Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Gunhegaar EP 2 by Munaza Niaz

 


ناول: گنہگار

از قلم: منزہ نیاز

قسط: دو


"طلحہ، پلیز سمجھنے کی کوشش کرو... بھائی کبھی نہیں مانیں گے! اگر انہیں ہماری محبت کا علم ہو گیا تو وہ... وہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہو جائیں گے"

سارہ کی آواز میں لرزش تھی،اور آنکھیں اضطراب سے بھری ہوئی۔ وہ دونوں گراؤنڈ کے سنسان گوشے میں آمنے سامنے بیٹھے تھے ہوا ہلکی ہلکی چل رہی تھی، مگر ان کے درمیان خاموشی کی تپش بڑھتی جا رہی تھی

"تو تم... بس بھائی کے ڈر سے مجھے چھوڑ دو گی؟"

طلحہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، نگاہوں میں جنون اور مایوسی کا عکس ابھرا تھا

"کیا تم میرے لیے اتنی بھی ہمت نہیں جتا سکتیں؟ سارہ، تمہیں اندازہ بھی ہے تم میرے لیے کیا ہو؟"

سارہ نے نظر جھکا لی اس کے دل میں کئی طوفان اٹھنے لگے تھے طلحہ کی باتوں میں وہی شدت تھی جو اسے ہمیشہ کمزور کرتی تھی

"میں... میں کوشش کروں گی بھائی سے بات کرنے کی" 

اس نے بے یقینی کے باوجود آہستہ سے کہا

"مجھے امید ہے... شاید وہ مان جائیں"

اس نے اپنا دوسرا ہاتھ طلحہ کے ہاتھ پر رکھ دیا اس کے لبوں پر مصنوعی سی مسکراہٹ تھی، جیسے خود کو بہلا رہی ہو۔ جبکہ طلحہ، ایک ٹک اسے دیکھتا رہا لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ اور تھا۔ جذبہ؟ ہوس؟ یا صرف ایک کامیابی کا غرور؟ سارہ کو یکدم وہ نگاہیں اجنبی لگنے لگیں تھیں

☆☆☆

پورا راستہ ان کے دماغ میں صرف عون کی فکرے گونج رہے تھے چھ کروڑ کوئی چھوٹی رقم نہیں تھی جسے وہ ٹھکرا دیتے اور پھر کون سا نور ان کی سگی اولاد تھی جو وہ فکر کرتے ایک بوجھ جو ان کے کندھے پر تھا اب سرکنے لگا انہوں نے سوچ لیا تھا کہ انہیں اب کیا کرنا ہے جب وہ گھر پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک بائیک کھڑی تھی بائیک کو دیکھ کر انہیں معلوم ہو گیا کہ کون آیا ہے ماتھے پر تیوری لیے وہ اندر کی طرف بڑھ گئے سامنے اس چھوٹے سے لاؤنج میں صوفے پر ان کی اکلوتی بہن اپنے بیٹے کے ساتھ براجمان تھیں میز پر بہت سے لوازمات کے ساتھ تحائف اور مٹھائی بھی رکھی تھی

" آگئے سراج! آؤ آؤ میں کب سے تمہاری راہ تک رہی تھی کہ کب آؤ گے آؤ بیٹھو ادھر "

 ان کی بہن نے دوسرے صوفے کی طرف اشارہ کیا 

" تم کب آئیں صفیہ؟"

 انہوں نے بیٹھتے ہوئے تحمل سے پوچھا 

" لو بھلا اب کیا مجھے تمہارے ہاں آنے کے لیے لوگوں کی اجازت تو لینی نہیں ہے پھر اس بات کی کیا تک بنتی ہے "

آخر میں انہوں نے مصنوعی قہقہہ  لگایا

" اماں اوور ایکٹنگ بند کر کام کی بات کر "

ساتھ بیٹھا مانی سرگوشی میں بولا وہ فوراً سیدھی ہوئیں 

" کام کی بات کرو صفیہ اور یہ سب کیا ہے؟"

 ان کا اشارہ تحفے اور مٹھائی کی طرف تھا ماما بھی پریشان تھیں وہ کچھ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ سمجھ رہی تھیں کہ ان کے آنے کا مقصد کیا ہے مگر فی الحال وہ خاموش بیٹھی تھیں جبکہ ہادی ناپسندیدگی سے مانی کو گھور رہا تھا جو ہر زاویے سے غنڈوں  کا سربراہ لگتا تھا مانی ہادی کی نظروں سے جذبز ہونے لگا مگر ڈھیٹ بنا نظر انداز کرتا رہا

" وہ کیا ہے کہ سراج میں آج ایک بہت بڑے اور خاص مقصد سے آئی ہوں"

 صفیہ نے مسکرا کر بات کا آغاز کیا ان کی بات سمجھتے ہوئے سراج الحسین کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے مگر وہ بظاہر خاموش رہے جبکہ آئیمہ (ماما) نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا 

" مجھے تمہاری نور اپنے مانی کے لیے بہت پسند آئی ہے بس آج تو میں رشتہ پکا کر کے ہی جاؤں گی"

 آخر میں وہ مسکرائیں کچن سے چائے لاتی نور کے قدم زنجیر ہوئے ایک لمحے کو اس کا دل کانپا 

" مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے اور وجہ میں بتانا پسند نہیں کروں گا"

 سراج الحسین نے کہتے ہوئے آخر میں ناگواری سے مانی کو دیکھا

" ہیں؟ کیا کہہ رہے ہو سراج کیوں منظور نہیں ہے آخر مجھے بھی تو معلوم ہو کس چیز کی کمی ہے میرے مانی میں"

 ان کی تیوریاں چڑھ گئی 

" نور میری بیٹی ہے اور میں ہرگز کسی آوارہ اور بے روزگار سے اس کی شادی نہیں کروں گا"

 انہوں نے تو گویا صفیہ بیگم کی بے عزتی ہی کر دی تھی کم از کم ان کو یہی لگا 

" تم بھول رہے ہو سراج کہ وہ تمہاری سگی اولاد نہیں ہے کیا تم وہ نہیں ہو جس نے ہمیشہ اس سے نفرت کی کبھی اسے باپ کا پیار نہیں دیا اب تم کس منہ سے اسے اپنی بیٹی کہہ رہے ہو ارے میں تو تمہارا بوجھ ہلکا کرنے آئی تھی۔۔۔۔"

 وہ روانی میں بول رہی تھیں کہ سراج نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روکا 

" میری بیٹی مجھ پر بوجھ نہیں ہے صفیہ ہاں میں مانتا ہوں کہ میں نے ماضی میں بہت کچھ غلط کیا ہے اس کے ساتھ مگر اب مجھے احساس ہو گیا ہے اور اب میں جانتے بوجھتے پھر سے اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کروں گا اسی لیے برائے مہربانی تم یہاں سے تشریف لے جا سکتی ہو "

کہتے ساتھ ہی وہ اٹھے اور کمرے کی طرف چلے گئے آئیمہ ان کے پیچھے ہی اٹھ کر چلی گئیں جبکہ صفیہ بیگم تلملاتے ہوئے اٹھیں اور اونچا اونچا بڑبڑاتے اپنا پرس اٹھایا اور باہر نکل گئیں مانی بھی ان کے پیچھے لپکا تھا ابھی وہ بیرونی دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ اس کی نظر کچن کے دروازے پر بت بنی کھڑی نور پر پڑی وہ حجاب میں ساکت نگاہوں سے سامنے دیکھ رہی تھی مانی اچھل کر اس کے پاس جا پہنچا وہ چونکی اور جلدی سے کچن کے اندر جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ مانی نے اپنا بازو آگے کر کے اس کا راستہ روک دیا 

" کدھر جانِ جگر ابھی کچھ دیر رکو تو سہی ابھی جی بھر کر مجھے تمہیں دیکھنے تو دو قسم سے قیامت سے کم نہیں لگ رہی "

وہ غلیظ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے چہرے کی طرف لے جانے ہی لگا تھا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ اس کی گال پر پڑا مانی نے بے یقینی اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس کو دیکھا نور نفرت سے اس کو دیکھتی جلدی سے کچن میں چلی گئی مانی نے اپنا وہی ہاتھ گال پر رکھا 

" دیکھ لوں گا تمہیں آخر خود کو سمجھتی کیا ہے میری ماں یہاں مانگنے آئی تھی اب میں چھین کر دکھاؤ گا "

 آنکھوں میں سفاکیت لیے وہ تیزی سے پلٹ گیا

☆☆☆


بار میں ہر طرف چہل پہل تھی وہ صوفے پر یوں گرا پڑا تھا جیسے وجود تو سلامت ہو، مگر اندر سے کچھ مر چکا ہو اس کے ہونٹوں سے دھواں نکل رہا تھا، آنکھیں بوجھل اور سوچیں خالی تھیں پیچھے کہیں دھیما میوزک بج رہا تھا ہلکی روشنی میں اس کا وجیہہ چہرہ کافی دلکش لگ رہا تھا اس کی آنکھیں نیم وا تھیں ایک ہاتھ صوفے کی ہتھی پر دوسرے ہاتھ میں سلگتا ہوا سگریٹ تھا سامنے شیشے کی میز پر ایش ٹرے میں بہت سے سگریٹ کے ٹکڑے پڑے تھے ایک لڑکی کاؤنٹر پر گئی ڈرنک بنوائی اور اس کے پاس چلی آئی عون نے اپنے پہلو میں ایک نرم گداز وجود کو محسوس کیا مگر دیکھا نہیں اس لڑکی نے ڈرنک سامنے رکھی اور اس کے بالکل قریب بیٹھ گئی عون نے سگریٹ کا ٹکڑا ایش ٹرے میں مسل دیا اب وہ گہری نگاہوں سے فرصت سے اس لڑکی کا جائزہ لے رہا تھا اس لڑکی کا لباس کافی حد تک قابل اعتراض تھا اس کا چہرہ بہت خوبصورت تھا مگر اس کے باوجود بھی اس نے گہرا میک اپ کر رکھا تھا اس نے گلاس بھر کر عون کی طرف بڑھایا عون نے بنا کچھ کہے گلاس لے لیا۔ لڑکی نے دوسرا گلاس بھرا پھر دلکشی سے مسکرائی اور گلاس لبوں سے لگا لیا وہ چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھر رہی تھی جبکہ عون نے ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر دیا تھا لڑکی نے دوبارہ گلاس بھرا اب کی بار عون نے رک کر اس کو دیکھا اس کی نظریں ہی ایسی تھیں کہ لڑکی مزید کھل کر بیٹھ گئی

"تم جیسے مرد تنہائی سے نہیں، صرف جسم سے ڈرتے ہیں تو سوچا شاید میں تمہاری رات کی ضرورت بن جاؤں"

 وہ مسکرائی اور عون کے ہاتھ سے گلاس لے کر ایک ہی سانس میں ختم کر دیا اس کی بات پر عون عجیب طریقے سے مسکرایا 

" کس چیز کی ضرورت ہے مجھے؟"

 اس نے اس لڑکی کے چہرے کو دھیرے سے چھوا لڑکی دوبارہ مسکرائی اور اپنا چہرہ اس کے بالکل قریب لے گئی

" جس چیز کی تمہیں ضرورت ہے وہ میں سب کے سامنے نہیں دے سکتی"

 اس لڑکی نے بے حیائی سے کہا عون نے صرف ایک نظر ڈالی وہ نظر جو شکار کرنے سے پہلے شیر ڈالتا ہے پھر بغیر کچھ بولے اٹھا، جیسے فیصلہ پہلے ہی کر چکا ہو اور بار میں بنے بہت سے کمروں میں سے ایک کی طرف بڑھ گیا لڑکی اونچی ہیل پر مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں چلی آئی دروازہ بند ہوا، روشنی بجھی اور عون کی روح مزید اندھیرے میں ڈوب گئی لڑکی نے اسے دیکھتے دروازہ لاک کر دیا اور ساری لائٹس بھی آف کر دیں لڑکی کا چہرہ قریب آیا، لیکن عون کی نظروں میں اچانک وہ سیاہ آنکھیں ابھریں، وہی جو اسے بے بسی سے گھور رہی تھیں ایک لمحے کو وہ رکا، پر وہ لمحہ بھی سگریٹ کے دھوئیں کی طرح اڑ گیا

جسم کا نشہ، روح کی پیاس کبھی نہیں بجھاتا

☆☆☆


" نور میری بیٹی ہے"

 وہ روتے ہوئے کمرے میں پہنچی اور وہیں کمرے کے وسط میں گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی 

" میری بیٹی مجھ پر بوجھ نہیں ہے"

 اس کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں 

" مجھے اب احساس ہو گیا ہے"

 اس نے اپنے دونوں ہاتھ لبوں پر رکھ دیے

" میری بیٹی۔۔۔ میری بیٹی"

 اس نے بے دردی سے اپنی آنکھوں کو رگڑا اس کا یقین جو پاش پاش ہوا تھا جڑنے لگا سارے منفی خیالات ختم ہونے لگے ٹوٹا ہوا دل جڑنے لگا وہ تیزی سے اٹھی اور باہر کی طرف بھاگی قدم یہاں وہاں پڑنے لگے تھے خوشی اتنی تھی کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی  وہ رو رہی تھی اور شاید ہنس بھی رہی تھی اس نے دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ رک گئی اندر آئیمہ سراج سے لڑ رہی تھیں 

" یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں سراج کل نور کا نکاح؟ مگر کس کے ساتھ اور آپ نے اتنی جلدی فیصلہ کر بھی لیا"

 وہ ٹھٹکی 

" ہاں کل نکاح ہے اس کا اور میں فیصلہ کر چکا ہوں تم بھی جا کر اپنی بیٹی کو بتا دو کہ وہ تیار ہو جائے اور یہاں پر انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے"

 سراج نے ناگواری سے کہا 

" مگر وہ ہے کون؟"

 اب کہ ان کو اچھنبا ہوا تھا 

" میرا باس ہے! اور۔۔"

 وہ ایک لمحے کو رکے

" اور وہ بدلے میں کچھ بھی نہیں لے رہا بس سادگی سے نکاح کرنا چاہتا ہے کوئی چیز بھی نہیں لے گا اور۔۔۔"

 وہ ایک دم چپ ہو گئے آئیمہ بیگم پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھیں 

" اور؟"

 انہوں نے پوچھا 

" وہ مجھے نور کے بدلے چھ کروڑ دے رہا ہے"

 انہوں نے اب جا کر اصل " وجہ"  بتائی تھی آئیمہ نے صدمے سے انہیں دیکھا

" کیا کہا چھ کروڑ کیا آپ میری بچی کو چھ کروڑ میں بیچ کر آگئے ہیں"

 وہ پھٹی ہوئی آواز میں چلائی تھیں باہر کھڑی نور نے بے اختیار دیوار کا سہارا لیا تھا وہ خود کو گرنے سے بچانا چاہتی تھی 

" ہاں ہاں بیچ دیا میں نے اسے سودا کر دیا اس کا جا کر اپنی اس بیٹی کو سمجھا دو اگر اس نے انکار کیا تو جان سے مار دوں گا اس کو"

 وہ چلائے نور کس طرح واپس پہنچی یہ صرف وہی جانتی تھی اس کی آنکھیں خشک ہو چکی تھیں جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا کمرے میں پہنچ کر اس نے دروازہ دھیرے سے بند کیا اور وہیں ٹیک لگا کر بیٹھ گئی گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے وہ اپنی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی اس کے پیچھے دروازہ پیٹا جا رہا تھا مگر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھیں کنواں بن گئیں

☆☆☆


وہ چار لڑکیوں کا گروپ تھا جو یونی گراونڈ میں ایک دوسرے کے سامنے آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں ان کی گفتگو کا موضوع صرف ایک ہی شخص تھا 

" یار سونیا، سچ کہوں تو اگر وہ مجھے ایک بار دیکھ لے نا تو میں اپنی ہر بیوٹی پارلر کی رسید اس کے نام کر دوں میں نے آج تک اپنی زندگی میں اتنا پرفیکٹ بندہ کبھی نہیں دیکھا"

 بولنے والی کے چہرے پر اتنا میک اپ تھا کہ اس کی اصل شکل کی پہچان مشکل تھی 

"یسع اس طرح کا لڑکا ہے جسے دیکھ کر دعائیں نکلتی ہیں، اور دل کہتا ہے... پلیز میرا نصیب ایسا ہو!"

ماہا کا انداز ہائے والا تھا

"ایک تو وہ ہینڈسم اتنا ہے کہ نگاہ نہیں ٹکتی اور اوپر سے اس کی پرسنیلٹی ایسی ہے کہ ہر کوئی اسے مڑ مڑ کر دیکھتا ہے "

سونیا نے برگر تقریباً منہ میں ٹھونستے ہوئے کہا 

"اور اوپر سے وہ چلتا ایسے ہے جیسے پورا ٹائی ٹینک یونیورسٹی کی واک وے پر اتر آیا ہو!"

اس کی آواز پھنسی پھنسی سی تھی 

" اور تو اور وہ لڑکیوں کو نظر اٹھا کر دیکھتا بھی نہیں ہے میں نے اسے اکثر یونی کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے یعنی جس نے بھی اس کی تربیت کی ہے کمال کی ہے!  ہے نا ماہ رخ؟"

یہ ماہا تھی جس نے اضافہ کرنے کے ساتھ، ساتھ بیٹھی ماہ رخ سے تائید بھی چاہی ماہ رخ نے ناگواری سے انہیں دیکھا 

"واہ بھئی، بندہ نماز پڑھ لے تو ولی سمجھ لیا جاتا ہے... باقی سب گرلز کی ریپیوٹیشن گئی گٹر میں؟"

اس کا انداز اونہہ والا تھا 

" حد ہے بھئی تمہیں تو صرف اپنے بابا ہی ہینڈسم لگتے ہیں باقی گئے بھاڑ میں"

 سونیا نے ناک بھوں چڑھائی جبکہ ماہ رخ  دھیرے سے مسکرا دی تھی 

" یار بس ایک بار تم اسے غور سے دیکھو تو سہی اگر پھر بھی تمہارا دل نہیں دھڑکتا تو میں یہی کہوں گی کہ تمہارے اندر کوئی جذبات نہیں ہیں"

یہ دانیہ تھی 

" فلحال مجھے اس میں کوئی بھی دلچسپی نہیں ہے اور پلیز یار کوئی اور بات کر لو میں پچھلے آدھے گھنٹے سے یسع نامہ سن سن کر بور ہو گئی ہوں" 

ماہ رخ نے کتاب بند کر کے بیگ میں ڈالی 

" ارے وہ دیکھو یسع!"

ماہا نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا سب نے بیک وقت اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا دور سبزہ زار پر وہ سنجیدہ نظروں سے موبائل پر کچھ دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا اس کے ایک کندھے پر بیگ لٹک رہا تھا ماں رخ بے اختیار ہی اسے دیکھنے لگی تھی اس نے دیکھا کہ جہاں سے بھی وہ گزرتا تقریباً ہر کوئی مڑ مڑ کر اسے دیکھ رہا تھا خاص طور پر لڑکیاں مگر اس نے کسی بھی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا تھا جب تک وہ گاڑی میں بیٹھ کر چلا نہ گیا وہ دیکھتی ہی رہی

"میں نے مذاق کیا تھا، تم نے تو پوری فلم لگا لی آنکھوں میں چل ہٹو، کہیں افسانہ نہ بن جائے!"

 دانیا نے اس کی محویت دیکھی تو اسے چھیڑتے ہوئے بولی ماہ رخ نے سر جھٹکا 

"اور سنو، یسع صرف ہینڈسم نہیں، پیور بلڈ ہے...کلاسک legacy 

کا بیٹا، اس کی ماں ایک کوئین ہے، باس لیڈی ٹائپ، اتنی سویٹ ہیں کہ حد نہیں میں نے ان کو دیکھا بھی ہے میرے بھائی ان کے آفس میں کام کرتے ہیں بھائی نے یسع کو کئی بار ان کے آفس میں دیکھا ہے یسع کی ممی بہت باوقار اور بہت خوبصورت ہیں بھائی ان کی بہت تعریفیں کرتے ہیں اور تم لوگوں کو یہ بھی بتا دوں کہ یسع کے والد کی اس کے بچپن میں ہی ڈیتھ ہو گئی تھی انہوں نے اسے اکیلے پالا ہے یسع کو دیکھ کر تو کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ وہ سنگل پیرنٹس کی اولاد ہے یقیناً اس کی ممی نے بہت محنت کی ہے ورنہ تو عموماً بنا باپ کے بچوں کو بگڑتے ہی دیکھا گیا ہے"

 ماہا نے پوری رپورٹ ان کے سامنے رکھ دی وہ دونوں دلچسپی سے اسے سن رہی تھیں جبکہ ماہ رخ نے پھر سے کتاب اٹھا لی مگر اس بار وہ خاموش رہی تھی

☆☆☆


ماما پچھلے دو گھنٹے سے اسے سمجھا رہی تھیں وہ بہت رو رہی تھیں معافی بھی مانگ رہی تھیں نور بالکل چپ سی بیٹھی تھی جیسے اسے کسی چیز سے فرق نہیں پڑ رہا آج اس کا نکاح تھا کل سے وہ ایک لفظ بھی نہیں بولی تھی اس کی سیاہ آنکھیں بالکل ویران اور بنجر سی ہو گئی تھیں ماما کو ہول اٹھ رہے تھے کہ وہ بولتی کیوں نہیں ہے کوئی گلا کوئی شکوہ کوئی شکایت کچھ تو کہے مگر اس نے اپنے لب سی لیے تھے تھوڑی دیر میں سراج الحسین نکاح خواہ کے ساتھ اندر داخل ہوئے وہ نور کا چہرہ دیکھنا چاہتے تھے مگر نہ دیکھ پائے کیونکہ نور کا چہرہ گھونگٹ میں چھپا ہوا تھا سراج الحسین نے تو گویا بے حسی کا خول ہی چڑھا لیا تھا جیسے انہیں کسی چیز سے فرق ہی نہیں پڑ رہا کہ وہ کیا کر رہے ہیں نکاح کے بعد ایک لڑکی اس کے پاس آئی تھی وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی

" بھابھی چلیں؟"

وہ خوبصورت سی لڑکی اس سے پوچھ رہی تھی اس نے کوئی بھی جواب نہیں دیا اور دھیرے سے کھڑی ہو گئی رخصتی کے وقت ہادی اس کے پاس آیا وہ بہت رو رہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس سے بہت پیار کرتا ہے اور بابا نے اس کے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں کیا وہ اپنے بابا کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گا نور نے بنا کچھ کہے اس کا گال تھپتھپایا جب کہ وہ اس سے لپٹ کر بچوں کی طرح رونے لگا تھا

"آپی پلیز مجھے معاف کر دیں میں کچھ بھی نہیں کر سکا آپ کے لیے "

وہ صرف یہی کہہ پا رہا تھا نور نے اسے الگ کرتے اس کے آنسو صاف کیے ماما سے ملنے کے بعد وہ فوراً ہی پلٹ گئی تھی کیونکہ اس نے دیکھا تھا بابا اس کی سر پر ہاتھ رکھنے کے لیے آگے بڑھے تھے


جاری ہے

Comments

Popular Posts