Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Gunhegaar EP 4 by Munaza Niaz
ناول: گنہگار
از قلم منزہ نیاز
قسط نمبر: 4
"کیا تم نکاح کرو گی مجھ سے؟"
طلحہ نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا اس نے تھوڑی دیر پہلے سارہ کی پوری بات سنجیدگی سے سنی تھی سارہ نے اسے بتایا تھا کہ عون کے نکاح کی وجہ سے وہ اس سے بات نہیں کر سکی کیونکہ اس سے موقع ہی نہیں ملا تھا اور اب وہ پریشان بھی دکھائی دیتی تھی جب اس نے کہا کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تو طلحہ نے نکاح کی بات کر دی پہلے تو سارہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی پھر رندھی ہوئی آواز میں بولی
"طلحہ! اگر بھائی کو معلوم ہو گیا تو؟ وہ تو مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے، میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں اور ان کو کھونا نہیں چاہتی ان کے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے "
آنسو اس کی پلکوں پر آکر ٹھہر گئے تھے
" تم مجھے بھول رہی ہو سارہ! دیکھو میری بات سنو جب ہمارا نکاح ہو جائے گا تو تمہارا بھائی کچھ بھی نہیں کر سکے گا کچھ دن تو شاید وہ ناراض رہے مگر زیادہ دن نہیں رہ سکے گا تم یقین رکھو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اگر تم مجھ پر بھروسہ رکھتی ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں میں ہر موڑ پر تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا، میں تمہارے لیے سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں، بس تم میرے ساتھ چلو۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں کبھی تنہا محسوس نہیں ہونے دوں گا"
سارہ نے کچھ نہیں کہا بس اسے دیکھتی رہی تھی
☆☆☆
" دو دن بعد ہمارا ٹرپ ناردن ایریاز کی طرف جا رہا ہے میں بھی جانا چاہتی ہوں"
ماہ رخ نے چاول کا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے کہا وہ دونوں اس وقت ڈنر ٹیبل پر موجود تھے ٹیبل پر پاپا اور رخ کے علاوہ کوئی نہیں تھا
" اتنی دور میں تمہیں کیسے بھیج سکتا ہوں رخ؟"
انہوں نے پانی کا گلاس واپس رکھتے ہوئے کہا
" او پاپا آپ بھی کیسی بچوں والی باتیں کرتے ہیں میں اکیلی کہاں ہوں گی وہاں پر تو میری ساری فرینڈز ہوں گی اور بھی بہت سے لوگ ہوں گے"
اس نے ذرا کی ذرا نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا
وہ سادہ شلوار قمیص میں ملبوس بہت باوقار اور جینٹل دکھ رہے تھے انہوں نے ہنسی دبانے کی کوشش کی، مگر آنکھوں کی چمک ان کی بیٹی کی شرارت کو سراہ رہی تھی
" اچھا اب میں تمہیں بچوں جیسی باتیں کرنے والا لگتا ہوں"
" آپ تو اتنے ہینڈسم ہیں کہ آج بھی لڑکیاں آپ پر مرتی ہیں"
یک دم ہی وہ کھانسنے لگے رخ نے جلدی سے پانی کا گلاس اٹھا کر انہیں تھمایا چاول شاید گلے میں پھنس گئے تھے پانی پی کر انہوں نے ماہ رخ کو تھوڑا ناراضگی سے دیکھا
" سچی پاپا میں تو کہتی ہوں آپ دوسری شادی کر ہی لیں کوئی بھی لڑکی آپ کو خوشی خوشی ہاں کہہ دے گی آپ کو دیکھ کر تو آنٹیز خود ہی پرپوزل بھیج دیں، بس آپ کے ہاں کہنے کی دیر ہے"
وہ شرارت سے بولی اور ساتھ ہی پاپا کی شرمندگی دیکھ کر ہنس دی
" تم بھول رہی ہو کہ اگلے مہینے میں پورے پچاس کا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی مجھے شادی جب کرنی ہی نہیں ہے تو اس موضوع سے تم احتراز ہی برتو بلکہ اب تو تمہاری شادی ہو جانی چاہیے کیوں؟ اگر کوئی پسند ہے تو بتاؤ پھر مل بھی لیتے ہیں"
وہ مسکراہٹ دبائے بول رہے تھے
ماہ رخ نے یکدم ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا
" ایک منٹ، ایک منٹ۔۔۔ یہ آپ کہاں سے کہاں بھاگے جا رہے ہیں۔ مجھے اگر کوئی پسند ہوگا تو بتا دوں گی اور پلیز آپ نے شادی نہیں کرنی تو مت کریں لیکن میری ایک اور بات مان جائیں پلیز پاپا "
اس نے ایک دم ان کا ہاتھ تھام لیا وہ مسکراہٹ دبائے انہیں دیکھتے رہے
" کیا میں چلی جاؤں؟"
اس نے اتنی معصومیت سے پوچھا کہ وہ بے اختیار ہنس پڑے
" اوکے چلی جانا مگر اپنا خیال رکھنا سمجھی"
انہوں نے دوبارہ کھانا شروع کر دیا
" تھینک یو پاپا! تھینک یو سو مچ ویسے آپ نے جتنا خود کو بوڑھا مان لیا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ تو ویسے بھی مجھے پینتیس چھتیس سے زیادہ نہیں لگتے صرف میری ہی نہیں باقیوں کی بھی یہی رائے ہے"
اس نے مسکراتے ہوئے کہا پہلے پہل تو انہوں نے اسے گھورا پھر دونوں ہی ہنس دیے
کبھی کبھی صرف ہنسی ہی کافی ہوتی ہے، کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر کچھ رشتے بس خاموش خوشیوں سے جڑے ہوتے ہیں
☆☆☆
شام تک اس کا بخار کم ہو چکا تھا سارہ نے اسے میڈیسن دے کر سلا دیا تھا جبکہ عون صبح سے آفس گیا ابھی تک نہیں آیا تھا
ہلکا سا سر کو دباتے ہوئے وہ اٹھی اور کمرے سے باہر چلی آئی لاؤنچ میں اس نے سارہ کو دیکھا وہ ملازمہ سے رات کے کھانے کا کہہ رہی تھی اسے آتے دیکھ، وہ اس کے پاس چلی آئی
" اب آپ کی طبیعت کیسی بھابھی؟"
اس نے نور کا ہاتھ تھام کر اسے لاؤنچ میں رکھے صوفے پر بٹھایا پھر ہلکا سا اس کا ماتھا چھوا
" پہلے سے کافی بہتر ہیں"
اس نے مسکراتے ہوئے کہا پھر خود بھی بیٹھ گئی
" اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو مجھے بتا دیتیں میں رات کو ہی آپ کو کوئی میڈیسن دے دیتی"
وہ شرمندگی سے بول رہی تھی
"نہیں اس کی ضرورت نہیں تھی بس ماما یاد آرہی تھیں "
اس کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ بامشکل سارہ سن پائی
" اچھا کوئی بات نہیں تھوڑی دیر تک بھائی آ جائیں گے وہ آپ کی بات کروا دیں گے تب تک آپ تیار ہو کر آ جائیں پھر ساتھ ہی ڈنر کرتے ہیں "
سارہ مسکرائی اور نور خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھے گئے
" مجھے قرآن پاک لا دو گی؟"
اگلے ہی پل اس نے کہا
" ہاں ضرور کیوں نہیں آپ کمرے میں چلیں میں لے کر آتی ہوں"
وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی جب کہ نور بنا کچھ اور کہے واپس اپنے کمرے میں چلی گئی
☆☆☆
جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو اس کی نظر سامنے کھڑی نور پر پڑی وہ عشاء کی نماز پڑھ رہی تھی کمرے میں مدھم سی خوشبو پھیلی تھی، شاید نور نے ابھی عطر لگایا تھا وہ اپنی عبادت میں اس طرح محو تھی جیسے دنیا اور وقت سب تھم گئے ہوں
تھوڑی دیر پہلے انہوں نے ساتھ مل کر ڈنر کیا تھا اس نے تھوڑا سا کھایا تھا پھر اوپر آگئی تھی جبکہ عون بیٹھا سارہ سے باتیں کرتا رہا تھا جب سارہ بھی " مجھے تو بہت نیند آ رہی ہے" کہہ کر اٹھی تو اسے بھی اپنے کمرے کی یاد ستانے لگی اس نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور جا کر بیڈ پر لیٹ گیا کروٹ کے بل لیٹے وہ بہت دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا
نور رکوع کے بعد سیدھی ہوئی اور ایک لمحہ ٹھہرنے کے بعد سجدے میں چلی گئی
عون کی نظر اس کے نازک قدموں پر ٹھہری، اس کی ایڑی پر بنا وہ سیاہ تل شاید اس نے پہلی بار غور سے دیکھا تھا اب وہ تشہد کی حالت میں بیٹھی تھی اس کی آنکھیں ہلکی سی کھلی ہوئیں تھیں اس کے لب ہل رہے تھے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی اس کی نظر اس کے چہرے پر ٹھہر سی گئی
اس نے پہلے دائیں طرف سلام پھیرا اس کا چہرہ عون کی نظروں سے مکمل طور پر ہٹ گیا
جب اس نے بائیں طرف گردن موڑی،
تو وہ لمحہ جیسے عون کے لیے ساکت ہو گیا تھا اس کی آنکھیں، وہ سکون بھرا چہرہ، سب کچھ عون کی سانسوں میں ٹھہر گیا وہ نماز میں اتنی محو تھی کہ اسے عون کی موجودگی کا بھی احساس نہیں ہوا تھا
جب وہ دعا مانگ کر اٹھی تو ٹھٹک گئی عون اسے ہی دیکھ رہا تھا مگر اس نے عون کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور جائے نماز رکھ کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ۔۔۔
" کہاں جا رہی ہو؟"
اس کے قدم تھمے لب کاٹتے ہوئے اس نے گہری سانس لی
" باہر!"
وہ دروازے کو دیکھ رہی تھی
" میں تو یہاں ہوں تو پھر باہر کس کے پاس جا رہی ہوں "
وہ کہنی کے بل تھوڑا اٹھا نور نے پلٹ کر دیکھا عون کے ماتھے پر بل تھے
" واپس آؤ "
اس نے تحکم سے کہا نہ چاہتے ہوئے بھی وہ بے بسی سے اس کے پاس جا کھڑی ہوئی عون نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے اپنے سامنے بٹھایا
" دور کیوں بھاگ رہی ہو مجھ سے؟"
اس نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیا نماز کی طرح لیے دوپٹے میں اس کا چہرہ دمک رہا تھا
" میں کہیں بھی نہیں بھاگ رہی بس میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی"
دائیں طرف چہرہ موڑے وہ پھر سے لب کاٹنے لگی عون نے بے اختیار قہقہہ لگایا
" ویسے اتنی بری شکل بھی نہیں ہے میری جس طرح تم دیکھ کر منہ پھیر رہی ہو اچھا چھوڑو یہ بتاؤ تم دعا میں کیا مانگ رہی تھی کہیں مجھے تو نہیں مانگ رہی تھیں "
عون نے اس کی تھوڑی پکڑ کر چہرہ اپنی طرف موڑا
" میں نے دعا کی کہ تم پانچ ماہ سے پہلے مجھے طلاق دے دو میں۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ تم مر جاؤں تمہیں کبھی زندگی میں سکون نہ ملے میں چاہتی تم اپنے گناہوں میں ہی بھٹکتے رہو تمہیں کبھی ہدایت نہ ملے"
اس نے بھرائی ہوئی آنکھوں سے اس بے دردی سے ہونٹ کاٹے کہ ان میں سے خون رسنے لگا
" تمہارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا تمہاری بددعا مجھ پر اثر نہیں کرنے والی مگر پھر بھی کوشش کرتی رہو میں تمہیں نہیں روکوں گا اس لیے پلیز جب تمہارا مجھ پر بس نہیں چلتا تو خود کو بھی اذیت مت دیا کرو اور تمہیں پتہ ہے کہ مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے جب تم ایسا کرتی ہو"
اس نے نرمی سے اس کے ہونٹ کو انگوٹھے سے چھوا ہلکا سا خون اس کے انگوٹھے پر لگ گیا اسے افسوس ہوا۔ جبکہ نور اس کو گھورتی رہی۔
پھر اس نے نور کو کندھوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا نہ چاہتے ہوئے بھی نور کے آنسو بہنے لگے
" اللہ کرے تمہیں کہیں بھی پناہ نہ ملے تم اتنی طویل زندگی جیو کہ جب تمہیں اپنے گناہوں کا احساس ہو تب تم موت مانگو اور تمہیں موت بھی نہ آئے"
وہ دھندلائی آنکھوں سے تیز ہوتی سانسوں کے ساتھ بولتی گئی۔ وہ جب جب اس کے پاس آتا تھا اسے گھٹن ہونے لگتی تھی۔
عون کا چہرہ اس کے اتنے قریب تھا کہ اس نے سانس روک لی عون نے مسکرا کر اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں دیکھا اتنا نزدیک ہونے کی وجہ سے وہ ان آنکھوں میں اپنا عکس بھی دیکھ پا رہا تھا
" واہ نور پہلے کہتی ہوں مر جاؤ پھر کہتی ہو لمبی زندگی جیو تم مجھے کنفرم بتاؤ کہ تم ان دونوں میں سے کیا چاہتی ہو؟"
اس نے نور کا سر پر لیا دوپٹہ ہلکا سا کھینچا وہ پھسل کر کندھوں پر گر گیا سیاہ بالوں کے لٹیں چہرے کی اطراف میں جھولنے لگیں
"مم۔۔۔میں کچھ بھی نہیں چاہتی تم مجھے چھوڑ دو بس ابھی طلاق دے دو اس کے علاوہ میں کچھ بھی نہیں چاہتی "
اس کے اس طرح دیکھنے پر اس کی روح تک کانپ گئی آنسو مزید تیزی سے گرنے لگے تھے نفی میں سر ہلاتے عون نے اس کے دونوں بازو اپنے کندھوں کے گرد پھیلائے اور اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو باندھے اس کے کان میں سرگوشی کی
" میں تمہیں کبھی بھی طلاق نہیں دوں گا"
اور وہیں نور سناٹے میں رہ گئی۔
☆☆☆
وہ ایک پرانی کتاب کے اوراق پلٹتے ہوئے کسی اور ہی دنیا میں گم تھی اچانک ہی اسے احساس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے، جیسے کسی کے نگاہوں کی سوئیاں اس کی کھال میں چبھ رہی ہوں وہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی
اس نے چہرہ اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا مگر کوئی بھی نہیں تھا کچھ اسٹوڈنٹس بک ریک میں سے کتابیں نکال رہے تھے اور کچھ اس کی طرح سٹڈی ٹیبل پر بیٹھے پڑھ رہے تھے اس نے سر جھٹک کر پھر سے اپنی توجہ کتاب کی طرف مبذول کر لی
کچھ پل باد اس نے پھر سے سر اٹھا کر ترچھی نظروں سے دائیں طرف دیکھا مگر وہاں بھی ایسا کوئی نہیں تھا یک دم ہی اس کا دل کتاب سے اچاٹ ہو گیا اس نے جھنجھلا کر کتاب ہی بند کر دی اور پھر بالکل اچانک اسے اپنے سامنے یسع آتا دکھائی دیا اس کے قریب آنے سے پہلے ہی وہ غائب ہو گیا
وہ اب بائیں جانب سے آ رہا تھا اس کی مسکراہٹ جیسے رخ کی پسلیوں میں سردی دوڑا گئی تھی
اب وہ دائیں طرف سے۔۔۔۔ پھر پیچھے سے۔۔۔۔ ہر سمت یسع ہی تھا جیسے اس کی نظروں نے رخ کو گھیر رکھا ہو
اس نے گردن موڑ کر اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا وہ یسع تھا اس کا دل ایک لمحے کو جیسے بند ہو گیا
وہ جھٹکے سے اٹھی، کرسی پیچھے ہٹنے سے چرچرائی، اور وہ تیز تیز سانس لینے لگی
بک ریک سے کتاب نکالتے یسع نے ہاتھ اٹھا کر مسکرا کر اسے اشارہ کیا اس سے پہلے کہ وہ مکمل پاگل ہوتی پھرتی سے اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور بھاگ کے لائبریری سے نکلی اس کے چہرے پر پسینہ تھا ہتھیلیاں بھی بھیگی ہوئی تھیں
وہ کہاں جا رہی تھی اسے معلوم نہیں تھا اور پھر۔۔۔
ایک لمحے کو سب کچھ تھم سا گیا اس کا کندھا کسی کے مضبوط سینے سے ٹکرایا، اور وہ پیچھے کو ڈگمگا گئی
اس سے پہلے وہ پیچھے کی طرف گرتی کسی نے اسے دونوں بازؤں سے پکڑ کر تھام لیا جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی تھامنے والے نے فوراً اس کو چھوڑ دیا
اس نے سنہری آنکھیں اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا
" آر یو اوکے ؟"
وہ پوچھ رہا تھا۔
اس نے آنکھیں اٹھائیں سامنے وہی چہرہ، جس کا خیال بھی اس کے دل کی دھڑکنیں بےقابو کر رہا تھا۔۔۔
یہ خواب نہیں تھا، یہ حقیقت تھی
"ہا۔۔۔ ہاں!"
اس سے پہلے کہ وہ اس کا چہرہ پڑھ کر کوئی راز پا لیتا گھبراہٹ میں کہتی وہ جلدی سے واپسی کی طرف بھاگ گئی اس کا دل بے قابو ہونے لگا تھا یسع اسے دور تک جاتے ہوئے دیکھتا رہا
☆☆☆
صبح اس کی آنکھ کسی ایسی چیز کو سنتے ہوئے کھلی تھی جو شاید وہ پہلی بار سن رہا تھا اس نے خمار بھری آنکھوں سے اپنے پہلو میں دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا وہ بے قراری سے اٹھ بیٹھا
کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی آواز باہر سے آ رہی تھی وہ تیزی سے کھڑکی کے پاس پہنچا نیچے اس بڑے سے لان میں رکھی لکڑی کی ٹیبل سیٹ پر وہ بیٹھی تھی اس کے سامنے ایک کتاب کھلی تھی وہاں اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا وہ اپنی خوبصورت آواز میں ایسے پڑھ رہی تھی
عون سانس روکے اسے سنے گیا اس نے بچپن میں قرآن پاک پڑھا ہوا تھا اور اپنے استاد سے سنا بھی تھا مگر ایک عرصہ ہوا اس نے قرآن کو پڑھنا تو دور اسے دیکھا تک نہیں تھا اب تک تو شاید اسے قرآن پاک بھی بھول گیا تھا
ایک سکون جو چاروں طرف پھیلا ہوا تھا ایسا سکون جو روح کے اندر اتر کر اسے ہلا گیا جو شور مچاتی زندگی میں پہلی بار آیا تھا عون کو یوں لگا جیسے کسی گمشدہ چیز کی بازگشت سن رہا ہو
وہ وہیں کھڑا سنتا رہا جیسے کسی حصار میں قید ہو گیا ہو تھوڑی دیر بعد وہ تلاوت ختم کر کے اٹھ کھڑی ہوئی
عون نے گہری سانس لی پھر واپس آ کر بیڈ پر لیٹ گیا اس کا دماغ بالکل خالی ہو گیا تھا کافی دنوں تک یہی چلتا رہا وہ جب بھی صبح اٹھتا وہ کمرے میں نہیں ہوتی تھی اس کی تلاوت سے ہی عون کی اب آنکھ کھلتی تھی وہ ہر وقت کسی نہ کسی سوچ میں گم ہونے لگا آخر ایک دن کچھ سوچ کر وہ مطمئن ہو گیا ایک رات جب وہ عشاء کی نماز پڑھ کر سونے کے لیے لیٹی تو عون نے اسے روک دیا
" کیا کر رہی ہو؟"
نور نے نا سمجھی سے اس کو دیکھا
" سونے لگی ہوں"
وہ دن بھر سے تھکی ہوئی تھی اس نے کافی دفعہ نور کو ملازموں کے ساتھ کام کرتے بھی دیکھا تھا آج شاید اس نے اپنی نگرانی میں پورے گھر کی صفائی کروائی تھی عون نے جب اس کو کہا کہ وہ اسے کبھی طلاق نہیں دے گا تو وہ خاموش ہو گئی تھی اسے یقین ہو گیا تھا کہ اب وہ کبھی اس کے چنگل سے آزاد نہیں ہو سکتی اس نے ایک نارمل زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا تھا اگر وہ اسے نارمل رہنے دیتا تب!
" نہیں آج تم نہیں سو گی"
وہ اس کے سامنے جا کھڑا ہوا
" ٹھیک ہے اگر تم یہی چاہتے ہو کہ میں اس کمرے سے چلی جاؤں تو ٹھیک ہے جا رہی ہوں"
وہ تیزی سے دروازے کی طرف بھاگی
وہ تو کب سے یہاں سے نکلنے کے لیے پر تول رہی تھی ابھی اس نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ بھی نہیں رکھا تھا کہ پیچھے سے عون نے اسے گھما کر دروازے کے ساتھ لگا دیا دروازے کے دونوں طرف ہاتھ رکھے وہ اسے گھورنے لگا وہ گھبرا گئی اس نے بے بسی سے لب بھینچتے ہوئے سانس روک لی
" تم نہیں جا سکتی!"
عون کی آنکھوں میں وحشت نہیں تھی، بس ایک سناٹا تھا جیسے وہ خود بھی اپنے اندر کسی خلا سے بھاگ رہا ہو، سختی سے کہتا ہوا وہ اس کے اس قدر قریب آگیا کہ ان دونوں کے درمیان ایک انچ کا بھی فاصلہ نا رہا اس نے نور کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے
" یہ کیا بدتمیزی ہے دور رہو مجھ سے" اس نے اپنے ہاتھ چھڑوانے چاہے مگر یہ کیا وہ تو ہل بھی نہیں پا رہی تھی وہ پوری طرح بے بس ہو چکی تھی
" تمہیں لگتا ہے میں تمہیں چھوڑنے کے لیے پکڑتا ہوں"
وہ اور قریب ہوا اس کے جسم سے اٹھنے والی کلون کی مہک نور کے حواسوں پر چھانے لگی آخر وہ اتنا تیز پرفیوم کیوں لگاتا تھا کہ اس کی مہک پورا دن گزرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی تھی
" ٹھیک ہے، ٹھیک ہے نہیں جاتی میں باہر "
اس نے جلدی سے کہا اس کی قربت سے اسے ہمیشہ خوف ہی آتا تھا عون نے اس کا چہرہ اٹھا کر بے اختیار ہی اس کی تھوڑی پر لب رکھ دیے آہستہ سے اوپر ہوتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا وہ سختی سے لب بھینچ گئی عون نے مسکراہٹ دبا کر اپنی انگلی اور انگوٹھے سے اس کے لبوں کو وا کیا
" سانس لے لو نہیں کھاتا تمہیں "
وہ جو آنکھیں بند کیے کھڑی تھی پٹ سے آنکھیں کھولی
" کچھ تو شرم کرو کچھ تو خدا کا خوف کرو، اس گھر میں تمہاری ایک عدد بہن بھی ہے کل کو اگر اس کے ساتھ کچھ۔۔۔"
وہ پوری بات بھی نہیں کر پائی تھی کہ عون نے اسے ایک کھینچ کر تھپڑ مارا وہ جو اسی کے سہارے کھڑی تھی نیچے گر گئی
" اگر تم نے یا کسی اور نے میری بہن کے بارے میں کچھ ایسا کہا یا کسی نے میری بہن کو آنکھ اٹھا کے دیکھا بھی۔۔۔ تو میں اس کی آنکھیں نکال دوں گا تم جانتی نہیں ہو مجھے، دوبارہ یہ بکواس ہرگز مت کرنا تم سے نرمی برتتا ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تمہاری ہر بکواس خوشی خوشی سنوں گا آئندہ بولنے سے پہلے ہزار بار سوچنا"
وہ یک دم ہے غصے میں آیا تھا پھر اس نے نور کا بازو پکڑ کر اسے تیزی سے کھڑا کیا اس کے دودھیا سے گال پر عون کی انگلیاں چھپ گئی تھیں عون نے زور سے مٹھیاں بھینچ لیں
" کیوں مجھے غصہ دلاتی ہو"
آنکھوں میں برہمی لیے اس نے کچھ خفگی سے اس کے آنسو صاف کرنا چاہے مگر نور بدک کر پیچھے ہوئی اس کی حرکت پر پھر سے اسے تاؤ آگیا
" اب اگر تم نے دوبارہ کوئی ایسی حرکت کی تو تم جانتی ہو کہ میں کیا کروں گا"
وہ اتنی سفاکی سے بولا تھا کہ وہ فوراً خاموش ہو گئی اس کے آنسو صاف کر کے اس نے وہاں انگوٹھا پھیرا جہاں جگہ سرخ ہو رہی تھی افسوس سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے جھک کر اس کا وہی گال چوم لیا پھر کندھا وہ تڑپ کر دور ہونا چاہتی تھی مگر ہو نہیں سکی اور پھر سے رونے لگی عون نے ایک گہری سانس بھری پھر خود ہی پیچھے ہٹ گیا
" آج تم نہیں سو گی بلکہ پوری رات یہاں کھڑی رہو گی"
اسے بازو سے پکڑ کر تقریباً گھسیٹتے ہوئے بیڈ کے سامنے کھڑا کر دیا
" مم۔۔۔مگر میں!"
وہ بولنے لگی تھی کہ عون نے اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی
" شش۔۔۔"
کہتے ہوئے اس نے جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی
" وجہ میں بتانا پسند نہیں کروں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم سننا پسند نہیں کرو گی یا اگر تم نے سونا ہے تو آ جاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے"
ہلکا سا پیچھے ہوتے ہوئے اس نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا اس کا انداز ایسا تھا کہ نور کو گویا آگ ہی لگ گئی
" تمہارے قریب آنے سے بہتر ہے میں پوری رات یہاں کھڑی رہوں"
اس نے عون کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا وہ ہنستا ہوا بیڈ پر گر گیا
" صبح میری آنکھ کھلنے پر اگر تم مجھے سوتے ہوئے ملیں تو سچ کہہ رہا ہوں رات تک کمرے سے باہر نہیں نکلنے دوں گا خیر لائٹس آف کر دو اور ڈرنا بالکل بھی مت کیونکہ اس کمرے میں میرے اور تمہارے علاوہ کوئی نہیں ہے!"
مسکرا کر نیم دراز ہوتے ہوئے اس نے گہری نگاہوں سے اس کو دیکھا نور نے نفرت سے اس کو دیکھا اور بس اتنا کہا
" مر جاؤ تم"
اور پھر جا کر ساری لائٹس آف کر دیں رات کے تیسرے پہر وہ باتھ روم گئی وضو کیا پھر تہجد کی نماز کے لیے کھڑی ہو گئی اس کے پیر سن ہو گئے تھے اس ڈر سے وہ بیٹھ بھی نہ پائی تھی کہ اگر وہ اٹھ گیا تو؟
تھوڑی دیر بعد سر پر دوپٹہ لپیٹے وہ جائے نماز پر کھڑی تھی اس نے لمبی نماز پڑھی تھی ہر طرف گہرا سکوت تھا کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا تھا چاند کی کرنیں کھڑکی سے چھن کر اس کے جھکے ہوئے سر پر پڑ رہی تھیں
وہ خاموش تھی، مگر دل میں اک شور سا تھا اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، پھر گرا دیے اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا مانگے اور کیا نہ مانگے بس خاموش بیٹھی آنسو بہاتی رہی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اللہ اس کے دل کا حال جانتا ہے اگر وہ کسی مشکل میں پھنسی تھی تو وہ چاہتی تھی کہ اللہ اسے اس مشکل سے نکال دیں اور اگر یہ آزمائش تھی تو وہ اس میں پورا اترنا چاہتی تھی
اس نے اپنے پیارے اللہ سے کوئی بھی شکایت نہیں کی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ایک نہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ وقت ایک سا نہیں رہتا جائے نماز تہہ کر کے وہ سنگھار میز کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی سامنے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا وہ گہری نیند میں تھا اچانک اس کے دماغ میں ایک خیال آیا
اگر وہ اسے سوتے میں ہی ختم کر دے تو؟ یہ خیال جیسے سانپ بن کر دماغ میں رینگ گیا اور پھر دل نے دہائی دی
"لاحول ولا..."
کیا وہ اس حد تک جا سکتی ہے؟
نہیں، وہ اپنے ہاتھ خون سے رنگنا نہیں چاہتی لیکن دل نے ایک اور سرگوشی کی
"اگر وہ مر گیا، تو شاید تم جی پاو گی..."
مگر اس نے پھر سے سر جھٹک دیا اب کم از کم اسے یہ یقین تو ہو چلا تھا کہ اللہ اس کو عون کے قتل کا بدلہ معاف کر دے گا اگر وہ اسے مارنے کے لیے اٹھ بھی گئی تو کوئی بعید نہیں کہ بچ جانے پر وہ اس کی ہی گردن نہ دبوچ لے
کافی دیر تک الٹی سیدھی باتیں سوچنے کے بعد اس نے عون سمیت اس کو مارنے کے ہر منصوبے پر گویا لعنت بھیج کر چہرہ ہی موڑ لیا
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Write g kamal kaml kaml no words ab to mje male lead se koi sympathy b ni hori he deserves worst and i think k sister ki surat mn usko badla mily ha and i hape k esa hi ho 🤧 may be i am being selfish for my lead female such an innocent soul love her love her the way she loves ALLAH PAK 🫡😍❤️💕❣️
ReplyDelete