Skip to main content

Featured

Ruthless killer Episode 3 by Munaza Niaz

Ruthless killer By Munaza Niaz  Episode - 3 شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ گھر میں پرسکون خاموشی کا راج تھا۔ روشنی اپنے کمرے میں کتابیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی نظر فون کی طرف اٹھ جاتی۔ عباد صاحب عموماً چھ بجے تک لوٹ آتے تھے جبکہ اب سات بج رہے تھے۔ وہ بہت مشکلوں سے پڑھائی پر توجہ دے پا رہی تھی۔  رافیل صبح کا گیا رات کو گھر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ عباد صاحب کے بعد ہی گھر پہنچتا تھا۔ کام تو وہ کوئی کرتا نہیں تھا بس 'چاچو آج پھر سے کسی نوکری کی تلاش میں جا رہا ہوں.' کہہ کر ان کو لارے دیے رکھتا۔ عباد صاحب اس کا جھوٹ جانتے تھے اس لیے گاہے بگاہے اس کو اپنے ساتھ دکان پر چلنے کا کہتے رہتے۔ کبھی وہ مان جاتا تو کبھی منع کر دیتا۔  عباد صاحب واقعی اس کو کنٹرول نہیں کر سکے تھے۔ وہ ان کا بھتیجا تھا اس وجہ سے ان کو پیارا تھا۔ اس لیے وہ اس کو کچھ کہتے بھی نہیں تھے۔ وہ اس کو بیٹا سمجھتے تھے۔ اگر ان کو رافیل کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دیتے۔ دفعتاً باہر موٹرسائیکل کی آواز آئی۔ روشنی نے تیزی سے سر اٹھایا۔ ابھی وہ اٹھی ہی تھی کہ رافیل اس کے کمرے کا د...

Gunhegaar EP 5 by Munaza Niaz


 


ناول: گنہگار 

از قلم منزہ نیاز 

قسط: 5


وہ سب پہاڑی پر الاؤ کے گرد بیٹھے تھے۔ ان کا ہوٹل نیچے، ایک ڈھلان پر تھا۔ وہ سب پچھلے تین دنوں سے مسلسل سفر میں تھے۔ تھکن چہروں پر صاف جھلک رہی تھی


بس کے سفر میں، رخ کی سیٹ کے دائیں جانب ایک نشست چھوڑ کر یسع اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا تھا۔ رخ کی نظر بار بار اُس کی طرف بھٹک جاتی 


کاش وہ جان سکتا کہ وہ کس کیفیت سے گزر رہی ہے...مگر اگر جان لیتا، تو؟

وہ اسے کیسا سمجھے گا؟ دل پھینک... یا شاید آوارہ؟


"بس کرو ماہ رخ! تم وہ سوچ رہی ہو جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔"

مگر جھٹکا تو تب لگا، جب یسع نے خود سلام کر کے حال چال پوچھا۔ رخ کی زبان جیسے گنگ ہو گئی۔ بمشکل "ہوں" میں جواب دے کر فوراً پیچھے ہٹ گئی۔ اب وہ سب آگ کے سامنے بیٹھے تھے، اور رخ ایک بار پھر چھپ کر اُسی کو دیکھ رہی تھی جو ہنستے ہوئے اپنے دوست سے بات کر رہا تھا


پھر رخ نے دیکھا وہ کچھ کہہ کر مڑا۔

رخ کی بے چینی نے اسے اٹھنے پر مجبور کر دیا دانیہ اور ماہا نے چونک کر پوچھا

"کیا ہوا رخ؟ سب ٹھیک ہے؟"

مگر رخ نے جواب نہ دیا اور چپ چاپ یسع کے پیچھے چل پڑی


اس کے قدم خود بخود ڈھلان پر اس کی طرف بڑھتے گئے، یسع پانی کی بوتل سے وضو کر رہا تھا رخ ایک درخت کی اوٹ میں آ گئی۔ نماز کے لیے اس نے کپڑا بچھایا اور نیت باندھ لی۔ رخ کی سانسیں تھم سی گئیں


ایک لمحے کو اُسے اپنے پاپا یاد آ گئے تھے۔ وہ بھی ایسے ہی چھپ کر نماز پڑھتے تھے آدھے گھنٹے بعد، یسع فارغ ہوا۔ رخ تیزی سے پلٹی اور اسی لمحے، ایک پتھر اس کے پاؤں کے نیچے آ گیا


دھڑام!!

وہ کمر کے بل زمین پر گری۔ چیخ نکلنے کو تھی، مگر اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر دبا لی۔ یسع چونک گیا۔ اندھیرے میں اسے ایک سایہ گرا ہوا نظر آیا


بغیر وقت ضائع کیے وہ بھاگتا ہوا اس طرف آیا رخ کو دیکھ کر ذرا بھی حیران نہ ہوا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کئی دنوں سے کون چھپ چھپ کر اسے دیکھ رہا ہے۔

"کیا تم ٹھیک ہو؟"


وہ پنجوں کے بل بیٹھ کر نرم لہجے میں پوچھنے لگا۔ رخ شرمندگی سے چپ رہی۔ اٹھنے کی کوشش کی تو ہاتھ میں چبھن محسوس ہوئی۔

ایک جنگلی کانٹا ہتھیلی میں کھب چکا تھا۔ 


ابھی وہ جلدی میں خود نکالنے ہی والی تھی کہ یسع نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

"یہ کانٹا ہے۔ کھینچو گی تو آدھا اندر رہ جائے گا۔ کیا میں نکال دوں؟"

رخ نے سر جھکا کر اثبات میں سر ہلایا۔

یسع نے آہستہ سے کانٹا نکال دیا۔

"زیادہ گہرا نہیں ہے۔ اور کہیں چوٹ لگی؟"

وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا

"نہیں۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔ تھینک یو!"

رخ جھٹ سے کھڑی ہو گئی


"ویسے خیریت؟ یہاں کیا کر رہی تھیں؟"

یسع بھی ساتھ کھڑا ہو گیا چہرے پر سنجیدگی تھی، مگر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ رخ بوکھلا گئی،

"بس واپس ہوٹل جا رہی تھی۔۔۔ راستہ بھول گئی تھی۔"

وہ بات ادھوری چھوڑ کر پلٹی مگر پھر رک سی گئی۔

میں آئی کہاں سے تھی؟

چاروں طرف درختوں کا گھنا جنگل تھا۔ وہ ایک لمحے کو ساکت ہوئی۔ پھر یسع کی طرف دیکھا جو ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا

"میں ہنس لوں؟"

وہ سنجیدگی سے بولا


رخ کا منہ کھل گیا پھر تپ کر بولی

"ہاں ہنس لو! بلکہ زور زور سے قہقہے لگاؤ! میری حالت پر تم صرف ہنس ہی سکتے ہو میرے دل میں کیا ہے، جاننے کی کوشش کبھی نہ کرنا!"

یسع کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ آنکھوں میں سنجیدگی آگئی۔

"کوشش کرنی نہیں پڑی۔۔۔ میں جانتا ہوں۔"

رخ کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔

"جب جانتے ہو تو کہتے کیوں نہیں؟"

"ڈرتا ہوں کہیں میرا خیال غلط نکلا، تو؟"

"تو اب؟ کیا لگتا ہے؟"

رخ کی آواز دھیمی ہو گئی۔

"اب؟ اب رشک آ رہا ہے اپنے خیال پر۔"

اس نے بازو سینے پر باندھے

"اور اگر وہ خیال غلط نکلتا؟"

"تو اسی لمحے ختم ہو جاتا"

وہ ایک قدم آگے بڑھا۔ رخ کی پلکیں لرز گئیں۔ الفاظ بنا سوچے لبوں سے نکلے

"کیا تم آخری سانس تک میرا ساتھ دو گے؟"


یسع نے آنکھوں میں جھانک کر پوچھا۔

"کیا تم آخری سانس تک میرا ساتھ قبول کرو گی؟"

رخ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی۔

"ہاں..."

اس نے فوراً کہہ دیا، بنا سوچے، بنا سمجھے۔

یسع نے مسکرا کر اس کا چہرہ دیکھا،

"چلو، ورنہ سب شک کریں گے۔"

ابھی وہ دو قدم ہی چلے تھے، کہ دو نقاب پوش ان کے سامنے آ گئے۔ دونوں ٹھٹکے۔ ان کے ہاتھوں میں گنز تھیں۔ 

"یسع۔۔۔۔ یہ کون ہیں"

رخ کانپتی آواز میں بولی

"بھاگنا نہیں! یہ گولی بھی چلا سکتے ہیں!" 

اس نے رخ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا


اسی لمحے، پیچھے دو اور آدمی آ گئے۔

اب وہ چاروں طرف سے گھیرے میں تھے

"جو کچھ بھی ہے، نکالو! ورنہ۔۔۔"

ایک نقاب پوش غرایا

"ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے!

ہمیں جانے دو!"

یسع نے ایک ہاتھ اٹھا کر روکا


"ایسا مال ساتھ لیے پھر رہا ہے اور کہتا ہے کچھ نہیں؟"

ایک کی آواز میں خباثت تھی رخ نے خوف سے یسع کا بازو اور مضبوطی سے تھام لیا


تبھی ایک نقاب پوش رخ کی طرف بڑھا مگر اگلے لمحے، پھٹاک!

یسع کا گھونسا اس کے منہ پر پڑا۔

وہ پیچھے لڑکھڑایا، رومال چہرے سے ہٹ گیا۔ دوسرے کو یسع نے پتھر مارا  سیدھا ماتھے پر۔ خون بہنے لگا۔ تیسرا بدحواس ہوا۔ مگر چوتھا اب رخ پر گن تان چکا تھا۔


اسی پل، رخ نے یسع کو زور سے دھکا دیا گولی چلی جو رخ کے بازو کے قریب سے گزری تھی۔ وہ وہیں گر گئی


یسع نے بے یقینی سے اسے دیکھا، پھر آنکھوں میں دہشت لیے لکڑی اٹھائی اور حملہ آور پر دے ماری۔ اس کے ہاتھ سے گن چھوٹ گئی۔

"بھاگو رخ!"

اس نے اس کی کلائی پکڑی اور دونوں اندھیرے میں بھاگ نکلے۔


"باس ہمیں مار ڈالے گا۔۔۔ لڑکی ہاتھ سے نکل گئی!"

ایک نے اپنے ساتھی کو گریبان سے جھٹکا دیا

"گولی کیوں چلائی؟ خالی بندوق لانے کو کہا تھا!"

"غ.... غلطی سے چل گئی!"

"غلطی باس ٹھیک کرے گا.... اب نکل یہاں سے!"


اور چند لمحوں میں جنگل میں صرف سناٹا رہ گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

☆☆☆


رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا کہ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا اس کا پورا وجود پسینے میں بھیگا ہوا تھا کمرے میں اتنا گہرا سناٹا تھا کہ اس کا دل پھٹنے لگا اس نے ارد گرد دیکھنے کی کوشش کی مگر اسے کچھ بھی دکھائی نہ دیا یہاں تک کہ وہ اپنے وجود کو بھی نہیں دیکھ پا رہا تھا اس نے چند گہرے گہرے سانس لیے اور بیڈ سے نیچے اتر گیا اندھیرے میں ادھر ادھر وہ ایسے ہاتھ اٹھا رہا تھا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو، تلاش کر رہا ہو، کسی ایسی چیز کو جو صدیوں پہلے اس نے خود اپنے ہاتھوں سے گوائی ہو۔ مگر وہ چیز ایسی تھی کہ ڈھونڈنے پر بھی نہ مل رہی تھی اس نے رک کر اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے اس کے ہاتھ گیلے ہو گئے تھے اس نے اندھیرے میں اپنے ہاتھوں کو دیکھنے کی کوشش کی وہ اس کے آنسو تھے


مگر جھٹکا اسے تب لگا جب وہ آنسو خون میں بدلنے لگے وہ چیخنے لگا،  چلانے لگا اس نے جلدی سے اپنے ہاتھوں کو رگڑا مگر خون صاف ہونے کے بجائے اور گہرا ہوتا گیا 


وہ بے بسی سے گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑا اور اگلے ہی پل وہ زمین پر ماتھا ٹکائے، ایک ہاتھ کی مٹھی بنائی ٹھنڈے فرش پر مارنے لگا پورے کمرے میں اس کے گھٹ گھٹ کر رونے کی آواز گونج رہی تھی 


اس پورے گھر میں وہ اکیلا رہ گیا تھا

☆☆☆


تھوڑی دیر بعد فجر کی اذانیں گوجنے لگیں وہ اٹھی اور باتھ جا کر اس نے وضو تازہ کیا واپس آ کر اس نے جائے نماز بچھا لی اور نماز کی نیت باندھی


 آدھے گھنٹے بعد وہ فارغ ہوئی تھی اس کی نماز نہیں دعا لمبی ہو گئی تھی نماز پڑھنے کے بعد وہ معمول کے مطابق الماری کی طرف بڑھی مگر پھر ٹھٹک کر رک گئی 


کچھ سوچ کر اس نے قرآن پاک اٹھایا الماری بند کی اور صوفے پر جا کر بیٹھ گئی اس نے سونے سے منع کیا تھا مگر بیٹھنے سے نہیں 


وہ بنا آواز کے تلاوت کرنے لگی جب وہ تلاوت سے فارغ ہوئی تو اس کے دس سے پندرہ منٹ بعد وہ آنکھ مسلتا ہوا اٹھ بیٹھا پہلی نظر ہی نور پر پڑی تھی جو سرخ نیند بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ ہولے سے سیدھا ہوا 


" اوہ نور! ایم ریلی سوری فار دیٹ، ادھر آؤ ۔۔۔ بیٹھو!"

 اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی تھامی اور اسے اپنے قریب بٹھایا 


" بہت ظالم ہوں نہ میں! دیکھو تو کیا حال کر دیا میں نے تمہارا "

وہ اس کے دونوں ہاتھ پکڑے اس کی سرخ سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے بول رہا تھا نور نے کچھ بھی نہیں کہا بس خاموشی سے ایسے دیکھتی رہی 


" مگر کیا کروں مجبوری تھی!"

 اس نے گہری سانس بھری 

" مجبوری؟ کیسی مجبوری؟"

 نور نے نہ سمجھی سے اس کو دیکھا

" جیسا میں نے چاہا ویسا تو بالکل بھی نہیں ہوا تم کتنی ڈر پوک ہو نور! اتنا مت ڈرا کرو کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔۔ اگر تم میری رات والی بات مان جاتی تو۔۔۔۔ ویسے تم نے آج قرآن نہیں پڑھا؟"

وہ دھیمے لہجے میں پوچھ رہا تھا


" میں چاہتا تھا کہ صبح جب میری آنکھ کھلے تو تمہیں دیکھتے ہوئے، تمہاری آواز سنتے ہوئے کھلے میں نہیں چاہتا تھا کہ تم نیچے جاؤ بس اس لیے میں نے سوچا کہ تم یہیں بیٹھ کر پڑھو گی مگر خیر تم نے مجھے مایوس کیا!"


 نور کو لگا اس کا جسم بے جان ہونے لگا ہے اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا وہ اگر اسے کچھ کہتی بھی تو کیا کہتی اس نے اپنے دونوں ہاتھ چھڑوائے اور چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی عون کے دل کو کچھ ہونے لگا 


کاش وہ رات کو ہی اس کو قتل کرنے کے منصوبے پر عمل کر گزرتی۔ بدتمیز بس اس وجہ سے اسے پوری رات کھڑا کیے رکھا اگر وہ بتا دیتا تو کون سا قیامت آ جاتی رونے سے اس کی آنکھوں میں جلن ہونے لگی تھی


" پلیز یار رو تو نہیں اچھا اب دوبارہ ایسا کبھی نہیں کروں گا اگر کروں تو تم سوتے میں ہی مجھے قتل کر دینا"


وہ چونکی اور پھر اس نے غصے اور بے بسی سے اپنی آنکھیں رگڑ ڈالیں آنکھوں کی جلن مزید بڑھ گئی تھی 


اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ رات بھر واقعی اسے مارنے کے منصوبے بناتی رہی تھی 


" تو تم مجھے بتا دیتے میں نہیں جاتی۔۔۔اس طرح پوری رات مجھے کھڑا کیے رکھا"

 وہ سرخ آنکھیں اس پر جمائے بولی پتہ نہیں کیسے مگر وہ شکوہ کر بیٹھی تھی حالانکہ اسے شدید غصہ آرہا تھا


" ہمت نہیں ہوئی ورنہ ضرور بتا دیتا"

 اس نے اعتراف کیا 

" سوری!!"

 کہتے ہوئے اس نے اس کا چہرہ تھام کر اس کی آنکھوں کو چوم لیا 


" مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو"

وہ جو غور سے اسے ہی دیکھ رہی تھی چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگی


" کیا تم واقعی مجھے مارنے تو نہیں لگی تھی؟"

عون نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی کیونکہ اسے پورا یقین تھا کہ وہ اتنی معصوم اور ڈرپوک ہے کہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی 


وہ بس چاہتا تھا کہ یہ روتی ہوئی لڑکی ہنس پڑے اس نے کبھی نور کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا


" ہاں!!"

اس کے یک لفظی جواب پر وہ ہونق بنا اس کی شکل دیکھ کر رہ گیا تھا۔


••••

کچھ میل دور جا کر انہیں احساس ہوا کہ وہ پیچھے نہیں آرہے وہ وہیں سانس درست کرنے کو رکے۔ بھاگنے کی وجہ سے ان کا تنفس تیز ہو گیا تھا رخ وہیں زمین پر ڈھیر ہو گئی اس کے ہونٹ کپکپانے لگے، اور پھر جیسے دل پھٹ گیا ہو، وہ ہچکیوں سے رونے لگی


" کیا ہوا رخ؟ تم ٹھیک ہو؟ دیکھو کوئی بھی نہیں ہے ہمارے پیچھے تم بالکل سیف ہو بس تھوڑا سا آگے جا کر دائیں طرف نیچے ہوٹل ہے ہم بس پہنچ گئے ہیں"

 وہ پنجے کے بل اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا 


"اگر تمہیں گولی لگ جاتی تو... تو میرا کیا ہوتا، یسع؟ میں کیسے جیتی تمہارے بغیر؟"  

رخ کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ وہ گیلا چہرہ اٹھائے اسے دیکھنے لگی


"میں یہاں ہوں نا رخ، مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔۔ پلیز، چپ ہو جاؤ اٹھو اب چلو ورنہ ہمارے دوستوں نے ہمارے بھاگ جانے پر ہمارے ماں باپ کو فون کر دینا ہے!"

وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا 

"میرے پاپا۔۔۔ وہ مجھ پر آنکھ بند کر کے یقین کرتے ہیں وہ بس ایک بار میری آنکھوں میں دیکھتے ہیں اور سب سمجھ جاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں ان کی عزت پر حرف نہیں آنے دوں گی۔"

وہ چہرہ صاف کرتے ہوئے کھڑی ہوئی وہ بھی ساتھ ہی کھڑا ہوا اس کی بات سن کر وہ اس کو خاموشی سے دیکھتا رہا 


" لگتا ہے بہت محبت کرتی ہو اپنے پاپا سے "

ساتھ چلتے ہوئے اس نے تبصرہ کیا

" ہاں بہت زیادہ!"

 اس نے چہرہ موڑے بنا کہا 

"مجھ سے بھی زیادہ کرتی ہو؟"  

اس نے ہنستے ہوئے کہا، مگر آنکھوں میں ایک بے یقینی سی چھپی تھی 

شاید وہ جاننا چاہتا تھا، یا شاید صرف یقین دلانا چاہتا تھا اور رخ کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ پوچھ رہا ہے یا بتا رہا ہے 

" ہاں!"

کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ بولی تھی

☆☆☆


" گولی کس نے چلائی تھی؟"

ان سب کی پوری بکواس سننے کے بعد اس کی گرج دار آواز گونجی تھی کمرے میں نیم اندھیرا چھایا ہوا تھا  

صرف بڑی کھڑکی کا ایک پٹ کھلا تھا جہاں سے آدھے چاند کی مدھم روشنی  

فرش پر ایک نقرئی دائرہ سا بناتی جا رہی تھی۔


"غ۔۔۔غلطی ہو گئی باس، قسم سے۔۔۔ غلطی سے چلی تھی گولی!"

گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی

"ہاں۔۔۔ غلطی سے؟"  

وہ دھیرے سے ہنسا۔ وہ ہنسی جو عام نہیں تھی۔

"یاد دلاؤ مجھے، وہ بھی غلطی تھی نا؟ جب تم نے اپنے بندے کو ہی سیدھا کر دیا تھا؟"

وہ اٹھ کر اس کے پاس چلا آیا 

" ہاں یاد آگیا وہ تم ہی تھے جس نے کھیل کھیل میں، غلطی سے گولی اپنے ساتھی پر چلا دی تھی لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گیا تھا جب کہ تم اڑے رہے کہ تم نے جان بوجھ کر نہیں بلکہ غلطی سے گولی چلائی تھی"


اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ سرسراتی آواز میں بول رہا تھا اندھیرے میں اس کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا اس لڑکے کے چہرے پر ٹھنڈے پسینے آنے لگے 


" سس۔۔۔سوری باس! آئندہ نہیں ہوگا ایسا!"

وہ ہقلایا 

ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر، اس نے گن کھینچی، لڑکے کا ہاتھ سختی سے تھاما پھر سیدھا اس کی ہتھیلی میں گولی اتار دی۔ 


"دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ اگلی بار گولی دماغ کے پار جائے گی۔"  

وہ واپس صوفے پر جا بیٹھا۔


لڑکا اپنا ہاتھ تھامتا چیخوں کو دباتا باہر نکل گیا۔ جبکہ وہ کسی گہری سوچ میں گم ہو گیا تھا۔

☆☆☆


" بھابھی یہ جوتا دیکھیں کیسا ہے؟"

 سارہ ایک جوتا ریک سے اٹھائے اس سے پوچھنے لگی آج وہ دونوں شاپنگ کرنے آئی تھیں عون اسے گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتا تھا اور دوسرا نور نے کبھی ایسی کوئی بات ہی نہیں کہی کہ اس نے کہیں باہر جانا ہے 


سارہ نے ایک دن عون کی کلاس لے ڈالی کہ نہ وہ بھابھی کو ہنی مون پر لے کر گئے اور نہ ہی اس کو کہیں باہر جانے دیتے ہیں وہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا منا کرتا بھی تو کیا کہہ کر؟ آج جب سارہ نے شاپنگ پر جانے کا کہا تو وہ خاموش ہو گیا تھا۔


" اچھا ہے!"

سارہ نے جوتا واپس رکھتے ہوئے بغور نور کو دیکھا وہ بجھی بجھی سی تھی تھوڑی دیر بعد وہ ایک ریسٹورنٹ میں کرسی پر آمنے سامنے بیٹھی تھیں 


" آپ کے لیے کیا آرڈر کروں بھابھی؟"

 سارہ نے سرسری سا مینیو کارڈ اٹھاتے ہوئے پوچھا 

" کچھ بھی!"

اس نے بے دلی سے کہا

" بھابھی ایک بات پوچھوں؟"

 کارڈ واپس رکھتے ہوئے سارہ نے سنجیدگی سے اس کو دیکھا نور جو دوسری طرف چہرہ موڑے کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی چونک کر اسے دیکھا 

" آپ بھائی کے ساتھ خوش ہیں؟"

 وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی 

خوش؟ یہ لفظ سنے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے صدیاں بیت گئی ہیں۔ ارے اسے تو یاد بھی نہیں تھا کہ آخری دفعہ وہ مسکرائی کب تھی اسے لگ رہا تھا کہ اگر اسے کوئی چھوٹی سی بھی خوشی ملتی تو وہ سنبھال نہ پاتی وہی اس کے نیچے روتے ہوئے دب کر مر جاتی 


" کیا ہوا تم کیوں پوچھ رہی ہو؟"

 الٹا اس نے سوال کر ڈالا 

کیا وہ اپنے بھائی کو نہیں جانتی تھی کہ وہ کیسا شخص ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر اس کے سامنے اچھی بن رہی تھی 


" بس ایسے ہی بھابی! مجھے لگا آپ بھائی کے ساتھ خوش نہیں ہیں میں نے کبھی آپ کو مسکراتے نہیں دیکھا چاہے آپ اکیلی ہوں یا بھائی کے ساتھ!"

ہاتھ باہم پھنسائے وہ بغور اسے دیکھ رہی تھی 


" ایسا کچھ نہیں سارہ!میں خوش ہوں بس کبھی کبھی ماما کی یاد آ جاتی ہے!"

 اس نے مسکرانے کی کوشش کی مگر یہ بہت مشکل لگا عون نے اس کی مسکراہٹ چھین لی تھی سارہ جس طرح اسے دیکھ رہی تھی اسے لگا وہ اپنے بھائی کو یقیناً نہیں جانتی اور وہ دعا کرنے لگے کہ وہ کبھی جان نہ پائے وہ نہیں چاہتی تھی کہ جس اذیت سے وہ گزر رہی ہے سارہ بھی گزرے مگر وہ بھول گئی تھی کہ اس کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا تب ہی سارہ کا فون گنگنا اٹھا اس نے چونک کر اٹھایا 


" ذرا صبر نہیں ہوتا بھائی آپ سے ہم ابھی کھانا کھا کر نکل ہی رہے تھے کہ۔۔۔!"

 دوسری طرف عون کی بات سن کر وہ پل بھر کو خاموش ہوگئی 


" کیا ہوا سارہ کوئی بات ہے؟"

 نور نے بغور اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے تھے سارہ نے دھیرے سے فون کان سے ہٹایا 


" وہ ۔۔۔ وہ بھابھی دراصل!!"

 فون اپنے پرس میں واپس رکھتے ہوئے وہ ہکلائی اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ کس طرح اپنی بات نور تک پہنچائے 


" چلیں بھابھی میں آپ کو راستے میں بتاتی ہوں"

 وہ تیزی سے کھڑی ہوئی اور ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئی جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھی نور اس کی دوسری جانب دروازہ کھول کر بیٹھ گئی ڈرائیور نے فوراً گاڑی چلا دی 


" سارہ تم بتاتی کیوں نہیں کچھ؟ ہوا کیا ہے؟ دیکھو تم مجھے پریشان کر رہی ہو"

 جب سارہ نے ڈرائیور کو واپس گھر جانے کے بجائے نور کے گھر جانے کا کہا تو نور کے صحیح معنیوں میں اوسان خطا ہونے لگے 


" سوری بھابھی آئی ایم سو سوری!"

 سارہ ایک دم رونے لگی نور بالکل چپ ہو گئی آدھے گھنٹے بعد گاڑی ایک جھٹکے سے اس کے گھر کے سامنے رکی وہ تیزی سے باہر نکل کر اندر کی جانب بڑھ گئی وہ چھوٹا سا لان محلے کی عورتوں سے بھرا ہوا تھا 


سفید چادر کے نیچے دو خاموش جسم۔ محلے کی عورتیں دعائیں پڑھ رہی تھیں، مگر نور کو ہر لفظ تیز چھری کی طرح محسوس ہو رہا تھا


سست قدموں سے وہ آگے بڑھی مگر وہیں اسے ٹھوکر لگی اور وہ گھٹنوں کے بل گر گئی کسی نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا وہ کوئی لڑکی تھی، شاید وہ؟ جو اس کے ساتھ آئی تھی ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کرتے وہ گرتی پڑتی ایک میت کے پاس پہنچی 


وہ اس کی ماما تھیں اس نے جھک کر ساکت نگاہوں سے ان کا چہرہ تھپتھپایا 

" امی اٹھیں! میں نور آپ کی نور میں ملنے آئی ہوں آپ سے پلیز اٹھیں"

 ان کا سر پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا 


" یہ اٹھ کیوں نہیں رہی ہیں"

وہ اتنی زور سے چلائی تھی کہ دروازے سے اندر داخل ہوتا عون یک دم رک گیا کچھ عورتیں اٹھ کر اس کے پاس گئی 


" تیری ماں مر گئی نور!"

 کسی عورت نے روتے ہوئے اس کا دل چیر ڈالا 

" بکواس بند کرو تم لوگ! میری ماں کو کچھ نہیں ہو سکتا جھوٹ بول رہے ہو تم سب"

 اس کا ضبط جواب دے گیا تھا

" ماما اٹھیں نہ! میں ملنے آئی ہوں آپ سے پلیز اٹھیں!"

اس کا وجود کپکپانے لگا تھا عورتیں اسے پکڑے کھڑی تھیں خود کو چھڑواتی وہ لپک کر دوسری میت کے پاس پہنچی 


وہ ہادی تھا۔۔۔ نور کی چیخ گلے میں گھٹ گئی۔ وہ اُس کے قدموں میں گر گئی جیسے کسی نے اس کا دل نچوڑ کر باہر پھینک دیا ہو


"یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ میرے ساتھ ہی کیوں؟ کیوں ہادی؟"

روتے چیختے چلاتے کچھ دیر بعد وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی تھی


ایک پل میں سب ختم ہو گیا۔۔۔ وہ سب جن کے بغیر زندہ رہنے کا تصور نہیں تھا۔۔۔ آج مٹی تلے جا چکے تھے اور وہ، ابھی بھی سانس لے رہی تھی کیوں؟ بے ہوش ہونے سے پہلے اس کے کانوں میں ایک آواز پڑی تھی


" شکر ہے سراج الحسین کی زندگی بچ گئی"

☆☆☆


آج اس کے آفس کا پہلا دن تھا ڈگری لینے کے بعد اس نے پاپا سے نوکری کا کہہ دیا انہوں نے کہا کہ نوکری کرنے کی کیا ہی ضرورت ہے وہ ان کے ساتھ مل کر ان کا بزنس چلائے مگر اس نے منع کر دیا، اس نے کہا کہ وہ اپنا پہلا تجربہ ان کے بزنس میں نہیں کہی اور کرنا چاہتی ہے۔ یہ محض ایک بہانہ تھا اس کے پاپا نے زبردستی نہیں کی 


" ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی" انہوں نے کندھے آچکا دیے تھے اور وہ وجہ اس کے سامنے کھڑی تھی 


مسز میر کے آفس میں قدم رکھتے ہوئے اس نے مڑ کر یسع کو اندر جاتے دیکھا تھا ایک گہری سانس بھر کر وہ بھی پورے اعتماد سے اپنے آفس کی طرح بڑھ گئی ان دونوں کو اوپر کے فلور پر جانا تھا لفٹ کے سامنے وہ کھڑا تھا وہ بنا کچھ ظاہر کیے اس کے ساتھ جا کھڑی ہوئی کسی احساس کے تحت یسع نے گردن موڑ کر ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھا اسی لمحے اس کے چہرے پر حیرانی پھیلی 


" رخ تم یہاں؟ میرا مطلب کیا تم کسی سے ملنے آئی ہو؟"

 وہ حیرت سے مڑ کر اسے دیکھتے ہوئے بولا 

" او یسع! کیسے ہو؟ نہیں میں اب یہاں کام کروں گی آج میرا پہلا دن ہے تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم بھی یہاں جاب کرتے ہو"

 وہ خوشگوار انداز میں بولی اس کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے یسع نے غور سے اسے دیکھا 


" میں یہاں جاب نہیں کرتا یہ میری ممی کا آفس ہے آجاؤ میں تمہیں ان سے ملوا دیتا ہوں"

" ہاں کیوں نہیں ضرور ملوں گی!"

بدقت وہ مسکرائی اگر وہ اس کی چوری پکڑ لیتا تو؟ وہ محض سوچ کر رہ گئی لفٹ ان کے سامنے آکر رکی وہ خالی تھی دونوں اندر داخل ہو گئے 


" تمہارے پاپا نے تمہیں نوکری کرنے کی اجازت دے دی؟"

 لفٹ دھیرے دھیرے اوپر کی طرف چلنے لگی یسع نے نارمل انداز میں اس سے پوچھا رخ نے چونک کر اسے دیکھا اس کا انداز معمولی نہیں تھا ایک پل کو اسے لگا وہ طنز کر رہا ہے 


" انہیں بھلا کیوں اعتراض ہوگا"

 لفٹ اب دوسرے اور پھر تیسرے سے ہوتی چوتھے تک پہنچی 


" کیونکہ وہ بہت بڑے بزنس مین ہیں سوچنے کی بات ہے کہ تم اپنے پاپا کو چھوڑ کر یہاں آگئی "

انہیں ساتویں فلور پر جانا تھا وہ گہری جانچتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا 


"بس ایسے ہی شوق میں آگئی... کچھ نیا دیکھنا، نیا سیکھنا تھا ہر روز ایک ہی سی زندگی سے کچھ دیر کے لیے نکلنا چاہا، کیا تمہیں میرا آنا برا لگا؟  اگر تم کہتے ہو تو میں چلی جاتی ہو؟"

وہ معصومیت سے بولی 


" اب ایسا بھی نہیں ہے!"

 آہستہ سے لفٹ کا دروازہ کھلا وہ گہری سانس لیتا باہر نکل آیا ایک دروازے کے سامنے وہ دونوں رکے یسع نے دھیرے سے دروازہ کھٹکھٹایا اور بنا انتظار کیے اندر داخل ہو گیا وہ بھی کچھ جھجک کر اس کے پیچھے اندر داخل ہوئی تھی 


پورا روم اس قدر خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتی رہ گئی اس کی نظر سامنے چیئر پر بیٹھی یسع کی ممی پر پڑی وہ ایک فائل ٹیبل پر رکھے اس پر سائن کر رہی تھیں ایک بھاپ اڑاتا کافی کا مگ ساتھ رکھا تھا یسع نے آگے بڑھ کر ہمیشہ کی طرح انہیں سلام کرتے ہوئے ان کے سر پر پیار کیا پھر ان کے سامنے جا کر مسکراتے ہوئے بیٹھ گیا انہوں نے فائل واپس رکھتے ہوئے مسکرا کر پہلے اسے اور پھر اس کے ساتھ کھڑی رخ کو دیکھا ان کو دیکھنے پر رخ نے جلدی سے آگے بڑھ کر انہیں سلام کیا 


وہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اس قدر حسین چہرہ دیکھ رہی تھی رخ کو لگا جیسے کوئی شاہکار اس کے سامنے بیٹھا ہو خوبصورتی، اعتماد، اور وقار کا مرکب۔ اس چہرے پر وقت کی مہر نہیں، تجربے کی چمک تھی


سلام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مسکرا کر اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا رخ کچھ جھجکتے ہوئے یسع کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی


" ممی مجھے کچھ کام ہے میں چلتا ہوں پھر دوپہر میں ایک ساتھ لنچ کریں گیں"

جیسے ہی رخ نے کرسی چھوئی، یسع اچانک اٹھ کھڑا ہوا جیسے کسی فیصلہ کن سوچ نے اسے فوراً وہاں سے ہٹنے پر مجبور کیا ہو


پہلے تو وہ چونکیں پھر سمجھ کر انہوں نے اسے جانے کی اجازت دے دی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ باہر نکل گیا تھا رخ حیران ہوئی کہ اسے کیا ہوا


" آپ کا آفس پانچویں فلور پر ہے وہاں پر آپ کو مینیجر قاسم مل جائیں گے وہ آپ کو سارا کام سمجھا دے گیں"

ان کی آواز میں ایک نرمی تھی جو سن کر دل مطمئن ہو جائے، مگر لہجے میں ایک وقار تھا جو فوراً سمجھا دیتا کہ سامنے کون بیٹھا ہے 


"کوئی مسئلہ ہو تو آپ خود ان سے پوچھ سکتی ہیں"

وہ اپنے بیٹے کے علاوہ ہر ایک کو آپ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں انہوں نے وہ فائل اٹھائی جس پر تھوڑی دیر پہلے وہ سائن کر رہی تھیں اور اس کی طرف بڑھا دی اس نے ہلکا سا مسکرا کر وہ فائل تھام لی


" تھینک یو!"  

کہتے ہوئے وہ اجازت لیتی اس روم سے باہر نکل گئی۔ باہر نکلتے ہوئے رخ کو لگا جیسے کسی امتحان سے نکل آئی ہو مگر یہ صرف ابتدا تھی

☆☆☆


تین دن تک وہ سوتی جاگتی کیفیت میں چلاتی اور روتی رہی سارہ مسلسل اس کے ساتھ تھی عون جنازے کے بعد تھوڑی دیر رک کر واپس چلا گیا تھا وہ چاہتا تھا کہ نور بھی ساتھ چلے مگر اس کی حالت کے پیش نظر وہ خاموش ہو گیا تھا اور سارہ کو وہیں اس کے پاس چھوڑ گیا گھر واپسی پر سراج الحسین کی کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا ماما اور ہادی موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ سراج الحسین کو شدید چوٹیں آئی تھیں مگر پھر بھی وہ بچ گئے تھے فلحال وہ ہاسپٹل میں آئی سی یو میں ایڈمٹ تھے 


وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر گھٹنوں کے گرد دونوں بازو لپیٹے اپنا ویران چہرہ ان پر ٹکائے خالی خالی نگاہوں سے سامنے رکھے ایک گلدان کو دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں وہ خالی پن تھا جسے صرف وہی سمجھ سکتا تھا جس نے سب کچھ کھو دیا ہو سارہ تھوڑی دیر پہلے باہر چلی گئی تھی کیوں؟ وہ جانتی تھی!!


اس کے کھلے سیاہ بال کمر پر گر رہے تھے جن میں سے پانی کے قطرے ٹپ ٹپ گر رہے تھے سارہ نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے اسے فریش ہو جانے کے لیے کہا تھا وہ بلا چوں چرا مان گئی تھی جب سے وہ اس گھر میں تھی اس نے کوئی نماز بھی نہیں پڑھی تھی اسے خود کا ہوش ہوتا تو باقی چیزوں پر بھی دھیان دیتی باہر لگے سرخ گلاب مرجھا گئے تھے کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا تبھی دھیرے سے دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا 


سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر عون کو لگا اسے واپس چلے جانا چاہیے مگر وہ چلتا ہوا اس کے سامنے آ بیٹھا 


" نور!"

اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے مخاطب کیا وہ ہلی تک نہیں عون نے نرمی سے اس کے دونوں بازو اس کے گھٹنوں سے الگ کر دیے وہ بنا چونکے سیدھی ہو بیٹھی اس کے سارے بال دائیں طرف کندھے پر آگے کسی آبشار کی طرح گرے ہوئے تھے عون کے دل کو کچھ ہوا اس نے نرمی سے اس کی پیٹھ کے گرد اپنے دونوں بازو حمائل کرتے اسے سینے سے لگا لیا اس کے کندھے سے لگنے کی دیر تھی کہ نور اس کی گردن کے گرد سختی سے دونوں بازو حمائل کیے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے 


وہ پہلی بار خود اس کے گلے لگی تھی وہ بھول گئی تھی کہ وہ اس شخص سے شدید نفرت کرتی ہے جس نے اس کی زندگی برباد کر ڈالی تھی مگر اس شخص کے علاوہ اس کے پاس اب کوئی بھی نہیں تھا جس کے کندھے سے لگ کر وہ اپنا غم ہلکا کرتی وہ کافی دیر تک اس کی گردن میں چہرہ چھپائے روتی رہی عون چاہتا تھا کہ وہ رو لے سارے آنسو ایک ساتھ بہا ڈالے اپنا بوجھ ہلکا کر لے


"ماما۔۔۔ وہ مجھ سے ملے بغیر چلی گئیں، انہوں نے میرا انتظار بھی نہیں کیا۔ ہادی۔۔۔ میں اس سے بے انتہا محبت کرتی تھی، وہ بھی چلا گیا میرے پاس کچھ نہیں بچا، عون میں۔۔۔ اکیلی رہ گئی ہوں۔ تم سمجھ سکتے ہو؟ خالی ہاتھ، خالی دل۔۔۔ سب کچھ ختم ہو گیا!"

وہ اس کے سینے سے لگی روتی جا رہی تھی جب کہ وہ خاموش بیٹھا اس کی پیٹھ ہولے ہولے سہلاتا رہا 


"نور۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں تم میرے پاس آسکتی ہو جب بھی تمہیں کچھ کہنا ہو رونا ہو یا ہنسنا ہو میں ہمیشہ تمہیں سنوں گا، میرا کندھا ہمیشہ تمہارے لیے موجود ہوگا تم اکیلی نہیں ہو میں تمہارے ساتھ ہوں!"


وہ دھیمی سرگوشی میں بولا نور یک دم غصے سے اس سے الگ ہوئی تھی اس احساس ہوا کہ وہ کیا کر رہی تھی 


"تم؟ تم محبت کی بات کرتے ہو؟ میں تم سے نفرت کرتی ہوں، عون! ایسی نفرت جس کا وزن میری سانسوں پر ہے تم نے میری زندگی کو جہنم میں بدلا اور اب تم کہتے ہو کہ تم میرے ساتھ ہو؟ کاش۔۔۔ کاش مرنا آسان ہوتا! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ شادی ہونے کے بعد میری زندگی اتنی بے رنگ ہو جائے گی تو میں کبھی نکاح کی حامی نہ بھرتی مجھے اگر معلوم ہوتا کہ تم صرف اپنی ہوس پوری کرنے کو مجھ سے شادی کرو گے تو میں کبھی تم سے شادی نہ کرتی وہیں خود کو مار دیتی تم اتنے گرے ہوئے انسان نکلو گے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی تمہیں تو خدا کا خوف بھی نہیں ہے پتہ نہیں تم اتنے گناہوں کا بوجھ لیے کیسے پھر رہے ہو کیا تم نے کبھی اپنے گناہوں کا احساس ہوا؟ ہوا کیا؟ نہیں نا اور اب تم کیسے؟ کیسے میری زندگی برباد کر کے کہہ رہے ہو کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو!"


 وہ گیلی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے تڑپ تڑپ کر بولتی جا رہی تھی وہ بالکل چپ رہ گیا وہ پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے شدید نفرت دیکھ رہا تھا 


" میں کیسے کسی ایسے شخص کے ساتھ خوش رہ سکتی ہوں جو زنا کرتا ہو شراب پیتا ہو اور پتہ نہیں کون کون سے گناہ کرتا ہو مگر میں اتنی بے بس ہو چکی ہوں کہ تمہارے ساتھ رہنے پر مجبور ہو گئی ہوں"

 وہ اس کی باتوں پر نہیں چونک رہا تھا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ سچ جان جائے گی ہاں وہ کبھی کبھی شراب پی کر اس کے پاس جاتا تھا مگر وہ خاموش ہو جاتی تھی کچھ نہیں کہتی تھی لیکن اب کی بار وہ خاموش تھا 


" میں جانتی تھی کہ بابا مجھے پسند نہیں کرتے کیونکہ میں ان کی سگی اولاد نہیں تھی مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ پیسے کی لالچ میں مجھے کسی ایسے شخص کو بیچ ڈالیں گے جس کو وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ وہ کیسا آدمی ہے انہوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ میں ان کی بیٹی نہ سہی مگر کسی اور کی تو بیٹی تھی نا! لیکن نہیں۔۔۔ انہیں تو جیسے کسی چیز کا احساس ہی نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں چاہے انہوں نے میرا سودا کر ڈالا تھا مگر کہیں نہ کہیں مجھے اتنا یقین ضرور تھا کہ جس شخص کو وہ مجھے سونپنے جا رہے ہیں وہ نیک نہیں مگر ایک اچھا آدمی ضرور ہوگا لیکن اب۔۔"

تیز تیز بولتے وہ سانس لینے کو رکی 


اس کے آنسو تھوڑی سی ٹپکتے ہوئے اس کی گود میں رکھے ہاتھوں پر گر رہے تھے 


" لیکن اب انہوں نے میرا آخری یقین بھی توڑ ڈالا اب تم بھول جاؤ کہ مجھے تم سے کبھی محبت ہو گی تم قابل نفرت ہو عون! قابل محبت نہیں چلے جاؤ یہاں سے میں اب تہماری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی نفرت کرتی ہوں میں تم سے چلے جاؤ یہاں سے جاؤ!"


وہ اس کا گریبان پکڑ کر چلانے لگی تھی عون نے نرمی سے اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنا گریبان چھڑایا ایک نظر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر جس کے نیچے سیاہ ہلکے بن چکے تھے اور بغیر کچھ کہے، بغیر پلٹے وہ اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا


وہ مزید اسے اپنی وجہ سے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا اگر نور کو معلوم ہوتا کہ وہ اس کی زندگی میں آنے کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ چکا تھا تو وہ کبھی اس پر چلا کر اس کے گناہوں کا احساس نہ دلاتی نور نے اسے آئینہ دکھایا تھا وہ آئینہ جس میں وہ انسان نہیں درندہ نظر آتا تھا

☆☆☆


وہ لڑکی اب اپنی حدوں سے آگے جا رہی تھی وہ جذبات میں بہہ گئی تھی، اور وہ جانتا تھا کہ جذبات کمزوری ہوتے ہیں... اور کمزور لوگوں کا خاتمہ آسان ہوتا ہے

اسے جلد از جلد اس کا کچھ کرنا تھا ورنہ وہ اس کا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیتی اس نے اپنے چند آدمی اس کے پیچھے لگا دیے تھے اب وہ موقع کی تلاش میں تھا کہ کب اس نے اپنا آخری پتہ پھینکنا ہے اس کی نظریں بے اختیار سامنے کی طرف اٹھی تھیں جہاں وہ اس بلڈنگ سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی 


" چلو!"

 گلاسز آنکھوں پر ٹکائے وہ ڈرائیور سے بولا 

گاڑی دھیرے سے ریورس ہوتی تیزی سے آگے بڑھ گئی


جاری ہے

Comments

  1. Wow what a twist 🙀 achnak se story hi badal gai 😭😭😭 but beautiful brilliant 👍🏻 as always 🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts