کچھ بتانا تھا اگر آپ نے اس شخص کو معاف کر دیا ہے تو مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے میں آپ کو نہیں روکوں گا آپ واپس اس کے پاس سب کچھ بھلا کر جا سکتی ہیں لیکن میں ایسا کبھی نہیں کروں گا"
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا
" ہم اپنے گناہوں کی معافی لوگوں سے نہیں اللہ سے مانگتے ہیں مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ وہ پہلے جیسا نہیں ہے وہ پلٹ چکا ہے انسان غلطیاں بھی کرتا ہے گناہ بھی کرتا ہے لوگ اس کی غلطی اور گناہ نہیں بھولتے ہیں بار بار ہر موقع پر اسے کسی نہ کسی طرح یاد دلاتے رہتے ہیں اور وہ شخص جو بدلنے لگتا ہے لوگوں کی باتوں سے مزید پریشان ہو جاتا ہے لیکن جو اللہ ہے نا وہ اپنے بندے کی ایک توبہ سے اس کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ اسے لوگوں سے نہیں اللہ سے بخشش کی امید ہوتی ہے۔ تم اور میں کون ہوتے ہیں اس کو معاف نہ کرنے والے اگر میں بھی باقیوں کی طرح ہو جاؤں اسے بار بار کہوں کہ وہ ایسا تھا یا ویسا تھا تو اس میں اس کا نہیں میرا نقصان ہوگا کچھ بعید نہیں کہ اللہ اس کو معاف کر کے اس کے سارے گناہ میرے کھاتے میں ڈال دے تب میں کیا کروں گی کیا منہ دکھاؤں گی اپنے اللہ کو میں تو اللہ کے سامنے سر بھی نہیں اٹھا سکوں گی"
وہ تھک کر صوفے پر بیٹھ گئی تھی یسع خاموشی سے اس کے جھکے سر کو دیکھتا رہا
" آپ کو پتہ ہے ممی کہ آپ کون ہیں؟"
وہ اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا اور اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے نور نے گیلا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا
" آپ میری آئیڈیل ہیں ممی آپ ہیں تو میری زندگی میں نور ہے آپ نہیں تو میں بھی نہیں میں چاہتا ہوں اللہ آپ جیسی آئیڈیل ماں ہر بچے کو دے اگر آپ ایسی نہ ہوتیں تو میں بھی اپنے باپ جیسا بن جاتا "
بے اختیار ہی اپنا باپ اس کے منہ سے نکلا تھا وہ خاموش ہو گیا پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر نور کے آنسو صاف کیے
" آپ روتی ہوئی بالکل اچھی نہیں لگتیں"
وہ اس کے آنسوؤں سے جذبز ہوا تھا
" اوکے اب نہیں روتی "
وہ دھیرے سے مسکرائی
" ایک بات کرنی ہے آپ سے "
کچھ دیر نور کو دیکھنے کے بعد وہ ہچکچاتے ہوئے بولا
" ہاں کہو"
" ایک کام کریں آپ میری شادی کروا دیں آپ ہی تو کہتی ہیں کہ کب مانو گے اب میں مان گیا ہوں تو۔۔۔"
نور کی حیرت کو نظر انداز کر کے اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی
"کیا تم کسی کو پسند کرتے ہو؟"
وہ گہری سانس لے کر بولی
" استغفر اللہ ممی کیسی بات کر رہی ہیں آپ؟ کیا میں آپ کو ایسا لگتا ہوں تھرڈ کلاس قسم کا جو افئیر چلاتا ہو"
وہ اٹھ کر اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھا
" خیر ایسا تو نہیں کہا میں نے چلو دیکھتی ہو کوئی لڑکی۔۔۔۔ تمہیں رخ کیسی لگتی ہے؟"
اچانک نور نے پوچھا اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی
کہیں نور اسے اُلّو تو نہیں بنا رہی تھی ضرور وہ اس کی حرکتیں جان گئی ہو گی اس نے نور کو دیکھا وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اس کے چہرے سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کچھ جانتی ہے
" پتہ نہیں ممی اگر آپ کو ٹھیک لگتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں"
اس نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا وہ یہ جھوٹ پکڑوانا نہیں چاہتا تھا
نور ٹھیک ہے کہتے ہوئے اٹھ گئی تھی۔
☆☆☆
پورا ہال روشنی سے جگمگا رہا تھا آج رخ اور یسع کا نکاح تھا
جی ہاں۔۔۔
رخ نہیں مان رہی تھی مگر عون نے اسے بہت پیار اور نرمی سے سمجھایا کہ وہ برا لڑکا نہیں ہے بہت اچھا ہے تمہیں خوش رکھے گا کیونکہ اس کی تربیت نور نے کی ہے
نور بھی ساتھ بیٹھی اسے نرمی سے سمجھاتی رہی تھی وہ دونوں ہی نہیں چاہتے تھے کہ رخ کی شادی کہیں باہر ہو عون اسے اتنے پیار سے سمجھا رہا تھا کہ رخ کو ہاں کرنی ہی پڑی
تھوڑی دیر بعد ان کے نکاح کا مرحلہ آیا وہ دونوں صوفے پر آمنے سامنے بیٹھے تھے درمیان میں پھولوں کی خوبصورت سی لڑیاں لٹک رہی تھیں
" ماہ رخ عالمگیر کیا آپ کو یسع عالمگیر سے 50 لاکھ روپے حق مہر نکاح میں قبول ہے"
رخ نے پہلے قاضی کو اور پھر یسع کو ناگواری سے دیکھا
" بالکل نہیں"
یسع جو مسکرا رہا تھا اس کے جواب پر اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی
نور اور عون نے پریشانی سے رخ کو دیکھا
" کیا ہوا رخ کوئی بات ہے کیا ؟"
کندھے پر ہاتھ رکھ کر نور نے نرمی سے پوچھا
" آپ پہلے اس سے پوچھیں کہ وہ مجھے قبول کرتا ہے یا نہیں پھر میں قبول ہے بولوں گی "
اس نے ایک ادا سے کہا یسع کے ماتھے پر بل آئے پھر ایک ابرو اٹھا کر سمجھنے والے انداز میں اس نے سر ہلایا
" آپ پہلے مجھ سے پوچھیں قاضی صاحب لڑکیوں میں اتنی ہمت کہاں ہوتی ہے کہ وہ پہلے ہم لڑکوں کو قبول کریں"
طنز سے مسکرا کر اس نے قاضی سے کہا قاضی ہکّا بکّا اس کی طرف مڑا رخ نے دانت پیسے، بدتمیز۔۔۔
" نہیں قاضی صاحب آپ دوبارہ مجھ سے پوچھیں مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں اس جیسے کو قبول کروں"
قاضی نے پہلو بدل کر اسے دیکھا پھر عون کو وہ جلدی سے اس کے پاس آیا
" کیوں پریشان کر رہی ہو ہمیں یہاں مذاق نہیں نکاح ہو رہا ہے"
عون نے جھک کر اس کے کان میں کہا
" پاپا دیکھیں کیسے وہ میرا مذاق اڑا رہا ہے آپ اسے بھی تو کچھ کہیں"
وہ روہانسی ہو گئی۔ روئی وہ اس لیے نہیں تھی کہ کہیں میک اپ نا خراب ہو جائے کچھ بعید نہیں کہ یسع سب کے سامنے اس پہ ہنس پڑتا اور اس کا مذاق بن جاتا نور گھوم کر یسع کے پاس پہنچی
" اگر تم باز نہ آئے تو میں نے کسی کی پرواہ کیے بغیر تمہیں تھپڑ لگا دینا ہے"
نور نے اسے سرگوشی میں دھمکی دی وہ فوراً سنجیدہ ہو گیا
اب وہ دونوں ایک دوسرے کو تقریباً گھور رہے تھے قاضی نے دوبارہ پوچھنا شروع کیا پھر تھوڑا جذبز ہوا
" پہلے کس سے پوچھوں؟"
اس نے دونوں کو باری باری دیکھا
" مجھ سے "
دونوں یک زبان بولے نور نے ماتھے پر ہاتھ مارا عون کا چہرہ تاریک ہوا رخ نے پھر سے دانت پیسے جبکہ یسع ٹیک لگا کر طنزیہ مسکرایا
" آپ پہلے رخ سے پوچھیں"
نور نے جلدی سے کہا قاضی نے سر ہلا کر دوبارہ پوچھا
" قبول ہے!!"
رخ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا پھر قاضی نے یسع سے پوچھا
" قبول ہے۔۔!!!"
وہ مسکرایا
" مبارک ہو آپ دونوں کو آپ کا نکاح ہو چکا ہے"
قاضی ان کو باری باری دیکھتے ہوئے مسکرایا اس طرح کے جیسے اس نے کوئی ملک فتح کر لیا ہو
یسع اٹھا اور جالی کا پردہ ہٹا کر اس کی طرف چلا آیا وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی
اس نے جھک کر پہلے اس کا چہرہ تھاما پھر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے پھر مسکرا کر وہ واپس اپنی جگہ پر آ بیٹھا
سب ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے تھے سٹیج پر بیٹھتے ہی کھانا لگ گیا رخ یسع کو مکمل نظر انداز کیے سامنے کی طرف دیکھ رہی تھی اس خوبصورت سے اسٹیج پر فی الحال وہ دونوں اکیلے بیٹھے تھے یسع نے اسے دیکھا پھر ہاتھ بڑھا کر اس کا مہندی سے سجا ہوا ہاتھ تھام لیا وہ چونکی
" یہ کیا کر رہے ہو ہاتھ چھوڑو میرا"
" نہیں چھوڑتا ویسے بھی میرا حق ہے میں چاہوں تو تمہیں اٹھا کر بھی یہاں سے لے جا سکتا ہوں"
مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھامے وہ مسکرایا رخ کے چہرے پر سرخی دوڑی
" ایسا سوچنا بھی مت"
اتنی کوشش سے بھی جب یسع نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا تو اس نے پھر سے اپنا رخ سامنے کی طرف کر لیا
" وہاں سامنے کیا دیکھ رہی ہو مجھے دیکھو نا ادھر میں یہاں بیٹھا ہوں"
دوسرے ہاتھ سے اس نے اس کا چہرہ پکڑ کر اپنی طرف موڑ لیا وہ سٹپٹائی
" تم آرام سے نہیں بیٹھ سکتے صوفے پر کانٹے لگے ہیں کیوں مجھے تنگ کر رہے ہو"
اس نے رونی شکل بنائی دو ویٹر ان کے سامنے ٹیبل پر کھانا رکھنے لگے
" پہلی دفعہ شادی کی ہے نا اس لیے تجربہ نہیں ہے"
ان کے جانے کے بعد وہ پھر سے بولا رخ نے غصے سے اس کو دیکھا
" تو میری کون سی دوسری شادی ہے"
وہ جل بھن گئی پھر اس نے کھانے کی طرف دیکھا یسع نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا
" کیا تم بھوکی ہو؟ او میرا مطلب کیا تمہیں بھوک لگی ہے"
اس کی تیوریاں دیکھ کر اس نے فوراً بات بدلی
" بھوکے ہو گے تم"
اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا پھر لہنگا سنبھالتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی
" کدھر جا رہی ہو ؟"
اس کی کلائی پکڑ کر اس نے ایک جھٹکے سے اسے واپس بٹھایا وہ دھڑام سے بیٹھی
" بھاگ رہی ہوں یہاں سے"
اس کا دل کیا قورمے کی ٹرے اس کے سر پر الٹ دے
" اتنی بھی کیا جلدی ہے گھر جانے کی تھوڑا صبر کر لو ساتھ ہی چلتے ہیں"
وہ کہاں باز آنے والا تھا ڈھٹائی سے مسکرا کر اس نے چاول پلیٹ میں ڈالنے شروع کر دیے رخ کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ اب کیا کہے
اگلے ہی پل چاولوں کا چمچ وہ اس کی طرف بڑھا رہا تھا رخ نے اسے اور پھر چمچ کی طرف دیکھا بے اختیار مسکرا کر اس نے چاول منہ میں لے لیے اگلے ہی لمحے اس نے سنجیدہ چہرہ کر کے پلیٹ اور چمچ اس کے ہاتھ سے لے لی
اب وہ خود کھا رہی تھی
" میں باقی بھی کھلا سکتا تھا"
یسع کو برا لگا
" میرے ہاتھ نہیں ٹوٹے ہوئے میں خود کھا سکتی ہوں "
جواب فوراً سے پہلے آیا تھا وہ گہری سانس بھر کے رہ گیا
" میں بھی بھوکا ہوں مجھے بھی کھلا دو "
اس سے مزید صبر نہیں ہوا
" اپنے لیے اور نکال لو"
ایسے تو پھر ایسے ہی سہی
" مگر مجھے یہی کھانے ہیں "
اب وہ پورا اس کی طرف مڑ گیا تھا
چاول رخ کے حلق میں پھنسے یکدم ہی وہ کانسنے لگی کیونکہ وہ گہری نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا یسع نے فوراً پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا
رخ نے گلاس لینے کی کوشش کی مگر یسع نے اس کا ہاتھ تھام لیا یعنی وہ خود اس کو پلائے گا رخ نے گلاس لبوں سے لگا لیا پانی پی کر وہ فوراً سیدھی ہوئی یسع نے مسکرا کر اسے دیکھا پھر وہی گلاس اپنے لبوں سے لگا لیا
دو گھونٹ پی کر اس نے گلاس واپس رکھ دیا اب وہ مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا چاول کھانا رخ کے لیے دو بھر ہو گیا
" مجھے گھورنا بند کرو "
وہ جھنجھلائی
" میں کہاں گھور رہا ہوں میں تو اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں"
اس نے مسکراہٹ دبائی پھر ہنس پڑا اور نرمی سے اس کے ہاتھ سے پلیٹ لے لی اب وہ خود اسے کھلا رہا تھا اور وہ خاموشی سے کھاتی گئی جب تک اس کا پیٹ نہیں بھر گیا وہ کھلاتا رہا تھوڑا سا خود کھانے کے بعد اس نے پلیٹ واپس رکھ دی تھی
کھانے کے بعد رخصتی کا وقت آیا نور واپس عون کے پاس آ گئی تھی مگر یسع نے وہاں رہنے سے صاف انکار کر دیا تھا وہ رخ کو رخصت کروا کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا
نور اور عون سے مل کر جیسے ہی وہ آگے بڑھی یسع اس کے سامنے آگیا وہ ٹھٹھک کر رکی
" اب کیا مسئلہ ہے؟"
وہ الجھی یسع نے مسکراہٹ دبا کر اسے بازوؤں میں اٹھا لیا وہ گرتے گرتے بچی اس نے پہلے عون اور پھر نور کو دیکھا عون منہ پر مٹھی رکھ کے ہنسی روک رہا تھا جبکہ نور کو یسع کی حرکت پر شدید تاؤ آیا مگر وہ زیادہ دیر ایسا نہ کر سکی ہنستے ہوئے وہ عون کی طرف مڑ گئی تھی رخ کو اتنی شرم آئی کہ حد نہیں
" یہ کیا بدتمیزی ہے نیچے اتارو مجھے۔۔ میرے پیر۔۔۔۔"
یسع نے اس کی بات فوراً کاٹی
" ہاں ہاں نہیں ٹوٹے ہوئے مگر پھر بھی تم مجھے اٹھا کر لے چلو"
اس نے اپنی طرف سے اس کی بات مکمل کی
اس سے تو وہ گھر جا کر پوچھے گی گاڑی تک وہ اسے ایسے ہی اٹھا کے لے گیا تھا اور پھر گھر پہنچ کر اس کے گاڑی سے نکلنے سے پہلے ہی اس نے دوبارہ اسے اٹھا لیا رخ ایک بازو اس کے کندھے پر پھیلائے کمرے میں لے جانے تک اس کو گھورتی رہی تھی جبکہ وہ کمال بے نیازی سے اس کی گھوری کو پوری طرح نظر انداز کرتا رہا تھا کمرے میں پہنچتے ہی وہ ایک جھٹکے سے نیچے اتری اس سے دور ہونے کی کوشش میں اس کی ہیل لہنگے پر آئی توازن بگڑنے پر وہ ڈگمگائی یسع نے فوراً اسے سنبھالنا چاہا مگر وہ دونوں ہی ایک ساتھ کارپٹ پر دھڑام سے گرے
" ہائے اللہ۔۔۔"
رخ نے دہائی دی
" ہٹو میرے اوپر سے موٹے کہیں کے"
دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھے اسے پرے دھکیلا مگر وہ ہلا تک نہیں اس کے اوپر دائیں بائیں ہتھیلیاں جمائے اسے مسکرا کر دیکھنے لگا
" ہمت ہے تو ہٹا کے دکھاؤ"
اس نے چیلنج کیا
رخ نے تھوک نگلا پھر اپنا ایک ہاتھ اس کے سینے سے لے جاتے ہوئے پیٹ پر رکھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا ایک زور کی چٹکی اس کے پیٹ پر کاٹی وہ بلبلا کر کھڑا ہوا وہ مسکرا کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے ساتھ ہی کھڑی ہوئی
" بہت ہمت ہے مجھ میں تم نے مجھے آخر سمجھ کیا رکھا ایک کمزور بزدل لڑکی"
" میں تو کچھ بھی نہیں سمجھتا تمہیں۔۔۔۔ ان میں سے "
اس کی تیوریاں دیکھ کر اس نے جملے میں اضافہ کیا تھا
" تمہارے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے کیوں مجھے پریشان کر رہے ہو کب سے میں تمہیں دیکھ رہی ہوں تم مجھے تنگ کیے جا رہے ہو"
رخ نے غصے سے کہا
" ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے کہاں تنگ کر رہا ہوں تمہیں"
وہ معنی خیزی سے مسکراتا اس کی طرف بڑھا
پورا کمرہ گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا بیڈ کے چاروں طرف پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ وہ فوراً پیچھے ہوئی ایک بار پھر اس کی ہیل لہنگے پر آئی اس کا توازن بگڑا پیچھے بیڈ تھا گرتے ہوئے اس نے پھولوں کی لڑیوں کو تھامنا چاہا وہ اسے کیا سنبھالتی الٹا ٹوٹ کر اس پر آ گریں
پوری سیج بکھر گئی بیڈ پر پیٹھ کے بل وہ گری پڑی تھی پھولوں کی لڑیاں اس کے اوپر۔ یسع رک گیا اسے سنبھالنے کے لیے اب کی بار وہ آگے نہیں بڑھا تھا
" مسئلہ میرے ساتھ نہیں تمہارے ساتھ ہے میں کوئی جن تھوڑی ہوں جو تمہیں کھا جاؤں گا اتنا ڈر کیوں رہی ہوں کچھ نہیں کرتا میں "
ماتھے پر تیوریاں چڑھا کر اس نے اسے لڑیوں کی قید سے آزاد کیا پھر اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا
" جاؤ چینج کرو جا کر ورنہ اسی طرح ہر دو منٹ بعد اچھلتی رہو گی"
مسکرا کر گویا اسے مزید تیش دلایا جب کہ وہ ہاتھ چھڑوا کر اپنا لہنگا سنبھالتی آرام سے وارڈ روب کی طرف بڑھ گئی
ایک گہری سانس بھر کر یسع نے وہ لڑیاں اٹھا کر نیچے رکھ دیں اور موبائل نکال کر بیڈ پر نیم دراز ہو گیا
تھوڑی دیر بعد وہ سادہ کپڑوں میں باہر آئی تھی اس نے زیور بھی سارے اتار دیے تھے موبائل سے نظر ہٹا کر وہ اسے دیکھنے لگا تھا
وہ سجی ہوئی زیادہ حسین دکھ رہی تھی یا اب وہ فیصلہ نہیں کر پایا اس کی نظروں سے وہ الجھی تھی یا ان پھولوں کی لڑیوں سے، جو بھی تھا خیر وہ ایک مرتبہ پھر گری۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور اس کی طرف آیا رخ اٹھنے کے بجائے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر یک دم رونے لگی
اتنی بےعزتی؟ وہ بھی تیسری دفعہ ایک شخص کے سامنے؟ وہ روتی نہیں تو اور کیا کرتی یسع نے اب کی بار وہ لڑیاں اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دی
حد ہی ہوگئی۔۔۔
" رو کیوں رہی ہو کہیں چوٹ لگی ہے کیا؟"
اس کے سامنے وہ پنجوں کے بل بیٹھا رخ نے ہاتھ ہٹائے بغیر نفی میں سر ہلا دیا یسع نے ایک گہری سانس بھری پھر اسے بانہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹا دیا
چہرے سے ہاتھ ہٹا کر رخ نے پہلے سٹپٹا کر پھر ناگواری سے اس کو دیکھا وہ اس پر جھکا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
رخ کا سانس رک گیا اس نے یسع کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے۔ وہ اسے پھر سے پیچھے کرنا چاہتی تھی مگر یسع نے نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر دائیں بائیں رکھ دیے
" بس بھی کرو اب اور کتنا مجھے پریشان کرو گی"
وہ سرگوشی میں بولا
" دور۔۔۔ دور رہو مجھ سے!"
وہ کسمسائی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی اس نے سرخ ہونٹوں پر زبان پھیری اس کا گلا خشک ہو گیا تھا چہرے پر الگ گلال بکھر گیا تھا
" کیوں؟"
وہ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتا کافی محظوظ ہو رہا تھا
" کیونکہ میں کہہ رہی ہوں نا"
اسے ایک دم غصہ آیا
"نہیں ہوتا "
مسکرا کر وہ جھکا اور اس کے دونوں رخساروں پر باری باری لب رکھے پھر نرمی سے ٹھوڑی اور پھر ماتھے پر رکھے
" گڈ نائٹ!"
لائٹس آف کر کے وہ اپنی جگہ لیٹتے ہوئے بولا جبکہ وہ ابھی تک ساکت تھی یسع نے بازو بڑھایا اور اسے سینے سے لگا لیا
" سو جاؤ کچھ نہیں کروں گا"
مسکراہٹ دبا کر اس نے چھیڑا اور آنکھیں بند کر لیں جب کہ رخ نے اس کے سینے میں چہرا چھپا لیا
" توبہ توبہ!!"
دل ہی دل میں وہ بولی تھی
☆☆☆
نور اور عون عمرے پر چلے گئے تھے یسع اور رخ بھی ان کے ساتھ جانا چاہتے تھے مگر پاسپورٹ کا مسئلہ بن گیا رخ کا تو بن گیا مگر اس کا نہیں
وہ تو نور اور عون کے ساتھ ہی چلے جانا چاہتی تھی مگر یسع نے سختی سے منع کر دیا کیونکہ وہ پیار کی زبان کہا سمجھتی تھی
" ہم دونوں جائیں گے "
اس نے نرمی سے کہا تھا وہ خاموش ہو گئی
عون اور نور کو ایئرپورٹ پر ڈراپ کرنے کے بعد یسع نے اسے آئس کریم کھلائی اور اسے ساحل پر لے گیا
ان کے جانے سے وہ اداس ہو گئی تھی نا۔۔۔ پھر اچھا سا ڈنر کروا کر وہ اسے واپس لے آیا
" ہم عمرے کے بعد ہنی مون کے لیے ترکی جائیں گے"
وہ جو ٹاپس اتار کر سنگھار میز پر رکھ رہی تھی چونک کر پلٹی
" کیا واقعی!"
وہ حیرانگی سے مسکرائی
" کیا تم کہیں اور جانا چاہتی ہو؟"
وہ اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا
" ترکی ٹھیک ہے"
وہ چہکی
" ایسے ہی خوش رہا کرو۔۔۔ تم اداس اچھی نہیں لگتیں "
اس نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے
" تمہارے ساتھ تو اداسی بھی اچھی لگتی ہے"
وہ مسکرائی
" جب کہ مجھے تم۔۔ اور صرف تم"
نرمی سے کہہ کر اسے نے اسے سینے سے لگا لیا
" رخ تم سے بھی زیادہ تم سے محبت کرتی ہے"
اس کے سینے سے لگی وہ مسکرائی
" کیا تمہاری محبت واپس آگئی؟"
اس کے سر پر ٹھوڑی جمائے وہ پوچھنے لگا
" کہاں سے ؟"
رخ نے چہرہ اٹھا کر اس کو دیکھا
" بھاڑ سے"
وہ بالکل سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا پہلے تو رخ بالکل نہیں سمجھی مگر جب سمجھ آئی تو ہنس پڑی
" ہاں آگئی ہے"
اس نے دوبارہ اس کے سینے پر سر رکھ دیا
ساری اداسی ختم ہو گئی تھی اس کے آنے سے اس کے ہونے سے۔
اختتام
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment