Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Gunhegaar EP 8 by Munaza Niaz
گنہگار
از منزہ نیاز
قسط 8
وہ کب سے اس کے کمرے کا دروازہ بجا رہے تھے مگر وہ نہیں کھول رہی تھی تبھی انہوں نے اپنے ملازم کو دوسری چابی لانے کا کہا۔ اگلے لمحے جب وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو اسے بیڈ کی پائینتی کے ساتھ سر ٹکائے نیچے بیٹھا پایا۔ انہوں نے آگے جا کر اس کا کندھا تھپتھپایا تو وہ لڑھک کر نیچے گر گئی۔ وہ بے ہوش تھی۔ انہوں نے اپنے پیچھے کھڑے ملازم کو ایمبولینس بلانے کا کہا اور پھر اسے نم آنکھوں سے پکارنے لگے۔ مگر وہ نہیں اٹھ رہی تھی۔ ہسپتال جاتے ہوئے وہ پورا راستہ دعائیں کرتے رہے۔
"کمزوری اور ڈپریشن کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئیں تھیں بی پی کافی حد تک لو تھا۔ ان کے ہسبینڈ کہاں ہیں؟ اس حالت میں تو ان کو ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ فی الحال آج رات وہ یہاں ایڈمٹ ہیں آپ کل صبح انہیں لے جا سکتے ہیں۔ اور پلیز ان کا خاص خیال رکھیں۔ اس حالت میں ڈپریشن ماں اور بچے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ آپ یہ میڈیسن ان کو کھلا دیجیئے گا"
ڈاکٹر ان کو تفصیل سے آگاہ کر رہی تھیں انہوں نے خاموشی سے وہ چٹ پکڑ لی
" کیا میں اس سے مل سکتا ہوں؟"
" نہیں! فی الحال وہ آرام کر رہی ہیں آپ صبح ان سے مل سکتے ہیں!"
وہ محض سر ہلا کر رہ گئے ملازم ان کی ویل چیئر دکھیلتا ہوا باہر آگیا پوری رات انہوں نے ہاسپٹل کے کوریڈر میں گزاری تھی صبح جب وہ اس کے کمرے میں گئے تو وہ ٹیک لگائے خاموشی سے سامنے بنی ایک پینٹنگ کو دیکھ رہی تھی نرس اس کی ڈرپ اتار کر جا چکی تھی ان کا ایک ملازم کچھ پھل اور جوس وغیرہ لے آیا تھا ملازم کے جانے کے بعد انہوں نے جوس کا ڈبا اس کی طرف بڑھایا نور نے خاموشی سے تھام لیا
" کیسی طبیعت ہے اب تمہاری؟"
انہوں نے نرمی سے پوچھا
" پہلے سے زیادہ ٹوٹ گئی ہوں!"
وہ ابھی تک پینٹنگ کو دیکھ رہی تھی۔ انہیں دکھ ہوا
" کیا عون جانتا ہے کہ تم۔۔۔"
نور نے ان کی بات کاٹی
" نہیں"
وہ خاموش ہو گئے
" کیا تم واپس اس کے پاس جاؤ گی؟"
" نہیں "
یک لفظی جواب
" کیا تم اسے چھوڑنا چاہتی ہو ؟"
وہ دوبارہ بولے
" مجھے طلاق چاہیے میں کبھی واپس نہیں جاؤں گی اگر میں آپ پر آج بھی بھاری ہوں تو مجھے بتا دیں میں یہاں سے بھی چلی جاؤں گی!"
ان کی آنکھوں میں دیکھتی وہ سپاٹ انداز میں بولی
" تم جو بھی فیصلہ کرو گی میں تمہارے ساتھ ہوں گا تمہارے بابا ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں گے"
اس کی دوسری بات کو وہ مکمل نظر انداز کر گئے تھے
" میرا کوئی باپ نہیں ہے جو تھا وہ مر چکا ہے "
اس کا لہجہ کانپتا ہوا تھا
" کیا تم مجھے بابا نہیں بلاتی تھی"
ان کو مزید دکھ ہوا
" بلاتی تھی وہ بھی خوش فہمی میں!"
" تم مجھے ابھی بھی بلا سکتی ہو میں مانتا ہوں کہ مجھ سے غلطی نہیں گناہ ہوا تھا اور اب اتنا کچھ ہونے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ میں کیا کر چکا تھا"
ان کے لہجے میں نمی تھی
" سب کچھ کھونے کے بعد آپ کو احساس تو ہوا بس یہی بہت بڑا احسان ہے آپ پر"
اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی مگر اس کا انداز جارحانہ تھا
" کوئی بھی ٹھوکر لگنے سے پہلے نہیں سنبھلتا اس کا اندازہ مجھے ٹھوکر لگنے کے بعد ہوا تھا"
وہ رونے لگے تھے
" پلیز بابا بس کریں میں ناراض نہیں ہوں آپ سے بس میں پہلے جیسی نہیں رہی"
اس کے آنسو آنکھوں سے نکل کر گال پر پھسل گئے
" اپنے بابا کے لیے پہلے جیسی بن جاؤ میری بیٹی!"
انہوں نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھپکا
" بہت مشکل ہے بابا واپس پلٹ جانا بہت مشکل ہے"
وہ ان کے کندھے سے سر ٹکائے رونے لگی
" مشکل ہے مگر ناممکن نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا بس اب رونا نہیں ہے"
انہوں نے نرمی سے اس کا سر سہلایا
" مجھے یہاں نہیں رہنا بابا مجھے یہاں سے لے چلیں۔۔۔ کہیں دور ورنہ۔۔۔ ورنہ میں مر جاؤں گی پلیز بابا!"
سر اٹھائے وہ جیسے التجا کرنے لگی تھی
" جیسا تم کہو گی ویسا ہوگا"
وہ دھیرے سے مسکرا دیے اور پھر۔۔۔
اس شام کو وہ یہ شہر چھوڑ کر چلے گئے اس نے اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کر دی تھی اب وہ ہر وقت کتابوں میں لگی رہتی۔ اس نے اپنی دنیا کتابوں میں بسا لی تھی دو ماہ بعد اس نے طلاق کے کاغذات ڈاک کے ذریعے عون کو پہنچا دیے تھے ایڈریس اس نے نہیں لکھا تھا وہ اس کے سامنے نہیں آنا چاہتی تھی
سراج الحسین اب اس کا پورا پورا ساتھ دے رہے تھے وقت پر لگا کر اڑتا گیا اور اس کی جھولی میں ایک نعمت ڈال گیا اس میں اب پہلے جیسی بات نہیں رہی تھی وہ اب ہر وقت رونے دھونے والی نور نہیں رہی تھی
ماسٹرز کے بعد اس نے گریجوئیشن کرنے کا سوچا عون کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا اس کا دل اسے کہتا کہ چھوڑ دو اپنی ضد معاف کر دو جبکہ اس کا دماغ اسے ہر وہ بات یاد دلاتا ہر وہ دکھ ہر وہ اذیت جو عون نے اسے دی تھی اور پھر عون کا اسے آدھی رات کو گھر سے نکال دینا وہ یہ سب بھولنا چاہتی تھی مگر بھول نہیں پا رہی تھی۔ اس نے اپنے دل کو ایک مضبوط قلعے میں بند کر دیا
وہ دل کی نہیں اب دماغ کی سنتی تھی کیونکہ دل میں وہ رہتا تھا جو نکلتا ہی نہیں تھا اور وہ یہ اعتراف کرنا نہیں چاہتی تھی اب وہ پہلے سے زیادہ خاموش ہو گئی تھی گھر میں صرف تین لوگ تھے وہ بابا اور اس کا چار سال کا بیٹا ایک دن جب وہ تیار ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی تو کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی تھی وہ اچانک ہی ایسے بیٹھے بیٹھے کہیں گم ہو جاتی تھی بابا نے ساتھ بیٹھے اپنے نواسے کے کان میں کچھ کہا تو وہ اوکے کہتا ہوا تیزی سے باہر بھاگ گیا تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ میں ایک بڑا سا گلاب لیے نور کی طرف بڑھا رہا تھا
نور نے چونک کر پہلے اسے اور پھر گلاب کو دیکھا
" ہیپی برتھ ڈے ممی!"
سرخ گالوں اور گوری رنگت والا وہ بچہ جو کے عون کی کاپی تھا وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا آنکھوں میں نمی لیے نور نے بابا کو دیکھا وہ مسکرا رہے تھے
" تھینک یو بیٹا"
اس نے مسکرا کر وہ گلاب تھاما اور پھر اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا جھک کر اس کے دونوں گال باری باری چوم لیے وہ کھلکھلایا وہ بھی ہنسی
" ہمیشہ خوش رہو "
بابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی وہ نم آنکھوں سے مسکرائی
" شکریہ بابا اگر آپ دونوں نہ ہوتے تو نہ جانے میرا کیا ہوتا"
وہ اپنے بیٹے کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی
" ایسا مت سوچا کرو کہ فلاں ہماری زندگی میں ہوتا تو یہ ہوتا نہ ہوتا تو وہ ہوتا، انسان اپنی زندگی میں اکیلا آگے بڑھتا ہے بس جو لوگ اس سفر میں اس کے پاس آتے ہیں وہ اس کے اکیلے پن کو ختم کر کے اس کا حوصلہ بڑھاتے ہیں کہ کہیں وہ زندگی میں آگے اکیلے بڑھنے سے تھک نہ جائے مایوس ہو کر اپنا سفر نہ روک لے بس تم مایوس نہ ہوا کرو اور ہمیشہ اچھا سوچا کرو، خوش رہا کرو "
وہ نرمی سے بول رہے تھے نور نے مسکرا کر سر ہلا دیا گریجوئیشن کے بعد بھی اس نے تعلیم جاری رکھی تھی۔ اس نے اپنے بابا کا وہ کاروبار سنبھالا جو کچھ عرصہ قبل وہ شروع کر چکے تھے مگر اسے آگے نہیں بڑھا سکے تھے
☆☆☆
ہاتھ میں پکڑی رپورٹ نے اس کے پیروں تلے سے زمین نکال دی تھی وہ سارہ کی رپورٹ تھی اور وہ پریگنیٹ تھی کمرے میں گہرا اندھیرا تھا وہ پوری رات جاگتا رہا نیند تو جیسے ناراض ہو کر کہیں جا چکی تھی اپنے گناہوں کو یاد کرتے وہ اس وقت چونکا جب فجر کی اذان گونجنے لگی
اللہ اسے بلا رہا تھا وہ تو ہمیشہ ہی اپنے بندوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اس وقت!! جب وہ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں ہار چکے ہوتے ہیں مگر جس کے دل میں تھوڑا سا بھی اللہ کا خوف ہوتا ہے وہ اس کی ایک ہی پکار پر دوڑے چلے آتے ہیں
وہ بھی انہی میں سے تھا خاموشی سے اٹھ کر اس نے الماری سے کپڑے نکالے غسل کیا اور کالونی میں بنی خوبصورت سی مسجد میں داخل ہو گیا اسے پہلی صف میں ہی جگہ مل رہی تھی مگر وہ آخری صف میں کھڑا ہوا اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آگے جا کر کھڑا ہوتا
امام کے پیچھے وہی الفاظ دہراتے وہ بالکل ساکت تھا جھکا ہوا، رکوع میں، سجدے میں، تشہد میں
وہ پوری نماز میں روتا رہا تھا نماز کے بعد مسجد فوراً نمازیوں سے خالی ہونے لگی جب کہ وہ اکیلا وہیں بیٹھا رہا اس نے تو دعا تک نہیں مانگی تھی کیا مانگتا وہ اللہ سے؟ اللہ نے تو اسے ہر آسائشات سے نوازا تھا بس ایک وہ تھا جو شکر ادا کرنے کی بجائے غرور میں آتا گیا
گناہ پر گناہ کرتا گیا، کب وہ اللہ کو ناراض کر گیا اسے احساس تک نہ ہوا اور جب ہوا تو بہت دیر ہو چکی تھی امام صاحب اس کے سامنے آ بیٹھے اس نے چونک کر انہیں دیکھا
" پریشان ہو؟"
وہ نرمی سے بولے
" بہت"
اس کی آواز بہت ہلکی تھی
" تو اللہ سے کہو کہ وہ تمہاری پریشانیاں دور کر دے میں نے دیکھا تم نے دعا بھی نہیں مانگی"
" کیا مانگتا دعا میں؟ اتنے گناہ کر چکا ہوں کہ ہاتھ اٹھاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے میرا تو پورا وجود ہی گناہوں نے ڈھکا ہوا ہے ہر طرف اندھیرا ہے کچھ دکھائی نہیں دے رہا"
وہ رو رہا تھا
" تمہیں احساس ہو چکا ہے کہ تم جو کچھ کرتے آئے ہو وہ غلط تھا اللہ کو ناپسند تھا ؟"
" اب اس احساس کا کیا فائدہ جب سب کچھ ہاتھ سے نکل چکا ہو "
اس کا دل ہی نہیں اب پورا وجود کانپ رہا تھا
" انسان اللہ کے پاس اس وقت آتا ہے جب وہ خالی ہاتھ ہوتا ہے اگر تمہارے گناہ ستاروں سے بھی زیادہ ہوئے تو وہ معاف کر دے گا تم ایک بار سچے دل سے اللہ کو پکار کر توبہ کرو اس سے معافی مانگو وہ تمہیں ایسا کر دے گا جیسے تم نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو وہ بہت بڑا رحمان ہے اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتا وہ اپنے بندے کے دل کا حال جانتا ہے اس کی ایک ہی پکار پر وہ اس کے گناہوں کو دھو ڈالتا ہے وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے"
عون کی آنکھوں میں کچھ چمکا تھا ندامت؟ خوف؟ اللہ کی محبت؟ یا کچھ اور وہ سمجھ نہیں پایا
" مجھے۔۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ اللہ مجھ سے بہت ناراض ہے مجھے نہیں پتہ مگر مجھے امید نہیں ہے کہ وہ مجھے معاف کرے گا میں بہت گنہگار ہوں میں نے تو ہر وہ گناہ کیا ہے جو شاید ہی کسی نے کیے ہوں گے"
اس نے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کو صاف کیا وہ بالکل ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا امید کی کرن جل بجھ رہی تھی
" اگر اللہ تم سے ناراض ہوتا تو تم آج بھی یہاں نہ آتے تمہیں یہ خیال ہی نہ آتا کہ اللہ تم سے ناراض ہے جب تم اس طرف آ ہی گئے ہو تو اپنا دل ہلکا کر لو توبہ کر لو وہ آج بھی تمہاری توبہ کا منتظر ہے وہ ہمیشہ اپنے بندے کی توبہ کا منتظر ہوتا ہے انشاءاللہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا! وہ بہت بڑا غفور الرحیم اور معاف کرنے والا ہے "
انہوں نے ہلکا سا اس کا شانا تھپکا
وہ خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا
بندہ اپنی زبان سے نہ کہے تب بھی اللہ اس کے دل کا حال جانتا ہے وہ تو اس کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتا ہے
☆☆☆
" کیا تمہیں بھوک لگی ہے؟ ارے یقیناً لگی ہوگی تم نے تو دوپہر سے کچھ نہیں کھایا نا اب تو پھر رات کے گیارہ بج رہے ہیں"
اچانک وہ بولتے بولتے چپ ہوا پھر اس کا جواب سنے بغیر اس نے کسی کو پکارا اور کھانا لانے کا کہا تھوڑی دیر بعد ایک شخص ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوا پورا کمرہ خالی تھا بس دو کرسیاں آمنے سامنے رکھی تھیں جن پر وہ دونوں بیٹھے تھے ایک اور لڑکا چھوٹا سٹول اٹھائے آیا اور ان دونوں کے درمیان رکھ دیا وہ دونوں واپس چلے گئے
" مجھے بھوک نہیں ہے"
اس نے کھانے کو دیکھتے ہوئے کہا کھلی کھڑکی سے پورے چاند کی روشنی اندر آ رہی تھی آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا یقیناً وہ کسی ایسی جگہ پر تھے جو شہر سے کافی دور اور ویران تھی
" کیا واقعی؟"
وہ حیران ہوا
" ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی یہ واپس بھجوا دیتا ہوں"
وہ مسکرایا
"کیا میں واپس بھجوا دوں؟"
وہ یقیناً اسے تنگ کر رہا تھا
" بابا کہتے ہیں جب کھانا سامنے ہو تو اسے اگنور نہیں کرتے"
پیٹ کی دہائی کو اچھی طرح سنتے ہوئے وہ بولی
" شہباز!"
ایک دم وہ چلایا وہ اچھل پڑی
" یہ لے جاؤ سب "
اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ غصے سے بولا اس شہباز نامی شخص نے وہ ٹرے اٹھائی اور کمرے سے باہر نکل گیا
" واپس کیوں کیا؟"
وہ روہانسی ہوئی
" مجھے بھوک لگی تھی میں تو بس مذاق کر رہی تھی"
آنکھوں کی نمی کو اندر دھکیلتی وہ بولی وہ کچھ لمحے غور سے اس کو دیکھتا رہا وہ کہیں اور پہنچ گیا تھا پھر اس نے دوبارہ کھانا منگوایا اب وہ جلدی جلدی کھا رہی تھی مبادا وہ اب پھر سے واپس ہی نا بھجوا دے
جبکہ وہ بہت خاموشی سے اس کو کھاتے ہوئے دیکھتا رہا
☆☆☆
" بس کر دیں اپنا یہ ڈرامہ بھول جائیں کہ اللہ آپ کو کبھی معاف کرے گا"
سارہ نے جب اسے واپس آتے دیکھا تو غصے سے اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی اس نے کوئی جواب نہیں دیا بس خاموشی سے اس کو دیکھتا رہا
" نکال دو اپنا سارا غصہ میں کچھ نہیں کہوں گا ایک لفظ نہیں بولوں گا اگر مجھے مارنا چاہتی ہو تو مار دو میں تب بھی کچھ نہیں کہوں گا میں مانتا ہوں کہ میں تمہارا مجرم ہوں تم مجھے سزا دے سکتی ہو میری وجہ سے ہوا جو کچھ بھی ہوا تمہارے ساتھ تم مجھے ایک ہی وقت میں ختم کر دو میں بار بار تمہاری یہ نفرت نہیں سہہ سکتا میں معافی کے قابل بھی نہیں ہوں تم جو چاہو کرو میں کچھ نہیں کہتا"
عون کی آنکھیں ہلکی سی نم اور سرخ ہوئیں
" آپ کو ابھی مرنا نہیں ہے میں چاہتی ہوں آپ لمبی زندگی جیے وہ بھی گلٹ میں تاکہ کوئی تو آپ جیسا آپ کو دیکھ کر عبرت پکڑے کوئی تو سبق حاصل کرے اور میں کبھی معاف بھی نہیں کروں گی آپ کو"
اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ باغی لہجے میں بولتی چلی گئی وہ بس اس کو خاموشی سے دیکھتا رہا
وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا وہ بالکل خاموش ہو گیا تھا سارہ تو اسے دیکھتی تک نہیں تھی کچھ دنوں بعد اس کے پاس طلاق کے کاغذات موصول ہوئے وہ نور نے بھجوائے تھے وہ آج بھی اسے پوری شدت سے ڈھونڈ رہا تھا لیکن وہ اس طرح چھپی تھی کہ مل ہی نہیں پا رہی تھی
طلاق کے کاغذ کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں کا رنگ بدلا اس نے بنا سوچے سمجھے ان کاغذوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے
" میں مر جاؤں گا مگر تمہیں طلاق نہیں دوں گا "
دل ہی دل میں اس نے کہا تھا سارہ کو جب معلوم ہوا کہ وہ امید سے ہے تو اس نے رو رو کر اپنی آنکھیں سجا لی تھیں اسے یہ بچہ نہیں چاہیے تھا اور ابارشن کا وقت گزر چکا تھا
" تمہیں یہ نہیں چاہیے تو تم اسے مت اپنانا تم اسے مجھے دے دینا میں اس کو پالوں گا"
عون نے اسے کہا تھا
" ہاں جس طرح آپ کی وجہ میں برباد ہوئی اسی طرح وہ بھی ہو جائے"
وہ چیخی جب کہ وہ بالکل پتھر ہو گیا تھا اور آخری وقت تک وہ لڑکے کی دعا کرتا رہا لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی اس کی دعا قبول نہیں ہوئی تھی ایک مرتبہ پھر اس کی زندگی میں ایک لڑکی آئی تھی وہ بالکل گم سم ہو گیا تھا
کیا اس کی سزا ابھی بھی ختم نہیں ہوئی تھی یا شاید اب شروع ہوئی تھی اس نے خود کو مکمل کاموں میں الجھا لیا تھا وہ گھر بھی اب کم کم آنے لگا تھا پوری نمازوں کے ساتھ اس نے تہجد اور پھر نفلی نمازیں بھی نہیں چھوڑی تھیں ہر سال وہ بھاری صدقات نکالتا تھا وہ یہ سب نیک بننے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے کرتا تھا کیا معلوم اس طرح اللہ اس کو معاف کر دے اس کی سزا میں کمی ہو جائے
ایک دن وہ آفس میں بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم تھا کرسی سے ٹیک لگائے وہ چھت کو دیکھ رہا تھا اس نے آنکھیں بند کیں تو وہ سامنے آگئی
اس نے تصور میں چاہا کہ وہ مسکرائے وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ مسکراتے ہوئے کیسی لگتی ہے مگر اس کی آنکھیں کھل گئیں
وہ رو رہی تھی کیوں؟ کیونکہ اس نے کبھی اسے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ہمیشہ روتے دیکھا تھا وہ سلگتی آنکھوں سے سیدھا ہو بیٹھا اس نے سینے پر ہاتھ رکھا اور دھڑکن محسوس کی۔ وہاں دل نہیں وہ دھڑکتی تھی اس کا دل تو اب دو حصوں میں بٹ چکا تھا ایک زندہ رہنے کے لیے دھڑکتا تھا تو دوسرا اس کے نام پر
اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجی وہ چونکا پھر رسیور کان سے لگایا اور دوسری طرف کی بات سنتے ہی رسیور اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا وہ ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھا اور باہر کی طرف بھاگا وہ ریش ڈرائیو کرتا ہوا گھر پہنچا تھا اس کا تنفس تیز ہو گیا لان میں پول کے ساتھ ملازم کھڑے تھے ملازمائیں بھی کھڑی تماشہ دیکھ رہی تھیں
اس نے ان کو دھکا دے کر دور کیا اور پھر وہیں ساکت ہو گیا سارہ کے سر کے پاس ایک ننھا سا سرخ تالاب بنا ہوا تھا اس کے قدم لڑکھڑائے سارہ نے چھت سے کود کر خود کشی کر لی تھی ملازم کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے چلاتے ہوئے اس نے ان سب کو وہاں سے دفع ہونے کا کہا
سارہ مر چکی تھی اور اس کی بیٹی اوپر کمرے میں روئے جا رہی تھی جبکہ وہ تو کب کا اسے چھوڑ کے جا چکی تھی
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Talha should pay for the things he did to Sarah.
ReplyDelete