Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Gunhegaar EP 3 by Munaza Niaz

 


ناول: گنہگار از قلم منزہ نیاز 

تیسری قسط


پورا راستہ وہ خاموش بیٹھی رہی جبکہ اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی مسلسل بول رہی تھی وہ اس کو بتا رہی تھی کہ کیسے وہ بھائی کی نظروں میں آئی اور کیسے بھائی اس کی محبت میں گرفتار ہو گئے اننًا فاننًا نکاح کی وجہ بتاتے ہوئے وہ تھوڑی اداس ہو گئی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ اس کے پیرنٹس ( نور کے) نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا بقول بھائی کے   اس کے والد نے خود کہا کہ وہ ان کی بیٹی سے شادی کر لیں کیونکہ انہیں اپنی بیٹی پر اعتبار نہیں رہا تھا بھائی ناراض تو بہت ہوئے کہ کوئی اپنی اولاد پر ایسے کیسے شک کر سکتا ہے

" خیر اچھا ہوا کہ بھائی نے آپ کو دیکھ رکھا تھا اس لیے انہوں نے آپ سے نکاح کر لیا میرے بھائی کا دل بہت بڑا ہے بھابھی آپ پلیز ان کو غلط مت سمجھیے گا وہ بہت اچھے انسان ہیں"

نور کی آنکھیں باہر کے منظر میں نہیں، اپنے اندر کے طوفان میں کھوئی ہوئی تھیں الفاظ سنائی تو دے رہے تھے، مگر دل سننے سے انکاری تھا اس کا دل کر رہا تھا کہ بس دھاڑیں مار مار کر روئے اتنا روئے کہ اس کی آنکھیں خشک ہو جائیں تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ اس خوبصورت سے بنگلے میں پہنچے سارہ نور کو اس کے کمرے میں چھوڑنے کے بعد سیدھا عون کے سر پر پہنچی تھی وہ دوسری گاڑی سے آیا تھا وہ لاؤنج میں کھڑا موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بہت غصے میں ہے سارہ سینے پر بازو باندھے کھڑی اسے گھورنے لگی بات کرنے کے بعد موبائل رکھتے ہوئے عون نے نا سمجھی سے اس کو دیکھا 

" کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟"

سیاہ ڈنر سوٹ میں وہ بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا

" بھائی مجھے لگتا ہے کہ بھابھی بالکل بھی خوش نہیں ہیں "

سارہ نے کہا

" اوہ کم آن سارہ ایسا کچھ نہیں ہے یہ نکاح اس کی مرضی سے ہوا ہے اور یقیناً وہ خوش بھی ہوگی بس اتنی اچانک شادی پر اپ سیٹ ہو گئی ہوگی! اوہ پلیز مجھے گھورنا بند کرو میں سچ کہہ رہا ہوں یا پھر تم اپنے بھائی پر شک کر رہی ہو ہاں؟"

 آخر میں عون نے آنکھیں چھوٹی کیں سارہ دھیرے سے ہنس دی

" اوکے اوکے کچھ نہیں کہتی میں اچھا یہ تو بتائیں کہ آپ نے بھابھی کے لیے کوئی گفٹ لیا؟"

عون نے ماتھا چھوا

" اوہ وہ تو میرے ذہن سے نکل گیا"

" بھائی حد کر دی آپ نے اچھا رکیں ایک منٹ میں ابھی آتی ہوں، یو خالی ہاتھ مت جائیے گا ان کے پاس۔ کتنا برا لگے گا "

اس کی بات سنے بغیر وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی عون اسے دیکھتا رہا کتنی معصوم کتنی سادہ تھی اس کی بہن سارہ کی سادگی نے اسے مزید شرمندہ کر دیا تھا وہ کیسا شخص تھا اگر سارہ کو اس شادی کی اور اس کی خود کی حقیقت معلوم ہو جاتی تو وہ جیتے جی مر جاتی اور وہ ایسا نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بہن کو کچھ بھی معلوم ہو دو منٹ بعد وہ پھر سے اس کے سامنے کھڑی تھی

" یہ لیں بھائی!"

 اس نے ایک ہیرے کی خوبصورت سی انگوٹھی اس کے سامنے کی

" یہ کہاں سے آئی تمہارے پاس؟"

عون نے اچھنمبے سے کہتے ہوئے وہ انگوٹھی لے لی

" یہ ماما کی ہے بابا نے ان کو دی تھی"

عون کے ہاتھ میں انگوٹھی رکھتے ہوئے سارہ کی آنکھیں چمک رہی تھیں مگر عون کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا 

" جس دن بابا کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی انہوں نے ماما کی اس نشانی کو مجھے سونپ دیا تھا اور اب میں یہ آپ کو دینا چاہتی ہوں آپ یہ بھابھی کو پہنا دیجئے گا"

اس کی آنکھیں ہلکا سا نم ہوئیں مگر وہ مسکرا دی عون نے کچھ نہیں کہا بس دھیرے سے سر ہلایا دیا اس انگوٹھی کو نور کو دینے کا اس کا کوئی بھی ارادہ نہیں تھا وہ جانے کے لیے بڑھا ہی تھا کہ سارہ نے پھر سے اس کا راستہ روک لیا 

" ارے بھائی اتنی بھی کیا جلدی ہے پہلے میرے پیسے نکالیں"

 اس نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے اپنی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی 

" ڈرامے باز!" 

عون نے اسے واپس اپنی ٹون میں لوٹتا دیکھ کر کہا پھر اس نے اپنا بٹوا ہی اس کی ہتھیلی پر رکھ کر اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو 

" جان چھوڑو میری" 

سارہ اچھل پڑی اب وہ واقعی میں مشکوک ہو گئی تھی عون اسے نظر انداز کرتا آگے بڑھ گیا اس کے چہرے پر بڑی گہری مسکراہٹ تھی

☆☆☆

وہ سونیا کے ساتھ کینٹین گئی تھی سونیا کے پیٹ میں اتنے چوہے کود رہے تھے کہ اگر ماہ رخ  اس کو کچھ نہ کھلاتی تو وہ اسے "کنجوس" کا طعنہ دے مارتی اور سب کو پتہ تھا کہ وہ کنجوس لفظ سے کتنا چڑتی ہے  دیکھتے ہی دیکھتے سونیا نے پانچ برگر آرڈر کر دیے ساتھ میں چار عدد کول ڈرنکس اور دو لارج سائز پزا۔۔

سونیا نے ایسے آرڈر دیا جیسے جنگ سے لوٹی ہو اور نیت ہو کہ آئندہ دس دن پھر بھوکا رہنا ہے رخ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگے

" کیا تم یہ سب اکیلے کھا جاؤ گی؟"

 وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی

" کیوں نہیں یار ویسے میں اتنی بھوکی بھی نہیں ہوں۔ تم سب کو بھی کھلاؤں گی۔ حد ہے مجھ پر اتنا شک کیوں کرتی ہو"

 سونیا نے دانت نکالے اور کھانے کے ڈبے اوپر نیچے رکھتی نو دو گیارہ ہو گئی ماہ رخ نے ایک گہری سانس بھری پھر اپنا پرس کھولا اور اگلے ہی پل اس کے اوسان خطا ہو گئے اس کا پرس بالکل خالی تھا یقیناً دانیہ نے سارے پیسے نکال لیے تھے کیونکہ تھوڑی دیر پہلے اس نے نوٹس کاپی کروانے کے لیے اس کے پرس سے اس سے " پوچھ" کر ہی پیسے نکالے تھے مگر اسے کیا معلوم تھا کہ وہ سارے ہی اڑا لے جائے گی اس کا دل بیٹھنے لگا، زمین جیسے قدموں کے نیچے سے کھسکنے لگی تھی نہ خود پر غصہ کم ہو رہا تھا، نہ دانیہ کو معاف کرنے کا دل چاہ رہا تھا

اس کا گلا خشک ہو گیا تب ہی، جیسے کائنات نے شرمندگی کے لمحے کو مزید بھاری کرنا چاہا ہو، وہ شخص اس کے بالکل قریب آ کھڑا ہوا

" ایک واٹر بوٹل"

 وہ بولا تھا

"وہ۔۔۔ اصل میں میرے پیسے۔۔۔میں ابھی لا دیتی ہوں"  

اس کی آواز میں گھبراہٹ  تھی کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے نے پہلے پانی کی بوتل یسع کے سامنے رکھی پھر ماتھے پر بل ڈالے اس نے ماہ رخ کو دیکھا

" ہرگز نہیں مجھے ابھی اور اسی وقت اماؤنٹ چاہیے میں ادھار بھی نہیں دوں گا "

یسع نے بے اختیار ایک لمحے کو رخ کو دیکھا اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا اب وہ اپنی پیمنٹ کر رہا تھا 

" میں کہہ رہی ہوں نا کہ ابھی لے کر آتی ہوں! مجھے جانے دیں"

 اس نے دانت بھینچتے  ہوئے مگر ضبط سے کہا شرم سے اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا کیا سوچتا ہوگا یسع کہ بنا پیسے منہ اٹھا کر کہیں بھی پہنچ جاتی ہوگی بے اختیار ہی اس نے سوچا 

" کتنی پے منٹ ہے؟"

یسع نے کاونٹر بوائے سے پوچھا

" آپ کر تو چکے ہیں"

 لڑکا نہ سمجھی سے بولا

" میں ان کی بات کر رہا ہوں"

 اس نے رخ کی طرف اشارہ کیا 

" سات ہزار چھ سو ساٹھ روپے"

 یسع نے دس ہزار نکال کر ماہ رخ  کی طرف بڑھا دیے 

" آپ خود پے منٹ کر دیں "

اس کے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے وہ بولا

" تھینک یو!"

ندامت سے کہتے ہوئے اس نے پیسے پکڑ لیے جب کہ وہ بنا کچھ اور کہے اپنی بوتل اٹھائے پلٹ گیا اس نے جلدی سے پیمنٹ کر کے بقایا لیا اور اس کے پیچھے لپکی 

" یسع!" 

 اس نے دور سے پکارا وہ چونک کر مڑا اکاً دکاً اسٹوڈنٹس نے بھی ان کو دیکھا تھا۔ اتنا اونچا چلانے کی کیا ضرورت تھی اس نے خود کو کوسا پھر اس کے پاس چلی آئی 


" یہ آپ کا بقایا اور باقی کی رقم میں کل آپ کو لوٹا دوں گی"

 اس نے پیسے اس کی طرف بڑھائے

" اس کی ضرورت نہیں تھی ویسے"

 ایک نظر اس کو دیکھنے کے بعد اس نے نظریں ہٹا لیں

" پلیز آپ مجھے مزید شرمندہ مت کریں"

 وہ غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی کیونکہ وہ اس کی آنکھوں میں نہیں اس کے پاؤں کی سپیدی میں گم تھا۔ اس کی بات سن کر یسع نے ایک نظر اسے دیکھا اور پیسے لے لیے ہلکا سا مسکرا کر سر کو خم دیا اور پلٹ گیا

اور ماہ رخ کے دل کی دنیا وہیں تہہ و بالا ہو گئی

کبھی کبھی شرمندگی کے لمحے قسمت کا سب سے حسین تعارف بن جاتے ہیں

☆☆☆

کمرے میں بیڈ پر بیٹھی وہ خالی از ذہنی سے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی پورا کمرہ کسی بھی سجاوٹ سے خالی تھا بس ایک گلاب کے پھولوں کا گلدستہ سامنے رکھی ٹیبل پر پڑا تھا پورے کمرے میں اتنی خاموشی تھے کہ اس کا دل پھٹنے لگا اس نے سفید ہلکے کام کا جوڑا پہن رکھا تھا میک اپ کے نام پر اس نے کاجل اور لپ سٹک لگائی تھی جو کہ ماما نے زبردستی ہی لگائی تھی آدھے گھنٹے بعد وہ بنا دستک دیے اندر داخل ہوا تھا جیسے ہی نور کی نظر اس پر پڑی اس کا سانس رک گیا وہ تو اس شخص کو اس حادثے کو کب  کا بھلا چکی تھی وہ دھم سے اس کے سامنے آ بیٹھا 


" کیسی ہو نور کہیں مجھے بھول تو نہیں گئیں یقیناً میں تمہیں یاد ہوں گا"

 وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا مسکرایا پورے کمرے میں اس کے کولون کی مہک پھیل گئی یک دم ہی نور کا دم گھٹنے لگا تھا اس نے بے اختیار اپنی ہتھیلیاں رگڑ ڈالیں 

" تمہیں پتہ ہے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ تمہیں دوبارہ بغیر نقاب کے اس قدر قریب ہو کر دیکھوں گا"

وہ دھیرے سے ہنسا جیسے سب کچھ اس کی سوچ کے مطابق ہو رہا ہو

" اور دیکھو میں نے ہار نہیں مانی اور تمہیں حاصل کر لیا ویسے تمہارا باپ بہت ہی لالچی اور گھٹیا نکلا، کیسے چھ کروڑ میں تمہیں بیچ دیا حالانکہ تمہاری قیمت تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے"

عون نے اس کا مومی ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا وہ اس کے کانوں میں جان لیوا سرگوشیاں کر رہا تھا

" تمہیں پتہ ہے جب مجھے کوئی "چیز" اچھی لگے تو میں اسے حاصل کر کے رہتا ہوں چاہے اس کے لیے مجھے اپنی جان ہی کیوں نہ گوانی پڑے "

نور کی پلکیں لرزیں، اس کا ذہن لفظ 

"چیز" پر اٹک گیا تھا کیا وہ ایک چیز تھی 

" یہ سب کیا کہہ رہے ہیں آپ؟"

اس کی آواز کانپی وہ اس کے اتنا نزدیک تھا کہ وہ اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی 

" سمجھا دوں گا سب اب اتنی بھی کیا جلدی ہے آخر کو پورے پانچ مہینے ہیں تمہارے پاس"

 وہ اس کے چہرے کے نقوش کو حفظ کرتا مدھم آواز میں بولا 

" پانچ مہینے؟"

 وہ بنا آواز کے بولی تھی عون نے اس کے لبوں کی حرکت دیکھی پھر ہنس دیا

" بالکل پانچ مہینے بعد میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ کہیں تم سارہ کی باتیں تو نہیں سوچ رہی ضرور اسی نے کہا ہوگا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ پتہ نہیں وہ بھی کیا کیا بولتی رہتی ہے تم اس کی باتوں پر زیادہ دھیان مت دیا کرو"

 نور کی آنکھیں برسنے کو بے تاب ک

ہوئیں پتہ نہیں اب اور کیا کیا تھا جو سننے کو رہ گیا تھا اس کے آنسو ٹھوڑی سے ہوتے ہوئے عون کے ہاتھ پر گرے اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی جو ابھی تک عون کی مضبوط گرفت میں تھا عون نے غصے بھری نگاہوں سے اس کو دیکھا

" آرام سے بیٹھو پہلے میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا کیونکہ تم اس وقت اپنی من مانی کر سکتی تھی مگر اب صرف میری مرضی چلے گی تم میرے ہر حکم کی پابند ہو چکی ہو"

 وہ تڑپ اٹھی اور رو دی

" یار مت رویا کرو دل کٹتا ہے میرا "

وہ اگلے ہی پل مدھم سرگوشی میں بولا پھر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے اس کی بھیگی پلکوں کو چوم لیا نور اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے اسے پیچھے کرنے لگی تھی کہ عون نے اس کے دونوں ہاتھ سختی سے پکڑ لیے اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے عون نے اسے شدت سے روتا دیکھا اور اگلے ہی لمحے اسے اپنے قریب کر لیا

" دوبارہ اگر تم نے کچھ ایسا کیا تو اچھا نہیں ہوگا "

وہ غرایا 

" مم۔۔۔ مجھے ماما سے بات کرنی ہے پلیز میں ان سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں "

وہ بے ربط بولی تھی اس کے لب بری طرح کپکپائے تھے 

" کبھی بھی نہیں بھول جاؤ ان سب کو"

وہ تیزی سے اٹھا کوٹ اتار کر پرے پھینکا اور ساری لائٹس آف کر دیں

☆☆☆

دروازے پر دستک سے پہلے اس نے ہلکی سی سانس لی، جیسے کسی خاص ملاقات سے پہلے خود کو تیار کر رہا ہو۔ پھر آہستگی سے انگلیوں کی پوروں سے دروازہ بجایا

" یس کم ان"

 اندر سے خوبصورت نسوانی آواز گونجی وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا ان کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی ممی کا سر چومتے ہوئے سلام کیا پھر ان کے سامنے کرسی پر بیٹھا مسز میر نے مسکرا کر سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا وہ ایک ایسی خاتون تھیں جنہیں دیکھ کر وقت بھی چند لمحوں کو رک جاتا سادگی اور وقار کا ایسا امتزاج جو کم ہی عورتوں کو نصیب ہوتا ہے وہ واقعی میں بہت خوبصورت تھیں

" بہت بزی ہو گئی ہیں آپ اب تو آپ کو اپنے بیٹے کی بھی یاد نہیں آتی "

وہ ان سے مسکرا کر شکوہ کر رہا تھا وہ جو کسی پروجیکٹ کی فائل دیکھ رہی تھیں اس کی بات سن کر ہولے سے ہنسی ہنستے ہوئے وہ مزید پرکشش لگتیں

" ممی یو نو ایسا لگتا ہے کہ آپ میری مام نہیں بلکہ گرل فرینڈ ہیں آج بھی لڑکیاں آپ سے جیلس ہوتی ہیں جب بھی آپ میرے ساتھ چلتی ہیں لڑکیاں آپ کو دیکھ کر آہیں بھرتی ہیں اور میں سوچتا ہوں، ممی اگر آپ میری ایج گروپ کی ہوتیں تو میرا دل شاید آپ ہی پر آ جاتا"  

وہ شوخی سے بولا، تو مسز میر نے آنکھیں گھمائیں 

 "بکواس بند کرو بدتمیز!"

وہ اسی طرح مسکراتا رہا پھر مسز میر نے دلچسپی سے اس کو دیکھا

" اچھا اور وہ کیوں اتنا جیلس ہوتی ہیں حالانکہ تم بھی تو میرے ساتھ ہوتے ہو کیا معلوم وہ تمہیں دیکھتی ہوں "

انہوں نے سامنے ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ باہم پھنساتے ہوئے آگے ہو کر مسکراتے ہوئے یسع کو چھیڑا

" جی نہیں! وہ آپ سے اس لیے جیلس ہوتی ہیں کیونکہ آپ ان سے زیادہ ینگ اور سمارٹ لگتی ہیں اور میک اپ تو بالکل بھی نہیں کرتیں"

 وہ کہاں باز آنے والا تھا اس کی بات پر وہ بے اختیار ہی ہنستی چلیں گئیں وہ بھی ہنس دیا 

" بس کرو! اب اتنی بھی جوان نہیں ہوں میں"

انہوں نے ٹشو اٹھا کر آنکھیں تھپتھپائیں وہ جانتا تھا کہ اس کی زندگی میں سب کچھ مکمل نہیں، مگر ایک ماں کا وجود، ایسا خزانہ تھا جسے وہ کبھی کھونا نہیں چاہتا تھا

" میرے ساتھ ڈنر پر چلیں گیں؟"

وہ اٹھ کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا پھر اپنا مضبوط ہاتھ ان کے سامنے پھیلا لیا

" ضرور کیوں نہیں جاؤں گی یقیناً تم اب کی بار مجھے کسی لڑکی سے ضرور ملواؤ گے"

 انہوں نے مسکرا کر اپنا نازک ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا اور اٹھ کھڑی ہوئیں 

" کم آن! کیا میں آپ کو ایسا دکھتا ہوں؟"

وہ انہیں لیے باہر کی جانب بڑھا

" تم تو اتنے شریف ہو کہ لڑکیاں آ کر مجھے تمہاری شکایت کرتی ہیں کہ یہ ہمیں دیکھتا کیوں نہیں"

 انہوں نے یسع کا بازو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اب کی بار دونوں ہی ایک ساتھ ہنس دیے

کبھی کبھی ماں کی ہنسی میں پوری دنیا کی روشنی چھپی ہوتی ہے اور بیٹے کی مسکراہٹ میں وہ سکون جو دنیا کی کوئی دولت نہیں دے سکتی

☆☆☆

صبح کا مدھم سا اجالا کمرے میں اتر آیا تھا اس خاموشی میں دروازے پر ہونے والی دستک نے سکوت کو توڑا

اس نے اٹھ کر پہلے، پہلو میں لیٹی نور کو دیکھا پھر دروازے کی طرف 

" کون ہے؟"

" بھائی ناشتہ ریڈی ہے آپ بھابھی کو لے کر آجائیں "

سارہ کہتے ساتھ ہی واپس پلٹ گئی عون نے سر جھٹک کر پھر سے نور کو دیکھا اس کا سفید چہرہ سرخ تھا ماتھے پر اس دن کی لگنے والی چوٹ کا ہلکا سا نشان  اب بھی موجود تھا واپس لیٹتے ہوئے کروٹ کے بل اس نے اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھ دیا اور اگلے ہی لمحے اس نے تیزی سے واپس کھینچا اسے لگا جیسے اس کے ہاتھ میں کسی تپتے ہوئے لوہے کی تپش سما گئی ہو یہ صرف بخار نہیں، شاید وہ تمام درد تھا جو وہ چھپا گئی تھی اگلے ہی پل وہ اس پر جھکا اس کا چہرہ تھپتھپانے  لگا 

" نور آنکھیں کھولو! نور۔۔"

 بخار کی حدت سے اس کا جسم جل رہا تھا یقیناً وہ بے ہوش ہو چکی تھی اس نے جلدی سے اسے بازوؤں میں اٹھایا اور باتھ روم میں چلا گیا ایک بازو اس کی کمر کے گرد اور دوسرے ہاتھ سے اس نے شاور چلا دیا نور کا سر اس کے سینے سے جا لگا اسے دوسرے ہاتھ سے اپنے سامنے کرتے ہوئے پھر سے پکارا، پانی سے اس کا بخار کم کرنے کی اس کی اپنی سی کوشش تھی نور کا سرخ مومی چہرہ پانی کے قطرے گرنے سے مزید پرکشش لگ رہا تھا اور پھر اس کی آنکھیں ہلکی سی لرزی تھیں وہ اس کی دھیمی سانس کو چلتے ہوئے محسوس کر سکتا تھا وہ اسے بے اختیاری دیکھے گیا کوئی اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے پانی پوری طرح ان کو بھگو چکا تھا اس نے شاور بند کر دیا نور نے آنکھیں کھول لیں تھیں اور وہ اجنبی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی اور اگلے پل ان آنکھوں میں شناسائی کی رمک ابھری سب کچھ یاد آنے پر وہ اس سے بے اختیار ہی دور ہونے لگی اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا آنسو پھر سے رواں ہونے لگے عون نے اس کے سوجے ہوئے پپوٹوں کو دیکھا وہ پچھلے کئی دنوں سے رو رہی تھی اور کل رات بھی وہ روتی رہی تھی اس کی گرفت میں مچلتی وہ دور ہونے کی پوری کوشش کر رہی تھی عون بے اختیار ہی جھکا تھا پہلے اس کا رخسار چوما پھر ہلکا سا اس کے ماتھے کو چھوتے ہوئے چھوڑ دیا اگلے پل وہ باہر تھا اسے خود بھی سمجھ نہیں آیا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے  کاش وہ اس کی آنکھوں سے اپنا عکس پڑھ سکتا، مگر وہ تو خود اپنی نظروں سے گر چکا تھا جبکہ اندر بیٹھی دیوار سے سر ٹکائے وہ روئے جا رہی تھی


جاری ہے

Comments

  1. Ufff adds itny hain yahan phrty phrty mood hi kharb kr diya 🙂‍↔️😡😔

    ReplyDelete
  2. Brilliant 👍🏻 as always 🫰🏻

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts