Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Gunhegaar EP 7 by Munaza Niaz
ناول: گنہگار
از قلم منزہ نیاز
قسط: 7
اچانک ایک گاڑی جھٹکے سے اس کے سامنے آ کر رکی اگر گاڑی کو بریک نہ لگتی تو وہ ضرور ٹکرا جاتی گاڑی سے چار لوگ باہر نکلے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے اندر دھکیل دیا اس سے پہلے کہ وہ چلاتی ایک سوئی اس کے گردن پر چبھی تھی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور اگلے ہی پل وہ بے ہوش ہو گئی
☆☆☆
سارہ کو گھر چھوڑے آج دو ہفتے ہو چکے تھے عون نے شہر کا کونا کونا چھان مارا تھا لیکن وہ نہیں ملی تھی نور نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ اسے بتا دے مگر جب جب وہ عون کو دیکھتی اس کا اعتماد ڈانو ڈول ہو جاتا وہ بس چاہتی تھی کہ سارہ جہاں بھی رہے خوش رہے مگر ایک چیز تھی جو اسے بہت پریشان کر رہی تھی سارہ نے کہا تھا کہ وہ کسی محفوظ جگہ پہنچنے پر اس سے رابطہ ضرور کرے گی مگر ایسا نہیں ہو سکا کیا پتا ابھی تک وہ نہ پہنچی ہو یہی سوچ کر وہ خود کو تسلی دے لیتی مگر اس کی تسلی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکی آج اسے عون سے بات کرنی ہی تھی
کمرے میں ٹہلتے ہوئے اس نے سوچ لیا تھا کچھ دیر بعد عون اندر داخل ہوا اس نے کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا پھر خود بھی بیٹھ گیا نور نے ایک گہری سانس لی اور اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی
" مجھے بات کرنی ہے"
عون نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا
" ہاں بولو میں سن رہا ہوں!"
عون کو وہ تھوڑی پریشان لگ رہی تھی
" وہ۔۔۔وہ سارہ!!"
اس نے تھوک نگلا عون نے حیرانگی سے اس کو دیکھا
" کیا سارہ؟"
وہ دھیرے سے کھڑا ہوا
" سارہ نے مجھے بتایا تھا کہ وہ کس کے ساتھ جا رہی ہے!"
اس نے تیزی سے کہا
عون پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا ابھی وہ کچھ بولتا کہ کسی نے زور زور سے ان کے کمرے کا دروازہ بجایا
"صاحب! صاحب باہر سارہ بی بی ہیں!"
ملازمہ اونچا اونچا بول رہی تھی عون نور کو سائیڈ پہ کرتا تیزی سے باہر بھاگا وہ لاؤنچ میں پہنچا وہاں کوئی نہیں تھا
" وہ ۔۔۔۔ باہر ۔۔۔۔ہیں!"
ملازمہ گھبرا کر بولی اگلے ہی پل وہ باہر کی طرف بھاگا تھا اس کا دل ڈوب رہا تھا لان بالکل خالی تھا سارہ وہاں نہیں تھی
" کہاں ہے سارہ؟"
وہ گھوم کر ملازمہ پر چلایا ملازمہ کے ساتھ چلتی نور کا سانس رکا
" وہ۔۔۔وہ باہر۔۔۔ سڑک!"
اس کی پوری بات سنے بغیر گیٹ کا دروازہ تیزی سے کھولتا باہر نکلا سامنے سارہ کو دیکھ کر اسے ٹھوکر لگی تھی رات کے گیارہ بج رہے تھے پوری کالونی سنسان پڑی تھی آس پاس کے بنگلوں کی لائٹس جل رہی تھیں سڑک کے کنارے وہ گری پڑی تھی
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اس کے پاس پہنچا گارڈ اسے بتا رہا تھا کہ کیسے ایک گاڑی آئی اور سارہ کو یہاں پھینک کر چلی گئی عون کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تیزی سے اسے اٹھا کر وہ اندر کی طرف آیا
گیٹ کے دروازے پر کھڑی نور کو نظر انداز کرتا وہ آگے بڑھ گیا کمرے میں لے جا کر اس نے سارہ کو بیڈ پر لٹایا
اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے چہرے اور جسم پر جگہ جگہ چوٹ اور نیل کے نشان تھے۔ وہ بے ہوش تھی عون کا دل جیسے پھٹنے لگا تبھی اسے اپنے کندھے پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا طیش میں گھوم کر اس نے ایک زناٹے دار تھپڑ نور کے منہ پر دے مارا وہ پیچھے کی طرف جا گری
" یہی بتانا چاہتی تھی نا تم۔۔۔۔ یہی بتانا چاہتی تھی نا۔۔۔!!"
وہ اتنی زور سے دھاڑا کے نور کے کان بند ہونے لگے
" مجھے۔۔۔مجھے سارہ نے کہا تھا کہ وہ۔۔۔!"
وہ کپکپاتے ہونٹوں سے سہم کر بولنے لگی تھی کہ وہ دوبارہ دھاڑا
" دفعہ ہو جاؤ یہاں سے اس سے پہلے کہ میں کچھ کر گزروں تمہارے ساتھ!"
سختی سے اس کا بازو دبوچے اس نے اسے کمرے سے نکال باہر کیا اور دروازہ زور سے اس کے منہ پر بند کر دیا
" سارہ۔۔ سارہ۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔ دیکھو میں ہوں۔۔عون۔۔۔ سارہ اٹھو!"
وہ نم آنکھیں لیے اس کا چہرہ تھپتھپاتا بول رہا تھا اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا
" سارہ، میری گڑیا۔۔۔کس نے کیا یہ سب تمہارے ساتھ پلیز بولو میں اسے زندہ دفنا دوں گا، بتاؤ مجھے!"
وہ اسے جھنجوڑنے لگا اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا
" بھابھی۔۔۔۔!"
وہ بے ہوشی میں بری طرح رو دی
" بھابھی نے۔۔۔بھابھی نے کہا تھا۔۔۔!"
عون کو لگا وہ کبھی سانس نہیں لے سکے گا وہ بے یقینی سے اٹھا اور پھر گہرے گہرے سانس بھرتا سارہ کو دیکھے گیا اسے لگا کسی نے اس کا دل نکال کر مٹھی میں بھینچ لیا ہو اگلے پل وہ سرخ آنکھیں لیے دروازہ کھول چکا تھا وہ سامنے کھڑی تھی
" کیا ہوا؟ کیا کہا سارہ نے؟"
وہ بے چینی سے بولی
" کیوں کیا تم نے ایسا؟"
سرخ آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑے وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں پوچھ رہا تھا
" کک۔۔۔ کیا مطلب میں نے کیا کیا؟"
وہ اس کی نگاہوں سے خوفزدہ ہوئی تھی
" اتنی نفرت کرتی ہوں مجھ سے، اتنی کہ میری بہن کا بھی احساس نہ کیا۔۔۔کیا بگاڑا تھا اس نے تمہارا۔۔۔ جو کچھ بھی کیا میں نے کیا تمہارے ساتھ، تم مجھے مار دیتی مگر اس کے ساتھ تو یہ سب نہ کرواتیں!"
اس کا چہرہ ضبط کے مارے سرخ ہو رہا تھا
" میں نے کچھ نہیں کیا میں کیوں کروں گی اس کے ساتھ ایسا"
وہ روہانسی ہوگئی
" بند کرو اپنی یہ ایکٹنگ!"
اس کا اشارہ اس کے دوپٹے کی طرف یا شاید اس کی عبادتوں کی طرف تھا
" اور کتنوں کو بے وقوف بنا چکی ہو اپنے اس معصوم چہرے سے تبھی تو میں بھی دھوکہ کھا گیا تھا مجھے کیا معلوم تھا کہ تمہارے اس معصوم چہرے کے پیچھے بھی ایک اور چہرہ ہے تم مجھ سے بدلہ لینے کے لیے اتنا گر جاؤ گی میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم۔۔۔ تم!"
غصے سے اس نے اپنے بالوں کو مٹھی میں بھینچ ڈالا
" مجھ پر الزام مت لگاؤ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا!"
وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے غرائی مگر وہ سن کہاں رہا تھا اس نے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرے پھر نور کو دیکھا
" یاد آیا اسی لیے تم نے اس رات اپنے اس کزن کو بلا لیا تھا تم نے سوچا کہ تمہارا شوہر تمہیں لینے نہیں آئے گا اس لیے کیوں نہ اس موقع کا فائدہ اٹھایا جائے اور یہی بات تو مجھے سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ وہ کیسے تم تک پہنچ گیا تھا اور ایک میں بے وقوف جو ہر دفعہ تم سے دھوکا کھاتا گیا "
وہ جیسے بے بسی سے ہنسا تھا
" تم مجھ پر بہتان لگا رہے عون"
وہ چلائی ایک اس کی پچھلی باتیں ہضم نہیں ہو رہی تھیں اور اوپر سے اس پر جھوٹا الزام اور بہتان
" نکلو یہاں سے ابھی اور اسی وقت.... میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تم ایک جھوٹی اور دھوکے باز لڑکی ہو ابھی اور اسی وقت یہاں سے چلی جاؤ!"
اس کو بازو سے پکڑے وہ اسے باہر کی جانب لے جانے لگا
" تمہاری اب اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے کاش کہ مجھے پہلے معلوم ہو جاتا کہ تم یہ سب کرنے والی ہو تب میں تمہیں دیکھتا کہ تم یہ کیسے کرتی۔۔۔ لیکن افسوس کہ مجھے معلوم نہیں ہو سکا دفع ہو جاؤ یہاں سے اور آئندہ یہاں کا رخ بھی نہ کرنا"
گیٹ سے باہر نکال کر وہ چلایا
" مر گئی ہو تم میرے لیے"
انگلی اٹھا کر اسے کہتا وہ تیزی سے پلٹ گیا اور دروازہ زور سے بند کر دیا پیچھے وہ بند دروازے کے پار کھڑی چلا رہی تھی دروازہ پیٹ رہی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ وہ رات کے اس اندھیرے میں کہاں جائے گی لیکن وہ کان لپیٹے چلتا گیا اس کی آنکھوں سے تیزی سے آنسو گر رہے تھے جنہیں وہ آستین سے بار بار صاف کر رہا تھا
اس کی دنیا راکھ ہو گئی تھی
☆☆☆
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو کرسی سے بندھا ہوا پایا اس کے دونوں ہاتھ سختی سے بندھے تھے کمرے میں نیم اندھیرا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ کسی کے بھاری قدموں کی دھمک اس کے کانوں میں پڑی وہ چونکی
اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے اس نے دیکھا کوئی شخص اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہے
" کون ہو تم؟"
اس کے چہرے پر خوف تھا اس کے سامنے بیٹھا شخص اندھیرے میں ڈوبا تھا اس کی بات سن کر وہ ہلکا سا ہنسا وہ دوبارہ چونکی
" ابھی پتہ چل جائے گا کہ میں کون ہوں۔۔۔ اب اتنی بھی کیا جلدی ہے ابھی تو بہت وقت ہے ہمارے پاس تم پریشان مت ہو سب بتا دوں گا تمہیں"
وہ دھیمے لہجے میں کہتا اپنا چہرہ اس کے قریب لے گیا
اور وہ چہرہ؟ چہرہ۔۔۔؟ وہ سناٹے میں رہ گئی
☆☆☆
جب کافی دیر تک کسی نے دروازہ نہ کھولا تو وہ پلٹ گئی رو رو کر اس کی آنکھیں درد کرنے لگی تھیں اس نے چہرہ صاف کیا اور دوپٹہ اچھی طرح خود پر لپیٹ لیا وہ تو شکر تھا کہ وہ چھوٹے کے بجائے بڑے دوپٹے لیتی تھی مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہو جائے گا وہ سڑک کے کنارے محتاط نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی تیز تیز چل رہی تھی پوری کالونی خالی تھی کچھ گھروں کے سامنے گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں
تھوڑا دور جا کر اسے احساس ہوا کہ ایک گاڑی اس کا پیچھا کر رہی ہے اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا جھٹکا اسے تب لگا جب وہ گاڑی اس کے قریب آ کر رکی اس نے چونک کر ادھر دیکھا اندر ایک لڑکی تھی وہ گاڑی سے نکل کر اس کے سامنے آئی
" ایکسکیوز می، کیا آپ کہیں جا رہی ہیں اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ڈراپ کر سکتی ہوں میں دراصل اسی کالونی میں رہتی ہوں اور میں کافی دیر سے آپ کو دیکھ رہی تھی اگر آپ۔۔۔۔برا نہ مانیں۔۔۔ تو آپ میرے ساتھ چل سکتی ہیں۔۔۔ مجھ پر ٹرسٹ کر سکتی ہیں"
وہ لڑکی نرمی سے بولی
نور نے کچھ لمحہ سوچا پھر کچھ کہے بغیر اس کی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی جیسے ہی وہ لڑکی گاڑی میں بیٹھی نور نے اس جگہ کا نام بتایا جہاں وہ جانا چاہتی تھی اس لڑکی نے سر ہلا کر گاڑی سٹارٹ کر دی پورا راستہ وہ خاموش بیٹھی رہی نہ اس نے اپنا نام بتایا نہ اس کا نام پوچھا وہ لڑکی بھی مسلسل خاموشی کے ساتھ ڈرائیونگ کرتی رہی
" میں نے آپ کو دیکھا تھا جب آپ کے ہسبینڈ نے آپ کو گھر سے باہر نکالا تھا میں آپ کے گھر کے دائیں طرف بنے گھر میں رہتی ہوں مجھے لگا شاید آپ کو ہیلپ کی ضرورت ہے اسی لیے میں اپنی گاڑی نکال کر لے آئی "
جب ان کی گاڑی ان کے مطلب گھر کے سامنے رکی تو وہ لڑکی بولی
" آپ کا بہت شکریہ اگر آپ نہ ہوتی تو شاید میں کبھی نہ پہنچ پاتی بہت شکریہ آپ کا"
نور نے مسکرا کر کہنا چاہا مگر وہ مسکرا نہ سکی
" اٹس اوکے میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا"
وہ لڑکی دھیرے سے مسکرائی نور نے ایک مرتبہ پھر اس کا شکریہ ادا کیا اور کار سے باہر نکل آئی گاڑی واپس پلٹ گئی
وہ دروازے کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی اور اگلے ہی پل اس نے زور زور سے اسے بجانا شروع کر دیا کچھ لمحوں بعد دروازہ کسی ملازم نے کھولا تھا وہ ڈگمگاتے قدموں سے اندر داخل ہوئی لاؤنج اندھیرے میں ڈوبا تھا وہ تیزی سے کمرے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول دیا پورے گھر کے علاوہ صرف اسی کمرے میں روشنی تھی سامنے سراج الحسین دوائی کھا کر پانی کا گلاس واپس رکھ رہے تھے انہوں نے چونک کر سامنے دیکھا
" نور!! بچے تم اس وقت؟"
وہ شدید حیران ہوئے
" اس نے مجھے گھر سے نکال دیا بابا"
وہ ساکت نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی
" کیا؟ لیکن کیوں؟"
وہ اٹھنا چاہتے تھے لیکن نہیں اٹھ سکے وہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہو چکے تھے نور نے ان کی بات سنی اور ہنس پڑی کچھ اس طرح کہ اس کی آنکھیں چھلک پڑیں
" کمال کرتے ہیں آپ بھی۔ کیا آپ اس کو نہیں جانتے یا پھر آپ جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں"
وہ زمین پر گھٹنوں کے بل گر گئی اس کے آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے گر رہے تھے سراج الحسین کچھ کہنا چاہتے تھے مگر کچھ کہہ نہیں پا رہے تھے
" اس نے مجھ پر الزام لگایا اس نے مجھ پر بہتان لگایا مجھے جھوٹا اور دھوکے باز کہا اور پھر۔۔۔ مجھے گھر سے نکال دیا۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی میں زندہ کیسے ہوں میں مر کیوں نہیں گئی۔۔۔ دیکھیں بابا آج تک آپ کی وجہ سے میں کیا کچھ سہتی آئی ہوں۔۔۔ اس نے مجھے تھپڑ بھی مارا ہے ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ مگر میں برداشت کرتی رہی کیوں کہ میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتی تھی اس کے گھر کے علاوہ میرا کوئی اور گھر نہیں تھا مگر اب مجھے معلوم ہوا کہ وہ گھر بھی میرا نہیں تھا!"
وہ بری طرح رو رہی تھی
سراج الحسین بری طرح پریشان ہوئے وہ رو رہی تھی اور وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہے تھے وہ اٹھنا چاہتے تھے اس کے پاس جا کر اسے چپ کروانا چاہتے تھے مگر۔
" کاش میری ماں زندہ ہوتی کاش میرا باپ زندہ ہوتا تو آج مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا میں اتنی گنہگار تو نہیں تھی کہ یہ سب میرے ساتھ ہوتا میں نے تو کبھی کسی کا دل بھی نہیں دکھایا کاش کہ آپ اس وقت میرے بارے میں تھوڑا سا سوچ لیتے کچھ تو احساس کر لیتے اگر اتنی ناپسند تھی تو مجھے کہیں بھجوا دیتے یا اپنے ہاتھوں سے مار دیتے مگر میرے ساتھ یہ سب تو نہ کرتے میں کبھی معاف نہیں کروں گی نہ آپ کو نہ عون کو مجھے معلوم ہے جس دن اسے حقیقت معلوم ہوئی وہ پچھتائے گا اور بہت پچھتائے گا مگر میں اس کو کبھی معاف نہیں کروں گی میں نے اپنی زندگی میں صرف دو لوگوں کو عزیز جانا تھا ایک آپ کو اور دوسرا عون کو مگر دونوں نے مجھے رلایا مجھے انسان نہیں کھلونا سمجھا ایک نے بیچا دوسرے نے خریدا اور اس کھیل میں وہ کھلونا کب ٹوٹا دونوں کو یہ احساس نہ ہوا"
وہ دھیرے سے کھڑی ہوئی
" ادھر آؤ نور۔۔۔ میرے بچے ادھر آؤ اپنے بابا کو معاف کر دو میں معافی کے لائق نہیں ہوں مگر میں اس شرمندگی کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکوں گا "
وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگے مگر وہ تیزی سے مڑی اور دروازہ پار کر گئی
☆☆☆
جب سے وہ ہوش میں آئی تھی مسلسل خاموش تھی اس کی حالت کے پیش نظر وہ اس سے بات نہیں کر سکا تھا ایک نرس مسلسل اس کی دیکھ بھال کے لیے ساتھ تھی مگر آج وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا
اس کے کمرے میں پہنچ کر اس نے نرس کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور جب وہ باہر گئی تو وہ اس کے سامنے بیٹھا
" کیسی ہو سارہ؟"
وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا اس کے چہرے پر زمانے بھر کی فکرمندی تھی سارہ نے نظر تک نہیں اٹھائی تھی بس بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے اپنے ہاتھوں کو گھورتی رہی اس کے چہرے پر نیل کے نشان اب مندمل ہونے لگے تھے
" میں کچھ پوچھ رہا ہوں سارہ! کس نے کیا یہ سب مجھے بتاؤ"
اس نے سارہ کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر اس نے بے دردی سے جھٹک دیا
" کیوں پوچھ رہے ہیں آپ؟ کیا کر لیں گے آپ اس کے ساتھ؟ مجھے بھی تو معلوم ہو "
سارہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی غصے سے بولی
" بہت کچھ کر سکتا ہوں میں۔۔۔ تم مجھے بتاؤ کہ تم کہاں تھی کس کے ساتھ تھی کیا ہوا تھا مجھے بتاؤ میں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا اس شخص کو"
اس کے لہجے کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ بولا
" ہاں میں بتاتی ہوں آپ کو کہ میرے ساتھ کیا ہوا"
وہ دھیرے سے سیدھی ہوئی اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور پھر جیسے جیسے وہ بتاتی گئی عون کا چہرہ سرخ ہونے لگا
" رک جاؤ سارہ"
وہ تیزی سے بولا
" نہیں نہیں آپ سنیں پوری کہانی سنیں۔۔۔ کہ اس شخص نے میرے ساتھ کیا کیا اس نے مجھے اتنا مارا کہ میں دو دن تک بے ہوش رہی اور جب میں ہوش میں آئی تو وہ میرے ساتھ کھیلنا شروع کر دیتا آپ کو معلوم ہے وہ کتنی محبت کرتا تھا مجھ سے؟"
وہ جو ضبط سے اسے سن رہا تھا اس کے بات پر بے اختیار چونکا
" کیا مطلب۔۔۔؟"
" میں اپنی مرضی سے طلحہ کے ساتھ گئی تھی بھائی! میں سمجھی تھی کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔۔ مگر وہ تو کسی بدلے کے چکر میں مجھے لے کر گیا تھا"
بولتے بولتے وہ کھوسی گئی عون بالکل ساکت ہو گیا
" آپ کو پتہ ہے اس نے میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا صرف اور صرف آپ کی وجہ سے"
اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ غررائی
" میری وجہ سے؟"
وہ ششدر ہوا
" ہاں آپ کی وجہ سے۔۔۔ اس کی بہن آپ کے آفس میں کام کرتی تھی آپ نے کیا کیا اس کے ساتھ مجھے تو شرم آ رہی ہے آپ کو اپنا بھائی کہتے ہوئے۔۔۔آپ نے تو میرے بارے میں بھی نہیں سوچا، بھابھی نے کہا تھا کہ وہ اچھا لڑکا نہیں ہے وہ جھوٹا ہے۔ بھابھی نے مجھے بہت روکا انہوں نے مجھے بہت سمجھایا تھا مجھے کہا تھا کہ میں گھر سے نہ بھاگوں آپ سے بات کروں آپ کو مناؤں مگر میں طلحہ کی باتوں میں آ گئی تھی اس کی جھوٹی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی۔۔۔ آپ کو ذرا شرم نہ آئی یہ سب کرتے ہوئے طلحہ کی بہن مر گئی تھی لیکن میں زندہ ہوں پتہ نہیں کیسے مگر میں بچ گئی شاید آپ کو احساس دلانے کے لیے شاید آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے "
وہ اس پر بری طرح چلا رہی تھی
" آپ نے بھابھی کے ساتھ بھی یہ سب کیا تھا میں نے ان کو کبھی آپ کے ساتھ خوش نہیں دیکھا۔ کیوں؟ آج میں جان گئی ہوں میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ ایسے نکلیں گے"
تیز تیز بولتے وہ رکی اس کا سانس پھول گیا عون پتھریلی نگاہوں سے اس کو دیکھتا رہا وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ سارہ ابھی بھی بول رہی تھی
" آپ کو معلوم ہے ہم لڑکیاں پیار میں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ ہم جان بوجھ کر اندھی بن جاتی ہیں کوئی لڑکا صرف مسکرا کر دیکھ لے تو ہم اسے محبت سمجھ بیٹھتی ہیں اگلا شخص ہمارے جذبات کے ساتھ کھیل کر چلا جاتا ہے اور ہم رونے اور پچھتانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتیں ہم میں اتنی ہمت ہی نہیں ہوتی کہ جا کر اس کا منہ توڑ دیں۔۔۔ وہ ہم سے ہماری تصویریں مانگتا ہے تو کبھی ویڈیوز مانگتا ہے اور ہم بنا سوچے سمجھے انہیں بھیج دیتیں ہیں اس یقین کے ساتھ کہ کل کو ہماری شادی تو صرف اسی سے ہوگی نا اور پھر وہ کیا کرتا ہے ماں باپ کا بہانہ بنا لیتا ہے کہ نہیں مان رہے یا چھوڑ کر چلا جاتا ہے میں یہ نہیں کہتی کہ سارا قصور صرف لڑکوں کا ہوتا ہے ہم لڑکیاں بھی اس میں برابر کی قصوروار ہوتی ہیں وہ تو ہمارے لیے نامحرم ہوتا ہے یہ جان کر بھی ہم اس سے باتیں کرتی ہیں اسے تصویریں تک بھیج دیتی ہیں اور اگر وہ ملنے کا کہے تو ہم کچھ دقتوں کے بعد مان بھی جاتی ہیں ہم لڑکیوں کو ایسا نہیں ہونا چاہیے بھائی۔۔۔ لیکن یہاں پر زیادہ قصوروار آپ ہیں آپ میرے مجرم ہیں آپ کی وجہ سے ہوا جو ہوا میرے ساتھ طلحہ نے کہا کہ اس نے گناہ نہیں کیا اس نے پہلے مجھ سے نکاح کیا ہے کیا واقعی یہ گناہ نہیں تھا اس نے میرا دل توڑا ہے بھائی! میری ایک بات یاد رکھیے گا آپ جیسے مرد ہوتے ہیں جو گناہ کرتے وقت بھول جاتے ہیں کہ ان کے گھر میں ان کی بہن بیٹی بھی ہیں کل کو ان کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو سکتا ہے آپ بھول جائیں کہ آپ کی کوئی بہن بھی تھی آپ نے اپنی بہن کو کھو دیا ہے مر گئی وہ سارہ جو آپ سے محبت کرتی تھی یہ سارہ آپ سے اب صرف شدید نفرت کرتی ہے چلیں جائیں یہاں سے میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ جائیں یہاں سے"
وہ اسے دھکے دینے لگی عون اٹھا اور تیزی سے باہر نکل گیا وہ اس سے نظر ملانے کے قابل نہیں رہا تھا
☆☆☆
یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہو گیا تھا؟ سناٹے میں گھرا وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا
ہہ سب نور کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی اپنی وجہ سے ہوا تھا اس نے دروازہ بند کیا اور پھر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا
ہر طرف اندھیرا تھا اس نے گناہ کرنا تو چھوڑ دیا تھا مگر اس نے پچھلے گناہوں کی معافی نہیں مانگی تھی اس نے اندھیرے میں کسی کو تلاشنا چاہا مگر اس نے اپنے کمرے، اپنی زندگی کی روشنی، اپنی نور کو خود ہی بجھا دیا تھا دیوار پر ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہوئے اس نے کمرہ روشن کر دیا پورا کمرہ خالی تھا وہ کہیں نہیں تھی
اس نے ایک زوردار ٹھوکر سے شیشے کی میز الٹ دی بیڈ کی چادر نوچ کر دور پھینکی سنگھار میز پر رکھی پرفیومز کی بوتلیں اٹھائیں اور دیوار میں دے ماری
اس نے ہاتھ کا مکا بنایا اور آئینے پہ مارتا گیا چھوٹی چھوٹی کرچیاں اس کے ہاتھ میں کھب گئیں مگر وہ رکا نہیں چلاتا رہا مارتا رہا
کاش کہ وہ ایسا نہ کرتا کاش وہ سوچتا کہ اس کی بہن بھی ہے
گناہ کرتے ہوئے انسان بھول جاتا ہے کہ اس کی سزا آخرت میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی مل جاتی ہے کاش اسے یاد ہوتا۔۔۔۔کاش!!
☆☆☆
کچھ دنوں بعد ہی اسے ڈاک موصول ہوئی تھی وہ طلاق کے کاغذات تھے اور ساتھ میں چھوٹا سا نوٹ بھی تھا
" میں چاہتا تو تمہیں مار سکتا تھا مگر میں نے ایسا نہیں کیا معلوم ہے کیوں؟ کیونکہ میں چاہتا تھا تم بھی اس درد سے گزرو جس سے میں گزرا تھا تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ جب اپنے سے جڑے شخص کو ہم کسی تکلیف میں دیکھتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے میں نے سارہ کو طلاق دے دی ہے میں چاہتا تو اس سے نکاح ہی نہ کرتا مگر میں تمہاری طرح گھٹیا نہیں تھا تمہاری بہن بہت معصوم ہے وہ بہت محبت کرتی تھی تم سے اور میں یہ محبت ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اور یقیناً وہ ختم ہو گئی ہوگی"
عون کے ہاتھ سے کاغذ چھوٹ کر نیچے جا گرا اس کا دماغ جیسے کچھ سوچنے کے قابل نہیں رہا تھا اگلے پل وہ تیزی سے باہر نکلا گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے طیش میں گاڑی سٹارٹ کی گیٹ کھلتے ہی اس نے زن سے گاڑی گھر سے باہر نکالی
خالی ذہن کے ساتھ وہ ریش ڈرائیو کر رہا تھا دو دفعہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچ گیا ایک گھنٹے کا سفر اس نے بیس منٹ میں طے کیا تھا جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ ایک گھر کے سامنے رکا مگر وہاں تالا لگا تھا
اس نے نور کو اس طرح گھر سے نکالا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسے چھوڑ کر جا چکی تھی پاس سے گزرتے اس نے ایک شخص سے پوچھا
" وہ لوگ کچھ دنوں پہلے یہاں سے چلے گئے تھے انہوں نے کسی کو نہیں بتایا معلوم نہیں کہاں گئے"
اس شخص نے کندھے اچکا کر کہا اور آگے بڑھ گیا
وہ ڈگمگاتے قدموں سے گاڑی کی طرف آیا اس کا دل اتنا آہستہ دھڑک رہا تھا گویا ابھی بند ہو جائے گا یہ اس نے کیا کر دیا اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی ہی دنیا اجاڑ دی تھی وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ اس نے کچھ نہیں کیا مگر وہ اس کی سنتا تو تب کچھ سمجھتا غصے میں وہ اتنا اندھا ہو گیا تھا کہ وقت دیکھے بغیر اس کو گھر سے نکال دیا تھا کیا وہ گھر بھی پہنچی تھی کہیں اس کے ساتھ کوئی حادثہ تو نہیں ہو گیا تھا؟
گاڑی میں بیٹھا وہ ڈیش بورڈ پر سر ٹکا گیا اس کے ہاتھ کانپنے لگے سانسیں بھاری ہو گئیں اس میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ وہ گاڑی سٹارٹ کرتا
اچانک اس کا موبائل بجا اور پھر وہ کافی دیر تک بجتا رہا مگر اس نے نہیں اٹھایا اس نے گاڑی سٹارٹ کی وہ کیسے واپس پہنچا یہ صرف وہی جانتا تھا جب وہ گھر میں داخل ہوا تو ایک ملازمہ تیزی سے اس کی طرف بھاگتی ہوئی آ رہی تھی
"صاحب! سارہ بی بی۔۔۔ وہ بہت رو رہی ہیں چپ نہیں ہو رہی"
وہ اندر کی طرف بھاگا لاؤنج میں سارہ صوفے کے ساتھ نیچے بیٹھی تھی اس کے ہاتھ میں وہ نوٹ اور کاغذ تھا جو وہ تھوڑی دیر پہلے گرا گیا تھا
پھر سے ایک اور غلطی۔۔۔
" سارہ!"
اس نے اس کے پاس جا کر اسے دھیرے سے پکارا اس نے سارہ کے ہاتھ سے وہ کاغذ لینا چاہا مگر سارہ نے اس کے ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہی اس نوٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کے سینے پر دے مارے
" خوش ہو جائیں آپ دیکھیں آج آپ کی وجہ سے میرے ساتھ کیا ہو گیا دیکھیں اس نے مجھے طلاق دے دی میری زندگی تباہ ہو گئی وہ بھی میرے کسی اپنے کی وجہ سے کاش آپ میرے بھائی نہ ہوتے شاید ایسے نہ ہوتے!"
وہ روتے ہوئے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی جب کہ عون سر دونوں ہاتھوں میں گرائے وہیں صوفے پر گر گیا تھا۔
☆☆☆
" تم؟"
وہ بولی بھی تو صرف اتنا
" ہاں ہاں میں!!"
اس کے انداز پر وہ عجیب سی ہنسی ہنسا
" یہ سب تم نے کیا ہے؟"
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا
" میرے علاوہ کس میں اتنی جرات ہو سکتی ہے جو تم پر نظر رکھے"
اس شخص نے کرسی سے ٹیک لگائی اور ٹانگ پر ٹانگ جما دی اب وہ محظوظ ہوتی نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا
" لیکن کیوں؟ تم نے آخر ایسا کیوں کیا کھولو مجھے کیوں باندھ رکھا ہے!"
اس نے کلائیوں کو جھٹکا
" کھول دوں گا اب اتنی بھی کیا جلدی ہے اور بتا دیتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا، صبر کرو۔۔بس تھوڑا سا!!"
سیدھا ہوتے ہوئے وہ مسکرایا
" دیکھو مجھے جانے دو بابا کو نہیں معلوم وہ پریشان ہو رہے ہوں گے میں۔۔۔!"
اچانک اس شخص نے اس کی بات کاٹ دی
" انہیں پریشان ہی تو کرنا چاہتا ہوں اور دیکھو میں اس میں کامیاب بھی ہو رہا ہوں تمہارا موبائل پچھلے ایک گھنٹے سے بج رہا ہے!"
اس کی آنکھوں میں مسکراہٹ تھی
" کیوں کر رہے ہو تم یہ سب؟"
وہ روہانسی ہو گئی
" اب کی تم نے عقل والی بات۔۔۔ اچھا سنو میں اب تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں یقیناً تم بور نہیں ہوگی صبح تک میری کہانی ختم ہو جائے گی پھر میں تمہیں واپس چھوڑ آؤں گا!"
وہ حیران ہوئی
" مجھے کچھ نہیں سننا تم مجھے کھولو مجھے واپس جانا ہے!"
وہ ایک دم غصے سے بولی
" ریلیکس یار کہا تو ہے کھول دوں گا واپس بھی خود ہی چھوڑ آؤں گا تم بالکل بے فکر ہو جاؤ اچھا ایک کام کرتا ہوں تمہارے ہاتھ کھول دیتا ہوں اب اتنا بھی بزدل نہیں ہوں کہ ایک لڑکی کو باندھ کر رکھوں!"
اس نے آرام سے اس کے دونوں ہاتھ کھول دیے وہ ہاتھوں کو سہلاتی ابھی تک اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی
" ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ۔۔۔۔!"
اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ بولنا شروع ہوا۔
تاریخ ایک دفعہ پھر دہرائی جا رہی تھی وقت بھی وہی تھا وجہ بھی وہی تھی بس جگہ اور لوگ بدل گئے تھے
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Noor ko bata dena chye ta i knew k esa hi kuch hony wala hai kahan achy se agy ja ri hai hats off writer g ❤️ lots of love 😚
ReplyDelete