Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Gunhegaar EP 6 by Munaza Niaz
ناول: گنہگار
از قلم منزہ نیاز
قسط: 6
"رخ! تمہیں تیار ہونے میں اتنی دیر لگتی ہے، تو کسی کی شادی میں جانا ہوا تو ہم وقت پر کبھی نہ پہنچیں!"
پاپا بالکل تیار لاؤنچ میں کھڑے اپنی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے بولے
وہ سیڑھیوں سے اترتی ہوئی ایسے لگ رہی تھی جیسے کسی فلم کا سین ہو ہاتھ میں کلچ، ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ، اور چال میں بے ساختہ وقار
" آگئی پاپا!"
وہ اپنا کلچ سنبھالتے ہوئے ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی
"رخ، کیا واقعی میرا جانا ضروری ہے؟ مجھے یہ سب محفلیں کبھی پسند نہیں آئیں..."
انہوں نے کچھ تعامل سے کہا وہ رخ کے ساتھ اس کے آفیشل ڈنر میں جا رہے تھے وہ کچھ راضی نہیں لگ رہے تھے بلکہ رخ ان کو زبردستی لے کر جا رہی تھی
" جی بلکل ضروری ہے! اچھا یہ بتائیں میں کیسی لگ رہی ہوں؟"
اس نے مسکرا کر پوچھا
" بہت خوبصورت! اپنی باس سے بھی زیادہ جن کی تم اتنی تعریفیں کرتی ہو!"
انہوں نے مسکرا کر کہا ان کی بات پر وہ ہنسی
" ابھی جب آپ ان سے ملیں گے تب مجھے بتائیے گا کہ کون زیادہ خوبصورت ہے ایسے آپ ان کو دیکھے بغیر مجھے مارجن نہیں دے سکتے ویسے خیال کیجیے گا ان کو دیکھنے کے بعد آپ کی رائے بدل نہ جائے"
وہ مسکراہٹ دبائے ان کو چھیڑنے لگی
" تم مجھے ایسا سمجھتی ہو اس عمر میں بھی کیا میں ایسی حرکت کرتے ہوئے اچھا لگوں گا"
وہ دونوں باہر کی جانب بڑھے
"ویسے پاپا، اگر آپ نے انہیں دیکھ لیا تو کہیں آپ خود ہی پروپوز نہ کر دیں!"
وہ مزے سے بولی
"بس یہی کمی رہ گئی تھی اب بیٹی اپنے پاپا کی شادی بھی کرائے گی!"
انہوں نے مسکراہٹ دبا کر اسے گھورا وہ زبان دانتوں تلے دباتی بنا آواز کے سوری بولی تھی
" چھوڑیں پاپا چلیں! میں بھی پتہ نہیں کیا کیا سوچ لیتی ہوں وہ جو ناممکنات میں سے ایک ہے"
دونوں ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے پورچ کی طرف بڑھ گئے
وہ کبھی نہیں جان سکی کہ پاپا نے کیوں زندگی بھر تنہائی کو گلے لگایا شاید کچھ کہانیاں وقت سے پہلے نہیں کھلتیں، اور کچھ سوالوں کے جواب قسمت خود دیتی ہے بس وقت آنے پر!
ہوش سنبھالتے ہی اس نے صرف پاپا کو دیکھا تھا ماما کو نہیں ان سے ماما کے بارے میں پوچھنے پر وہ بات ٹال دیتے تھے ان کے دل میں کیا ہے وہ کبھی نہ جان پائی مگر بہت جلد اسے اپنے سارے سوالوں کے جواب ملنے والے تھے
پاپا سے نہیں بلکہ کسی اور سے۔
☆☆☆
کمرہ دھویں سے بھر چکا تھا وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے، آنکھیں بند کیے، نور کی آوازوں کو اپنے اندر گونجتا محسوس کر رہا تھا
پورا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا شدت غم سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ایک ایک کر کے ان ساری لڑکیوں کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آتا گیا جن کی زندگیاں اس نے برباد کر ڈالی تھیں سب سے زیادہ خسارے میں وہ لڑکی آئی تھی جو اب اس کی بیوی تھی اور وہ اس سے نفرت کرتی تھی
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے سکون تھا کہ روٹھ کر اس سے دور چلا گیا تھا رات ایسے ہی کٹتی رہی۔۔۔۔ بے سکونی میں، کانٹوں پر، تنہا۔
☆☆☆
دو دن تک سارہ اس کے ساتھ رہنے کے بعد واپس گھر آگئی تھی اس کی یونیورسٹی کے لیکچر مس ہو رہے تھے نور اپنے گھر ہی تھی سارہ نے اسے کال کر کے بتا دیا تھا کہ بھائی آج واپسی پر آپ کو لیتے آئیں گے اور اب رات کے گیارہ بجنے والے تھے اور وہ ابھی تک نہیں آیا تھا مگر اسے اس کا اب انتظار بھی نہیں تھا
بیڈ پر چت لیٹی، چھت کو تکتی وہ شاخِ ندامت سی خشک ہو چکی تھی
ذہن میں سناٹا تھا۔ حلق خشک۔ اسے شدید پیاس محسوس ہوئی۔ اس نے کروٹ لی، سائیڈ ٹیبل پر رکھا جگ دیکھا جو خالی تھا۔
وہ بالکل پانی پینے نہ جاتی اگر اسے شدید پیاس نہ لگی ہوتی اس نے دھیرے سے جگ اٹھایا اور کمرے سے باہر چلی آئی ابھی وہ سیڑھیوں کے پاس ہی پہنچی تھی کہ اسے کسی کھٹکے کا احساس ہوا وہ چونک کر پلٹی راہداری نیم اندھیرے میں ڈوبی تھی یہاں پر بلیوں کا آنا ممکن تھا مگر اس نے سر جھٹک دیا اور آگے کی طرف بڑھ گئی
جیسے ہی اس نے سیڑھی کے آخری دہانے پر قدم رکھا،اچانک ایک آہنی گرفت نے اس کی کلائی دبوچ لی وہ چونک کر پلٹی اور لمحے میں اس کی سانسیں رک گئیں۔ اس سے پہلے کہ وہ چلاتی پکڑنے والے نے اس کے منہ پر زور سے ہاتھ رکھ دیا جگ چھوٹ کر نیچے جا گرا تھا
" خبردار جو تم چلائی!"
اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ غرایا نور نے بند آنکھوں کو کھول کر سامنے دیکھا تو اس کی روح فنا ہوئی وہ مانی تھا وہ اندر کیسے آیا اس نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی مگر مانی اس سے اتنا لمبا اور کافی مضبوط تھا جیسے کوئی غنڈا ہو
وہ اسے کھینچتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر گیا پھر دروازہ بند کر دیا وہ سٹور روم تھا۔ سٹور روم سے تھوڑا آگے والا کمرہ اس کا خود کا تھا اس کھینچا تانی میں اس کا دوپٹہ چھوٹ کر راہداری میں گر گیا تھا سٹور روم میں پہنچتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے خود کو چھڑوایا تھا
" تمہاری ہمت میں کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے گئی اور تم یہاں آ کیسے گئے؟"
وہ خوف سے سینے پر اپنے بازو لپیٹے کانپتے ہوئے بولی ( عون کہاں ہو تم؟) دل میں بے اختیار ہی اسے پکار ڈالا تھا۔
" اس دن جو تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا نا وہ میں بھولا نہیں ہوں۔ تمہیں لگا شادی ہو جائے گی تو تم بچ جاؤ گی۔ ارے تم ڈر کیوں رہی ہو میں بالکل بھی تمہیں نہیں ماروں گا"
وہ خباثت سے ہنسا اور اس کی جانب بڑھا
نور کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑنے لگا اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ الٹے قدم پیچھے کی طرف چلنے لگی اس سے پہلے کہ وہ بھاگتی یا چلاتی مانی نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کا منہ دبوچ لیا اور ایک زور کا تھپڑ اس کے گال پر پڑا وہ ٹھنڈے فرش پر جا گری ہونٹ پھٹ گیا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا
" عون!"
اس کے لب پھڑپڑئے وہ تو کہیں بھی محفوظ نہیں تھی مانی نے اسے بازؤں سے پکڑ کر کھینچا
نور کی نظر گلدان پر پڑی وہ جانتی تھی، یہی آخری موقع ہے بجلی کی سی پھرتی سے اس نے گلدان اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ وہ بلبلا اٹھا۔ دونوں ہاتھ سر پر رکھے وہ پیچھے ہوا نور تیزی سے دروازے کی طرف بھاگی مگر اس کے دروازہ کھولنے سے پہلے کسی نے دروازہ کھول دیا تھا۔ وقت جیسے تھم سا گیا تھا
" نور!"
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا نور سے ہوتی ہوئی اس کی نظر پیچھے کھڑے مانی پر پڑی جو عون کو اچانک سامنے دیکھ کر بوکھلا گیا تھا
"یہی لڑکی ہے! اس نے ہی مجھے بلایا تھا! قسم سے... وہ کہہ رہی تھی وہ اکیلی ہے..."
اس کی آواز لرز رہی تھی، آنکھوں میں وحشت تھی
" یہ لڑکی بہت بڑی شاطر اور چالاک ہے دیکھو میں ایک شریف انسان ہوں اسی نے مجھے ورغلایا ہے!"
وہ پتہ نہیں ہواس باختہ سا کیا اول فول بکے جا رہا تھا
نور آنکھوں میں آنسو لیے تیزی سے عون کو پیچھے دھکیلتی باہر نکل گئی راہداری میں گرا اپنا دوپٹہ اٹھانے کے بجائے وہ کمرے کی طرف بھاگ گئی تھی
عون آنکھوں میں خون لیے مانی کی طرف بڑھا تھوڑی دیر بعد لہولہان مانی فرش پر گرا کراہ رہا تھا
☆☆☆
کمرے میں قدم رکھتے ہی، اس کی نظریں بیڈ پر پڑیں۔ نور سر تک لحاف تانے چپ چاپ سو رہی تھی یا شاید سو رہی ہونے کا ناٹک کر رہی تھی
گریبان کے دو بٹن کھولتے وہ اس کی طرف آیا وہ سر تک کمبل ڈالے لیٹی ہوئی تھی وہ آہستگی سے جھکا، جیسے کوئی ہوا کسی پھول کو چھوتی ہے۔ ویسے ہی اس کے چہرے سے کمبل ہٹا دیا
نور کی آنکھیں بند تھیں بند پلکوں سے آنسو یوں بہہ رہے تھے جیسے دل کا زہر بالوں میں تحلیل ہو رہا ہو۔
" نور؟؟"
اس نے اسے پکارا وہ نہیں اٹھی بس آنکھیں بند کیے روتی رہی اس نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھاما
ماتھے پر نرمی سے لب رکھے پھر دھیرے سے اس کی پلکیں چومیں۔ احترام سے، نرمی سے، محبت سے۔ پھر دھیرے سے اس کی تھوڑی پر لگا خون صاف کر دیا
اگر وہ وقت پر نہ پہنچ پاتا تو؟
مانی اب اس کے گارڈز کی " مہمان نوازی" بھگت رہا تھا تاکہ اس کی مزید اچھی طرح خاطر مدارت کرنے کے بعد اس کو اس کے گھر " پھینک" آئیں
اس نے ہتھیلی کی پشت سے نور کا گیلا چہرہ صاف کیا
" وہ چلا گیا نور کوئی بھی نہیں ہے میں تمہارے پاس ہوں سب کچھ ٹھیک ہے"
نرمی سے کہتا اس نے اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھا وہ اس کے برابر لیٹا ہوا تھا اور پھر اس نے اپنے پیٹ سے ہوتے ہوئے کمر تک نور کے ہاتھ کا لمس محسوس کیا
ایک لمحہ بعد، جیسے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا تھا نور نے روتے ہوئے اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا۔
عون نے ایک بازو اس کی گردن کے نیچے رکھا، دوسرا اس کی کمر کے گرد رکھتے اسے خود سے قریب کر گیا۔
عون کو اپنی شرٹ بھیگتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ بنا آواز کے رو رہی تھی۔ عون دھیرے دھیرے اس کا سر سہلاتا رہا کچھ لمحوں بعد وہ گہری نیند میں چلی گئی۔ عون نے پھر سے اس کا چہرہ صاف کیا اور دوبارہ سینے میں چھپا لیا۔
☆☆☆
وہ اپنے پاپا کا بازو تھامے پر اعتماد سی چلتی اپنے کولیگ سے ان کا تعارف کروا رہی تھی پھر اس کی نظر دور کھڑی مسز میر پر پڑی وہ کسی عورت سے مسکرا کر ہلکی آواز میں کچھ کہہ رہی تھیں
" پاپا چلیں میں آپ کو یہاں کی سب سے خوبصورت چیز دکھاتی ہوں"
وہ چونکے
" کیا تم کسی چیز کی بات کر رہی ہو؟"
انہوں نے پوچھا
" ارے نہیں پاپا میں آپ کو مسز میر سے ملوانے لے جا رہی ہوں"
اس نے رک کر تصیح کی
" غلط بات ہے رخ کسی انسان کو چیز نہیں کہتے"
انہوں نے کہا مگر وہ ان کی بات سنے بغیر انہیں لیے مسز میر کی طرف بڑھ گئی ان کے پہنچنے تک یسع بھی اپنی ممی کے ساتھ آکھڑا ہوا تھا
" گڈ ایوننگ میم! ان سے ملیں یہ میرے پاپا ہیں"
مسز میر جو اس خاتون سے کچھ کہہ رہی تھیں رخ کی آواز پر گھوم کر اسے دیکھا اور مسکرا دیں اور رخ سے ہوتی ہوئی ان کی نظر ساتھ کھڑے شخص پر پڑی جو سانس روکے ساکت نگاہوں سے انہیں دیکھ رہا تھا
پہلے تو وہ لمحے بھر کو چونکیں پھر ہلکا سا مسکرا کر انہیں سلام کیا
" اور پاپا یہ مسز میر ہیں! اور یہ یسع،ان کے بیٹے!"
اب رخ نے پاپا کی طرف مڑ کر ان دونوں کا تعارف کروایا
ان کا دم گھٹنے لگا آکسیجن یک دم کم ہونے لگی جیسے سینہ یک دم سکڑ گیا ہو،آنکھیں بس ایک چہرے پر رک گئیں
وقت ان کے لیے تھم گیا، سانسیں رک گئیں، اور شاید دل دھڑکنا بھول گیا۔
رخ کی دوسری بات تو انہوں نے گویا سنی ہی نہیں تھی بس ان کی نظریں سامنے کھڑے وجود پر ٹھہر سی گئی تھیں
" میں آتی ہوں!"
مسز میر ان کی نظروں سے تھوڑا جذبز ہوتی وہاں سے ہٹ گئی تھیں وہ انہیں جاتا ہوا دیکھتے رہے
" وہ میری ممی ہیں!"
یسع نے گویا ان کو جتایا وہ چونک کر اسے دیکھنے لگے
" تم۔۔۔ تم اس کے بیٹے ہو؟"
وہ بے یقینی سے بولے
"بدقسمتی سے... میرا باپ میرے بچپن میں ہی مر گیا یا شاید زندہ ہوتے ہوئے بھی مر چکا تھا۔"
یسع نے پہلے زور دے کر پھر کچھ یاد آنے پر انہیں کہا اور چلا گیا
" اپنے پاپا کا خیال رکھا کرو"
جانے سے پہلے وہ رخ سے بولا تھا
" پاپا آپ ٹھیک ہیں؟"
رخ تشویش سے انہیں دیکھنے لگی
" ہا۔۔۔ہاں ٹھیک ہوں تم۔۔۔ تم پریشان مت ہو!"
انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی مگر یہ دنیا کا مشکل ترین کام لگا
" اگر آپ ٹھیک نہیں ہیں تو ہم واپس چلتے ہیں"
وہ اب واقعی میں زیادہ پریشان ہو گئی تھی کہ آخر اچانک انہیں ہوا کیا ہے
" ہاں چلو "
ایک لمحہ رکے بغیر وہ پلٹے رخ بھی ان کے ساتھ ہی آگے بڑھ گئی تھی
تھوڑا دور مسز میر نے ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھا تھا یسع ان کے ساتھ کھڑا اپنے کسی کولیگ سے بات کر رہا تھا
اس نے آہستہ سے ماں کے کندھے پر بازو رکھا نہ صرف سہارا دینے کے لیے، بلکہ یہ جتانے کے لیے بھی کہ
"جہاں سب چھوڑ گئے، وہاں میں ہمیشہ ہوں"۔
☆☆☆
" سارہ یہ غلط ہے تم ایک غلط راستے کا انتخاب کر رہی ہو تم مت کرو ایسا!"
پوری بات سننے کے بعد نور بولی تو اس کی آواز میں بے چینی تھی
" پلیز بھابھی میں فیصلہ کر چکی ہوں مجھ میں اب اتنی ہمت نہیں کہ بھائی کو کچھ بھی بتاؤں میں جانتی ہوں کہ وہ میری شادی کبھی طلحہ سے نہیں ہونے دیں گے کیونکہ طلحہ ان کے سٹینڈرڈ کا نہیں ہے وہ اسے کبھی قبول نہیں کریں گے انہیں اگر معلوم ہو گیا تو وہ میری شادی اپنے کسی جاننے والے سے کر دے گیں میری محبت کو کبھی نہیں سمجھے گیں۔ میں آپ کو اسی لیے بتا رہی ہوں کیونکہ میں بھائی کو دھوکہ نہیں دے سکتی میرے جانے کے کچھ دنوں بعد آپ ان کو سب کچھ بتا دیجیے گا ورنہ بھائی مجھے ڈھونڈ لیں گے اور میں ایسا نہیں چاہتی طلحہ سے نکاح کے بعد میں یہ شہر چھوڑ دوں گی پلیز بھابھی وعدہ کریں مجھ سے آپ ایسا ہی کریں گی مجھے پتہ ہے کہ وہ بہت غصہ ہونگیں ناراض ہونگیں مگر آپ ان کو سنبھال لیجئے گا لیکن پلیز انہیں میرے بارے میں کچھ بھی مت بتائیے گا"
وہ نور کا ہاتھ تھامے منت کرنے لگی
" میری بات سنو سارہ! یہ جو کچھ تم کر رہی ہو غلط ہے میں یہ نہیں کہتی کہ نکاح کرنا غلط ہے بلکہ گھر والوں سے چھپ کر ان سے بھاگ کر چوری چھپے نکاح کرنا سراسر غلط ہے اس میں صرف ذلت اور رسوائی ہے تم عون سے بات کرو اسے مناؤ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ مان جائے گا اگر وہ نہ مانا تو میں بات کروں گی مگر تم ایسا مت کرو اپنے بھائی کی عزت خراب مت کرو وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے"
نور نرمی سے اسے سمجھا رہی تھی جبکہ سارہ کے دماغ میں طلحہ کی باتیں گونج رہی تھیں ( کچھ بھی ہو جائے تم اپنے بھائی کو کچھ بھی نہیں بتاؤ گی میں تمہارے ساتھ ہوں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا)
" نہیں بھابھی میں ایسا نہیں کر سکتی مجھے خود طلحہ نے کہا کہ فلحال میں کسی کو کچھ نہ بتاؤں مگر مجھے لگا یہ ٹھیک نہیں ہے اسی لیے میں نے آپ کو بتا دیا میری بات سنیں نکاح کے کچھ عرصے بعد میں خود واپس آ جاؤں گی!"
سارہ نے جلدی سے کہا
"سارہ، جو محبت چھپ کر ہو... وہ محبت نہیں، وہ بغاوت ہوتی ہے اور جو مرد تمہیں گھر سے چوری کر کے لے جانا چاہتا ہو، وہ تمہیں زندگی بھر عزت نہیں دے سکتا سارہ تم سمجھنے کی کوشش کرو تم میری بہن جیسی ہو وہ لڑکا جھوٹا ہے!"
نور کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ اسے کیسے سمجھائے الٹا وہ اس کی پریشانی میں مزید اضافہ کرتی جا رہی تھی
" وہ مجھے اکسا نہیں رہا بھابھی میں خود اس سے نکاح کرنا چاہتی ہوں اگر آپ میرا ہاتھ تھام نہیں سکتیں، تو پلیز... میرے پاؤں کی زنجیر بھی نہ بنیں!"
وہ تیزی سی کہتی اٹھ کر باہر چلی گئی تھی
☆☆☆
رات کے بارہ بج چکے تھے مگر سارہ کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا عون اسے ہر جگہ تلاش کر رہا تھا نور جانتے ہوئے بھی خاموش تھی کبھی سوچتی کہ عون کو سب کچھ بتا دے اور کبھی سارہ سے کیا ہوا وعدہ یاد آ جاتا۔ عجیب مشکل میں پھنس گئی تھی وہ
تقریباً رات کے دو بجے وہ کمرے میں داخل ہوا تھا نور نماز پڑھ رہی تھی عون بنا چاپ کیے صوفے پر گر گیا دعا مانگنے کے بعد وہ تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس آئی
" کیا ہوا کچھ معلوم ہوا سارہ کے بارے میں؟"
اس کی آواز کانپی عون نے نفی میں سر ہلایا پھر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا دیا
" تم سو جاؤ میں دوبارہ جا رہا ہوں"
وہ تیزی سے کھڑا ہوا جبکہ نور کے آنسو گرنے لگے
" تم پریشان مت ہو وہ مل جائے گی میں ڈھونڈ لوں گا اسے!"
وہ سمجھا کہ سارہ کی گمشدگی نور کو رلا رہی ہے مگر وہ تو کسی اور ہی وجہ سے رو رہی تھی نور نے آنکھیں صاف کی اور بیڈ پر جا کر لیٹ گئی
جبکہ تھکا ہارا اجڑی صورت والا عون دوبارہ کمرے سے باہر نکل گیا
☆☆☆
" میں تمہیں کسی سے ملوانا چاہتا ہوں!"
وہ دونوں ایک گھر کے سامنے رکے ان کا نکاح ہو چکا تھا سارہ نے چونک کر اس کو دیکھا طلحہ دروازے کا لاک کھول رہا تھا
جہاں تک سارہ کو معلوم تھا کہ طلحہ اکیلا ہے اس کی کوئی فیملی نہیں تو پھر اب وہ اسے کس سے ملوا رہا تھا اس نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ طلحہ سے پوچھا تھا کہ اس کی فیملی میں کون کون ہے مگر وہ ہر بار بات ٹال جاتا تھا اور پھر یہ بات اس نے نور کو بھی نہیں بتائی تھی کہ طلحہ اکیلا ہے اب ایک بند گھر کو کھولتے ہوئے وہ اسے کس سے ملوانا چاہتا تھا؟ کیا اس نے کسی کو قید کر رکھا تھا؟ اسی طرح بہت کچھ سوچتے ہوئے وہ اس کے پیچھے پیچھے اندر چلی آئی
" کس سے ملوانا چاہتے ہو مجھے؟"
اندر ایک کمرے کا دروازہ کھولتے وہ رکا پھر مڑ کر اسے دیکھا کچھ ایسے کہ وہ مزید الجھ گئی پھر بنا کچھ کہے وہ کمرے میں چلا گیا سارہ بھی اس کے ساتھ داخل ہوئی تھی طلحہ نے ہاتھ میں پکڑی چابی سنگھار میز پر ایک تصویر کے ساتھ رکھی جو اوندھی پڑی تھی اس نے وہ تصویر اٹھائی سارہ نے دیکھا وہ ایک لڑکی تھی ایک معصوم سے چہرے والی خوبصورت لڑکی جو مسکرا رہی تھی
" یہ کون ہے؟"
وہ چونکی
" میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں!"
اس کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے وہ اس تصویر کو دیکھنے لگا سارہ چپ ہو گئی
" ایک مڈل کلاس عورت اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی تھی اس کی کل کائنات ہی وہ دو بچے تھے وہ چاہتی تھی کہ اس کے دونوں بچے اچھی زندگی گزاریں وہ ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتی تھی ان کو پڑھانا لکھانا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ اس کے دونوں بچے ایک ایسی زندگی نہ گزاریں جیسی اس نے خود گزاری تھی یعنی غربت میں تنگی میں اور فاقوں میں، شوہر کے انتقال کے بعد اس عورت نے ہر گھر میں جا کر کام کرنا شروع کر دیا وہ خود بھوکا رہ کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی تھی وقت گزرنے کے ساتھ اس کے دونوں بچے اسکول کالج اور پھر یونیورسٹی پہنچ گئے اس کی بڑی بیٹی وہ بہت سادہ اور معصوم تھی اسے نہیں معلوم تھا کہ باہر کی دنیا میں کیسے لوگ ہیں بلکہ نہیں باہر کی دنیا میں کیسے درندے اور جانور ہیں اس کی زندگی تو گھر اور یونیورسٹی کے درمیان ہی گزر گئی تھی اس کا چھوٹا بھائی وہ کالج میں تھا جیسے ہی اس لڑکی کی پڑھائی مکمل ہوئی اس نے جاب شروع کر لی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب بھی اس کی ماں گھروں میں جا کر کام کرے جبکہ اس کے ہاتھ میں ایک ڈگری تھی اور پھر بہت جلد اسے جاب بھی مل گئی وہ بہت محنتی تھی اور اتنی تھی کہ اپنے باس کی نظروں میں آگئی "
وہ رکا اور پھر گہری سانس لی جیسے کچھ یاد کر رہا ہو سارہ دم سادھے اس کی پیٹھ دیکھ رہی تھی۔ وہ پوچھ بھی نہیں سکی کہ وہ اسے ہی کیوں کچھ سنا رہا ہے۔
" اس کا باس اس کے کام سے بہت خوش ہوا اس نے اس لڑکی کی سیلری بھی بڑھا دی گھر آ کر اس نے اپنی ماں کو یہ خوشخبری سنائی ماں بھی بہت خوش ہوئی انہیں لگ رہا تھا کہ جیسے اب برا وقت ختم ہو چکا ہے اب وہ اپنے بھائی کو بھی کسی اچھے کالج میں بھیجنا چاہتی تھی آہستہ آہستہ وہ لڑکی اپنے باس کے قریب ہوتی گئی اتنا کہ ایک دن اس کے باس نے کہا کہ وہ ایک کام کے سلسلے میں اس سے ملنا چاہتا ہے وہ چلی گئی بنا کسی کو بتائے بنا کسی سے پوچھے وہ اسے اپنے ایک ذاتی ہوٹل میں لے گیا تھا اگر اس لڑکی کو ذرا بھی بھنک پڑ جاتی کہ وہ کس کام کے سلسلے میں اسے بلا رہا ہے تو وہ جانا تو دور کبھی اس کے آفس کا بھی رخ نہ کرتی میں نے کہا نا وہ بہت سادہ تھی تمہیں پتہ ہے اس کے باس نے اسے وہاں کیوں بلایا تھا؟"
اچانک بولتے بولتے وہ رکا پھر مڑ کر سارہ کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھا جو سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی
وہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے سامنے جا کھڑا ہوا سارہ نے دیکھا طلحہ کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں وہ بہت ضبط سے اسے دیکھ رہا تھا
" اس نے میری بہن کی معصومیت چھین لی اس نے میری بہن کو برباد کر ڈالا تمہارے بھائی نے میری بہن کو تباہ کر ڈالا "
وہ اتنی زور سے چلایا تھا کہ وہ ڈر کے مارے دو قدم پیچھے ہٹی
" نہیں یہ۔۔۔کیا کہہ رہے ہو۔۔۔ تم ۔۔۔۔میرا بھائی؟؟؟ کیا مطلب۔۔۔ یہ جھوٹ ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے "
سارہ نے بے یقینی سے کہا طلحہ تیزی سے آگے بڑھا اور اس کی گردن پکڑ لی
" دو دن بعد اس نے میری بہن کو ہمارے گھر کے سامنے پھینکوا دیا تھا وہ مر گئی تھی اور پھر میری ماں بھی اسے دیکھتے اسی دن مر گئی تھی اور میں اکیلا رہ گیا تمہارے بھائی نے میری فیملی کو ختم کر ڈالا وہ ایک شیطان ہے تمہارے بھائی نے تو نہ جانے کتنی لڑکیوں کو برباد کیا ہے وہ لڑکیوں سے کھلواڑ کرنے والا شخص ہے اس نے تو کبھی اپنے انجام کے بارے میں بھی نہیں سوچا کہ کل کو وہ کیا جواب دے گا اس نے تو یہ بھی نہیں سوچا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا"
اس کی آنکھوں میں دیکھ کر وہ غرا رہا تھا
سارہ کی آنکھوں میں پانی آگیا وہ خود کو چھڑوا رہی تھی مگر ناکام ہو رہی تھی
" مگر۔۔۔ مگر تم تو محبت کرتے ہو نا مجھ سے۔۔۔۔تم ایسا کیسے ۔۔۔۔ کر سکتے ہو"
وہ رو دی
" محبت مائی فٹ!"
اس نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا
" میں تو مر کر بھی تم سے محبت نہ کروں میں تو نکاح بھی تم سے نہیں کرنا چاہتا تھا مگر میں تمہارے بھائی کی طرح بے غیرت اور گھٹیا نہیں ہوں جو۔۔۔۔!"
وہ خاموش ہو گیا
" پلیز طلحہ مت کرو ایسا میں نہیں جانتی کہ یہ سب بھائی نے کیوں کیا میں تم سے وعدہ کرتی ہوں میں واپس جا کر ان سے ضرور بات کروں گی ان سے پوچھوں گی وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے میں ان کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ ایسے نہیں ہیں۔ ضرور تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ میں۔۔۔۔"
چٹاخ کے ساتھ اس کے بولتی بند ہو گئی وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھے گئی طلحہ تیزی سے مڑا اور ایک دراز کھول کر اس میں سے کچھ فائلیں اور پیپرز نکالے ساتھ ایک تصویر بھی تھی اس نے وہ سب کچھ سارہ کے منہ پر پھینک دیا
" دیکھو انہیں "
وہ چلایا سارہ نے نظر جھکا کر ان پیپرز کو دیکھا وہاں اس کے بھائی کے آفس کا نام درج تھا نیچے سائن بھی تھے اور وہ تصویر اس کے بھائی کی تھی میٹنگ کی، جس میں طلحہ کی بہن اور کچھ کولیگز بھی تھے وہ ششدر نگاہوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی
" کیا اب بھی مجھے غلط فہمی ہوئی ہے؟"
اس نے جیسے افسوس سے اسے دیکھا
" پلیز طلحہ! ایم سوری ۔۔۔۔۔ میں بھائی کی طرف سے تم سے معافی مانگتی ہوں انہوں نے بہت غلط کیا دیکھو میں تو محبت کرتی ہوں تم سے تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو تم ان کے گناہوں کی سزا مجھے کیسے دے سکتے ہو اس میں میرا کیا قصور ہے"
وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے
" میری بہن نے بھی کچھ نہیں کیا تھا جو اس گھٹیا آدمی نے اس کے ساتھ یہ سب کیا میں چاہتا ہوں جو تکلیف میں محسوس کر رہا ہوں وہ بھی کرے میں چاہتا ہوں وہ بھی اس جہنم میں گرے جس کو وہ اپنے لیے تیار کرواتا آ رہا ہے"
وہ تیزی سے آگے بڑھا اور دروازہ بند کر دیا سارہ کی آنکھیں پہلی بار خوف سے پھیلی تھیں۔
" مجھے زندگی بھر بس ایک چیز پر افسوس ہوگا کہ میں نے۔۔۔۔ میں نے اپنے دشمن کی بہن سے محبت کر لی۔۔۔ کاش کہ تم وہ نہ ہوتی سارہ! کاش تم عون کے بہن نہ ہوتی"
وہ اس کے قریب آ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
" لیکن اب میں تم سے محبت نہیں کرتا!"
اس نے سارہ کو بالوں سے پکڑ کر اسے بیڈ کی طرف دھکیل دیا
" پلیز طلحہ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ رک جاؤ۔۔۔ تم میرے بھائی جیسے نہیں ہو۔۔۔ ان کے جیسے مت بنو۔"
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
مگر طلحہ جیسے اندھا ہو گیا تھا۔ وہ اس کو نہیں سن رہا تھا۔ وہ روتی چلاتی رہی اسے اپنی محبت کے واسطے دیتی رہی مگر وہ نہیں رکا اس کو اور اس کے بھائی کو گالیاں دیتا رہا اور اسے مارتا رہا۔
مرد کے گناہوں کی سزا اکثر اس کے گھر کی عورتوں کو ملتی ہیں
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Just love it itny twist but is twist ka mje idea hogya ta and Mrs meer and papa ka mje lga ta kuch hoga but past mn ni future mn ab dekhty hain next twist kia ata h 🫰🏻🫰🏻🫰🏻🫰🏻💕💕💕👌🏻👌🏻❣️❣️❤️❤️😍😍
ReplyDelete