Search This Blog
Main ek passionate novelist aur content creator hoon jo intense romance, mafia vibes aur suspenseful kahaniyan likhti hoon. Mere likhe characters aur unki kahaniyan readers ko apni taraf kheench leti hain aur dil-o-dimagh par gehra asar chhodti hain. ✨🔥 Yahan apko meri sari novels ek hi jaga par milengi — bina kisi break ke aap direct read kar sakty hain. 📖 Agar aapko dark, intense aur emotional kahaniyan pasand hain… toh yehi aapka sahi manzil hai. 🔥❤️
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
Gunhegaar EP 9 by Munaza Niaz
ناول: گنہگار
از قلم منزہ نیاز
قسط 9
" ممی میرے پاپا کہاں ہیں میں ان سے ملنا چاہتا ہوں میرے سارے دوستوں کے پاس ان کے پاپا ہیں جو ان سے بہت پیار کرتے ہیں ان کو سکول سے لینے بھی آتے ہیں ان کو آئس کریم بھی کھلاتے ہیں میں نے ان کو دیکھا ہے!"
اس کا سات سالہ بیٹا اس کے کندھے پر سر رکھے اس کے ساتھ لیٹا پوچھ رہا تھا وہ چونک گئی
" تمہارے پاپا نہیں ہیں"
اس نے دھیرے سے کہا
" کیوں نہیں ہیں؟"
اس سے الگ ہوتے وہ اس کے چہرے کو دیکھنے لگا وہ اتنا معصوم تھا کہ حد نہیں
" کیونکہ وہ مر چکے ہیں جب تم چھوٹے تھے بس اس لیے میں نے تمہیں نہیں بتایا "
اس کے منہ میں جو بھی آیا وہ بول گئی اور پھر اس نے اپنے بیٹے کو ڈرتے ڈرتے دیکھا
" کیا آپ بابا کو یاد کرتی ہیں؟ جیسے میں کرتا ہوں"
اس نے دوبارہ اس کے بازو پر سر رکھ دیا وہ رو پڑی
" ہاں "
وہ تیزی سے سیدھا ہوا
" آپ رو کیوں رہی ہیں؟"
وہ اس کے آنسو دیکھ کر مچل اٹھا
" کیونکہ وہ مجھے بہت یاد آتا ہے اس نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا"
دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
" ممی آپ روئے نہیں میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا میں بابا کی طرح نہیں بنوں گا کہ آپ کو اکیلا چھوڑ دو میں آپ کے ساتھ رہوں گا ہمیشہ۔۔۔"
اس کے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹائے وہ اداس لگ رہا تھا
" ہاں تم اپنے بابا کی طرح مت بننا "
وہ بولی بھی تو کیا
" ممی آپ کتنی پیاری ہیں آپ کی ناک بھی بہت پیاری ہے آپ کی آنکھیں، آپ کے بال بھی، آپ کے ہونٹ بھی!"
رونے سے اس کی بھیگی پلکیں اس کی آنکھوں کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھیں کھلے بال ایک طرف ڈالے وہ ہنس پڑی
بارش کے بعد کا منظر
" تم بھی تو بہت پیارے ہو "
اس کو سینے سے لگائے اس کا سر چوما
" بالکل آپ کی طرح "
اس کے گرد اپنا چھوٹا سا بازو پھیلائے وہ کھلکھلایا اور وہ خاموش ہو گئی اس کا بیٹا اس پر نہیں عون پر گیا تھا یہ بات وہ اسے بتا نہیں سکی اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی
وقت تیزی سے گزرتا گیا اور اس کے بیٹے کا قد اس سے بھی لمبا ہو گیا اب وہ اپنے بیٹے کو سر اٹھا کر دیکھتی تھی اس کا کام تیزی سے بڑھ رہا تھا آہستہ آہستہ اس نے اپنا نام بزنس کی دنیا میں بنا لیا اس نے اپنا نام آج بھی عون کے نام پر رکھا تھا
میر عون عالمگیر
نور سے وہ مسز میر بن گئی تھی
اپنی زندگی کے یہ بیتے ماہ و سال وہ ایک ڈائری میں قید کرتی گئی تھی اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی یہ ڈائری اس کے بیٹے کے ہاتھ لگ جائے گی اور وہ سب کچھ جان جائے گا وہ جب بھی نماز پڑھ رہی ہوتی اس کا بیٹا اسے تکتا رہتا بالکل عون کی طرح
ماں کو دیکھتے ہوئے وہ بالکل اس کے جیسا بن گیا تھا وہ کبھی نماز نہیں چھوڑتا تھا ایک دن اس نے اپنی ماں کے فون میں عون کی تصویر بھی دیکھ لی تھی وہ اسے یہ نہیں کہہ سکا کہ وہ ان کا جھوٹ جانتا ہے انہیں دنوں سراج الحسین کا بھی انتقال ہو گیا وہ اسے کہتا کہ وہ واپس اپنے پرانے گھر چلیں مگر وہ نہیں مانتی تھی مگر سراج الحسین کے انتقال کے بعد اس کے ایک بار کہنے پر وہ مان گئی تھی اور پھر اس نے اپنا ٹرانسفر واپس اسی شہر میں کروا لیا تھا
یسع نے پھر سے اپنی اسٹڈی اس یونیورسٹی میں شروع کی جہاں اس کی زندگی کا نیا باب شروع ہوا
یونیورسٹی میں مشاعرے کی تقریب تھی اسے شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا مگر اس کے دوست اسے زبردستی لے گئے تھے وہ خاموش ایک لڑکی کو سن رہا تھا جو لہک لہک کر بول رہی تھی
جب تیرا حکم ملا ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کے قیامت کر دی
وہ جو ٹیک لگائے بیزار شکل لیے بیٹھا تھا دلچسپی سے سننے لگا
تجھ سے کس طرح میں اظہارِ تمنا کرتا
لفظ جو سوجھے تو معنی نے بغاوت کر دی
اس لڑکی کا انداز کافی دلربا تھا سب کی نظریں اسی پر جمی تھیں
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی میری قسمت کر دی
اس کی نظریں بالکل ساکت تھیں
مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
تیری الفت نے محبت میری عادت کر دی
اس کا ہلتا پیر رکا ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر رکھے وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا
پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے تیرے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری صورت کر دی
وہ ارد گرد سے مکمل بے نیاز ہو چکا تھا
کیا تیرا جسم تیرے حسن کی حدت میں جلا
راکھ کس نے تیری سونے کی سی رنگت کر دی
ہر طرف تالیوں کا شور گونج اٹھا پہلے وہ مسکرائی پھر ہنس پڑی
وہ مشاعرہ جیت گئی تھی ٹرافی لیے وہ بھاگتی ہوئی کسی کی طرف جا رہی تھی اس کی نظریں بھی اسی کی طرف گئیں اور پھر اس نے دیکھا کہ۔۔۔
وہ چونکا وہ کسی آدمی سے گلے مل کر اسے ہنستے ہوئے اپنی ٹرافی دکھا رہی تھی اس شخص نے اسے سراہا پھر وہ باتیں کرتے ہوئے وہاں سے چل دیے وہ دور تک ان کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے بیٹھا رہا ان کے اوجھل ہونے کے بعد وہ اٹھا اور وہاں سے چل دیا وہ اس شخص کو اچھی طرح جانتا تھا مگر یہ لڑکی کون تھی اس نے پتہ لگایا اور پھر اس کو معلوم ہو گیا کہ وہ کون تھی
☆☆☆
سٹڈی روم میں وہ کام کرتے ہوئے سو گیا تھا اس کی آنکھ کسی کھٹکے سے کھلی اس نے نیند بھری آنکھوں سے سامنے دیکھا اس کا ہاتھ لگنے سے پانی کا گلاس لڑھک کر گر گیا تھا
اندر پانی نہیں تھا ورنہ اس کی ساری فائلیں بھیگ جاتی اس نے گہری سانس لی پھر گلاس اٹھا کر سیدھا کرتے ہوئے وقت دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا
رات کا تیسرا پہر شروع ہو چکا تھا سونے کے بعد اس وقت اس کی آنکھ خود بخود کھل جاتی تھی وضو کر کے اس نے تہجد کی نماز کی نیت باندھ لی کمرے کے کھلے دروازے سے کوئی بنا چاپ کیے اندر داخل ہوا تھا اس کے ہاتھ میں ایک کیوٹ سا ٹیڈی بیئر اور ایک ٹیبلٹ تھا
وہ چھ سال کی ایک خوبصورت سی سنہری آنکھوں والی بچی تھی اس بچی نے ٹیبل پر ٹیب رکھ دیا اور بلی کی چال چلتی مسکراتے ہوئے اس کرسی پر بیٹھ گئی جہاں کچھ دیر قبل وہ بیٹھا تھا
اب وہ مسکراتے ہوئے کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائے اور ہاتھ پر ٹھوڑی جمائے اسے مسکراتے ہوئے دیکھتی جا رہی تھی سلام پھیر کر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے وہ بچی ٹیڈی سینے سے لگائے کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس جا بیٹھی
" پاپا!"
اس نے چہرہ اٹھا کر اسے پکارا عون نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر مسکرا کر اسے دیکھا
" پاپا کی جان!"
اسے اٹھا کر گود میں بٹھایا
" تم سوئی نہیں دیکھو کتنی رات ہو گئی ہے صبح تم نے سکول بھی جانا ہے!"
وہ تھوڑا ناراض ہوا تھا
" مجھے نیند نہیں آ رہی تھی پھر آپ بھی تو میرے پاس نہیں آئے مجھے سٹوری سنانے اس لیے میں گیم کھیلتی رہی اور کل سنڈے ہے!"
ناک سکوڑے اس نے آخر میں اسے یاد دلایا اس کے انداز پر وہ دھیرے سے مسکرایا
" یہ تو مجھے بھول ہی گیا تھا لیکن پھر بھی تمہیں اتنی رات تک جاگتے نہیں رہنا چاہیے"
وہ اسے سمجھا رہا تھا
" آپ بھی تو نہیں سوئے "
کھلے بال اس کے کندھوں پر پھیلے ہوئے تھے
" میں تو کام کر رہا تھا پھر دیکھو میں سویا بھی تو ہوں"
گود میں اسے اٹھائے وہ اس کا سر تھپکنے لگا
" اوکے پاپا اب میں وقت پر سوؤں گی"
وہ تیزی سے کھڑی ہوئی عون نے اسے دیکھا اور گہری سانس لی
وہ جب جب اسے دیکھتا تھا اسے سارہ یاد آتی تھی اور وہ اب بھی آئی تھی سارہ کے بعد اس نے اسے پالا تھا اس کی صرف آنکھیں سارہ جیسی تھیں باقی وہ اپنے آپ پر گئی تھی عون نے اسے کبھی کچھ نہیں بتایا تھا اسے یہ تو معلوم تھا کہ عون اس کا باپ نہیں ہے مگر پہلی بار ہوش سنبھالتے ہی اس نے عون کو ماموں نہیں پاپا کہا تھا اور اب تک کہتی آ رہی تھی اس نے اپنے پاپا جیسا کوئی نہیں دیکھا تھا وہ اس کے آئیڈیل تھے
" میری بات سنو"
عون نے نرمی سے اس کا بیئر لے کر سائیڈ پر رکھا اور دھیرے سے اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ تھام لیے وہ منتظر سی کھڑی تھی
" تمہارے پاپا نے بہت سے لوگوں کے ساتھ بہت برا کیا تھا اس لیے وہ سب تمہارے پاپا کو چھوڑ کر چلے گئے تھے تم ہمیشہ یاد رکھنا رخ کہ تمہارے پاپا تم سے بھی تم سے پیار کرتے ہیں وہ کبھی تمہارے ساتھ برا نہیں ہونے دیں گے اگر کبھی کوئی تمہیں میرے بارے میں کچھ ایسا کہے جسے سن کر تم مجھ سے نفرت کرنے لگو تو پلیز ایسا مت کرنا میں زندہ نہیں رہ سکوں گا میں نے سب کچھ کھو دیا میں تمہیں نہیں کھو سکتا تم میری سارہ کی نشانی ہو میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں رخ! تم بہت قیمتی ہو میرے لیے اگر میں تمہاری حفاظت نہ کر سکا تو میں جیتے جی مر جاؤں گا کیونکہ میں تمہاری ماں کی بھی حفاظت نہیں کر سکا تھا لیکن میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں گا تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا تم سمجھ رہی ہو میری بات"
گیلا چہرہ اٹھائے وہ اسے دیکھ رہا تھا رخ کو تھوڑا سمجھ آیا تھوڑا نہیں بس وہ یہ جانتی تھی کہ اس کے سامنے بیٹھا وہ روتا ہوا شخص کبھی اسے برا نہیں لگا
اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا اور اپنے دونوں ہاتھ چھڑوا کر اس کے آنسو صاف کیے
" میں آپ کو کبھی برا نہیں سمجھوں گی پاپا آپ پلیز روئے نہیں ورنہ میں بھی رو پڑوں گی"
وہ اداس ہو گئی عون نے نرمی سے اسے سینے سے لگایا اور اس کا سر چوما
" نو اگین پاپا"
اس سے الگ ہوتے ہوئے اس نے عون کو رونے سے باز رہنے کا کہا اس کا انداز بالکل ماؤں والا تھا وہ دھیرے سے ہنس پڑا
" اوکے اوکے رائٹ!"
مسکرا کر اس کے گال پر چٹکی بھری وہ کھلکھلا کر ہنسی
" ماہ رخ آپ سے بھی زیادہ آپ سے پیار کرتی ہے"
عون کے دونوں گال چوم کر وہ چہکی وہ مسکراتے ہوئے اٹھا اور اسے بھی گود میں اٹھا لیا
وہ سٹڈی روم سے باہر نکل رہا تھا اس گھر میں ان دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا
☆☆☆
اس نے نور کو کچھ نہیں بتایا تھا کہ وہ سب کچھ جان گیا ہے وہ اب ہر وقت اس پر نظر رکھنے لگا تھا آہستہ آہستہ اسے معلوم ہوا کہ وہ عون سے حد سے زیادہ محبت کرتی ہے وہ حیران ہوا تھا کیا وہ اس آدمی کو نہیں جانتی تھی کہ وہ کیسا شخص ہے یا پھر جانتے ہوئے بھی اس سے محبت کرتی تھی کافی دفعہ اس نے اسے " اپنے باپ" کے ساتھ یونیورسٹی میں دیکھا تھا وہ اسے خود چھوڑنے اور لینے آتا تھا یسع دور سے ہی اس پر نظر رکھے ہوئے تھا وہ کسی لڑکی کو دیکھتا تک نہیں تھا مگر اس لڑکی کو کسی خاص وجہ سے دیکھ رہا تھا اس کا باپ کتنا خوش قسمت تھا اور ایک اس کی ماں تھی جس کو اس نے اس شخص کے لیے ہمیشہ روتے دیکھا تھا وہ اس شخص سے نفرت کرنے لگا تھا جس کی وجہ سے اس کی ماں کو تکلیف پہنچی تھی وہ چاہتا تھا ہر شخص اس سے نفرت کرے خاص کر وہ لڑکی جو ہر وقت اپنے پاپا کے گُن گاتی تھی اور پھر ایک دن اسے اچانک احساس ہوا کہ وہ اس کی نظروں میں آگیا ہے پلان کے مطابق وہ اسے باقی لڑکیوں کی طرح نظر انداز کرنے لگا تھا آخر وہ ایسا کیا کرے کہ وہ لڑکی خود اس کی طرف مائل ہو وہ شاید اس لیے کتراتی تھی کہ اس نے کبھی یسع کو کسی لڑکی کے ساتھ نہیں دیکھا تھا اس کے پہل کرنے کے پر کیا معلوم وہ اسے کوئی ایسی ویسی لڑکی سمجھے گا
ایک دن اس نے دیکھا تھا کہ وہ اپنی کسی دوست کے ساتھ کینٹین جا رہی تھی اس نے کچھ سوچا اور خود بھی کینٹین کی طرف بڑھ گیا یہاں پر اس نے اپنا پہلا گیم شروع کیا تھا اس دن اس کی مدد کرنے کے بعد وہ کافی دیر تک اسی کے بارے میں سوچتا رہا تھا یہ اس نے کیا کیا؟ وہ اس طرح اس کو اپنی طرف مائل کرنے والا تھا؟ اس نے دیکھا تھا کہ وہ اس کی آمد کی وجہ سے تھوڑی گھبرا گئی تھی اس کا چہرہ کچھ نہیں چھپاتا تھا ہر راز اس کے چہرے پر واضح ہو جاتا تھا وہ اس کے انداز پر کافی محظوظ ہوا تھا
اگلے دن اس نے اس کے سارے پیسے لوٹا دیے تھے یقیناً وہ کافی خوددار تھی۔ چلو جی وہ باقی لڑکیوں کی طرح تو نہیں تھی جو ایسے موقعوں کا فائدہ اٹھا کر پتلی گلی سے نکل جاتی تھیں دل ہی دل میں وہ مسکرایا تھا
انہی دنوں ممی بھی اسے تنگ کرنے لگیں کہ وہ انہیں کسی لڑکی سے ملوائے اگر کوئی نہیں ہے تو وہ خود کوئی ڈھونڈ لے گیں مگر اس نے صاف انکار کر دیا تھا فی الحال وہ جب تک اپنا بزنس شروع نہیں کرتا شادی کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں تبھی یونی میں ٹرپ پلان ہونے لگا وہ جانا نہیں چاہتا تھا مگر اس کے جانے سے وہ بھی آئے گی اسی لیے وہ تیار ہو گیا بس ایک دفعہ وہ اس کی طرف پیش قدمی کر لے پھر وہ اسے اس کے باپ کی اصلیت بتائے گا
وہ بھی اب اس شخص سے نفرت کرے گی یہ سوچ کر ہی اس کے دل کو اطمینان سا ہوا جانے سے پہلے اس نے اپنے کچھ بندوں کو اپنے پیچھے لگا لیا تھا یہ اس کے پلان کا حصہ تھا یہ کچھ تھرڈ کلاس کے غنڈے تھے جنہیں خرید کر اس نے اپنے کاموں کے لیے رکھ لیا تھا اور نور یہ بات نہیں جانتی تھی اگر نور کو اس کی حرکتیں معلوم ہو جاتیں تو وہ اس کو اپنا بیٹا ماننے سے ہی انکار کر دیتی وہ جلد از جلد یہ سب ختم کرنا چاہتا تھا سفر کے دوران اس نے ہر وقت اس کی نظریں خود پر محسوس کی تھیں بظاہر تو وہ لاپرواہ بنا ہوا تھا مگر اندر ہی اندر وہ بل کھا رہا تھا یہ آخر مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی تھی جب وہ نماز پڑھنے کے لیے گیا تو وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلی آئی کیا وہ لڑکی پاگل ہے؟ کہیں وہ اس سے واقعی میں محبت تو نہیں کرنے لگی؟ وہ ایسا بالکل نہیں چاہتا تھا وہ بس اس کے باپ کی چائنیز زبان میں لکھی گئی کتاب کو اردو میں ترجمہ کر کے سنانا چاہتا تھا
" اس کا باپ؟"
وہ سوچتے ہوئے تلخی سے ہنسا وہ تو اس کو اپنا باپ مانتا ہی نہیں تھا اور پھر اس کے پلان کے مطابق وہ لڑکے وہاں آ گئے تھے یہ دو نمبری تھی مگر وہ کیا کرتا ایسے موقع پر اسے ہیرو بننا ہی تھا اور جب وہ اس کو بھگا کر لے گیا تو وہ رونے لگی تھی
اسے بے اختیار ممی یاد آئی اپنی ماں کو روتے دیکھ کر وہ بھی پریشان ہو جاتا تھا اور سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر بھی پتہ نہیں کیوں مگر وہ پریشان ضرور ہو گیا تھا اس نے ہلکی پھلکی باتیں کر کے اسے خاموش کروا دیا اور پھر اس کے باپ کا ذکر نکل آیا
اپنے باپ کے ذکر پر وہ تھوڑا غرور میں آئی تھی اور یہی بات اسے نا گوار گزری تھی اس غرور کو تو وہ بہت جلد ختم کرے گا پڑھائی مکمل ہوتے ہی اس نے ممی کے آفس میں باقاعدہ جانا شروع کر دیا لیکن جھٹکا تو اسے تب لگا جب وہ بھی ان کے آفس میں آئی تھی ممی سے ملوانے کے بعد وہ فوراً وہاں سے نکل گیا تھا اسے اب جلد یہ سب ختم کرنا تھا وہ لڑکی حد سے بڑھ گئی تھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ ممی کو کچھ بھی معلوم ہو کہ وہ کون تھی مگر اس کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوا تھا آفیشل ڈنر میں وہ اپنے باپ کو بھی لے آئی تھی
بیڑا غرق ہو۔ اسے شدید غصہ آیا اگر اس کا پول کھل جاتا تو اسے شک نہیں پورا یقین تھا کہ ممی واقعی میں بہت دکھی ہوں گی توقع کے عین مطابق وہ اپنے باپ کو نور سے ملوانے لے گئی تھی اور وہ فوراً وہاں پہنچا اس کے پوچھنے پر وہ اس کا بیٹا ہے اس نے تلخی سے بتا اور جتا بھی دیا کہ اس کا باپ مر چکا ہے اس شخص کا چہرہ تاریک ہوا جس طرح وہ نور کو دیکھ رہا تھا اسے شدید غصہ آ رہا تھا مگر وہ ضبط کیے کھڑا رہا نور وہاں سے بنا کچھ ظاہر کیے ہٹ گئی تھی اور وہ دونوں فوراً وہاں سے چلے گئے تھے ان کے جانے کے بعد وہ نور کے پاس آیا اور اسے احساس دلایا کہ وہ اس کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گا وہ کچھ دنوں تک انتظار کرتا رہا کہ رخ اسے کال کر کے کچھ پوچھے گی یا کچھ بتائے گی یا شاید اس نے محسوس کیا تھا کہ اس کے باپ نے اسے سب کچھ بتا دیا ہوگا مگر ایسا نہ ہو سکا اسے عون سے اتنی بزدلی کی توقع نہیں تھی اس نے اگلے دن رخ کو اٹھوا لیا تھا بس بہت ہو گیا انتظار
☆☆☆
چوبیس سالوں بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا تھا وہ حیران تھا کہ وہ اگر اس شہر میں تھی اور اتنا بڑا بزنس سنبھال رہی تھی تو اس وقت اس کی نظروں میں کیوں نہیں آئی اس نے اپنا سینہ مسلا اگر وہ تھوڑی دیر بھی وہاں رکتا تو ضبط کھو دیتا وہ فوراً وہاں سے چلا آیا تھا رخ پورا راستہ اس سے پوچھتی رہی تھی مگر اس نے کچھ نہیں بتایا تھا اب اسے کیا بتاتا کہ وہ جس عورت کی اتنی تعریفیں کرتی ہے ہر وقت یہ کہتی ہے کہ وہ اس سے شادی کر لے وہ آلریڈی اس کی بیوی ہے
گھر پہنچ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا اسے لگا اتنے سالوں بعد اس کی زندگی میں پھر سے روشنی بھر گئی ہے پوری رات وہ سو نہیں سکا تھا اگلے دن رخ کے آفس جانے کے بعد وہ اپنے آفس نہیں بلکہ ساحل پر چلا گیا تھا یک دم ہی اس کا دل اس دنیا سے اچاٹ ہو گیا تھا اور پھر جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ۔۔۔
☆☆☆
اس کے دل میں جو ہلکا سا ڈر تھا وہ بھی سچ ہو گیا اسے معلوم تھا کہ واپس اس شہر میں جانے کے بعد وہ ضرور اس کے سامنے آئے گا وہ کوئی معمولی سی ہاؤس وائف نہیں تھی کہ چھپی رہتی ہے وہ ایک بزنس وومن بن چکی تھی جس لمحے سے وہ بچتی آئی تھی وہ ایک دم اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا اس شخص کی آنکھوں میں اتنی حیرانگی تھی کہ وہ ڈر گئی
ابھی وہ بات کرنے والا تھا کہ وہ فوراً وہاں سے چلی گئی اسے لگا اگر وہ تھوڑی دیر اور رکی تو رونے لگ جائے گی وہ چلا گیا تھا اور پھر وہ دوبارہ اکیلی ہو گئی تھی اس کی آنکھوں میں نمی آئی اسے اس وقت کسی سہارے کی ضرورت تھی تبھی کسی کا مضبوط بازو اس کے کندھے کے گرد پھیل گیا تھا اس نے چونک کر دیکھا وہ یسع تھا وہ اس کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ دے رہا تھا کہ وہ ایک مضبوط عورت ہے کسی کے اچانک سامنے آجانے سے کمزور نہیں ہوگی وہ سمجھ گئی تھی اس نے محسوس کیا کہ یسع کچھ پریشان سا ہے مگر وہ کچھ جان نہیں سکی یکدم ہی وہ دنیا سے بیگانہ ہو گئی تھی اگلے دن وہ اکیلی ساحل پر چلی گئی پتہ نہیں کیوں مگر اسے لگا وہاں جا کر شاید کوئی اس کا منتظر ہوگا یا وہ کسی کی منتظر ہو گی بس یہ دو صورتیں ہونگیں
اور پھر اس نے وہاں کسی کو اپنا منتظر پایا تھا
☆☆☆
وہ سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی یسع کو اچھنبا ہوا وہ کچھ بول کیوں نہیں رہی تھی مگر جب وہ بولی تو۔۔
" تمہیں مجھ سے محبت نہیں تھی؟"
وہ ایک دم سیدھا ہو بیٹھا کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا اور پھر بولا۔
" نہیں"
اسے جھٹکا لگا وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
" جب تمہیں سب کچھ پتہ ہے تو پھر یہ کیوں نہیں پتا"
ہاتھ سے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے وہ سپاٹ انداز میں بولی
" کیونکہ مجھے اس سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی"
صاف جواب۔۔۔ جب کہ وہ تلخی سے ہنس دی
" میں تمہیں بتاتی ہوں کہ آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے تم نے میرے پاپا کو میری نظروں میں گرانے کی کوشش کی مگر پتہ ہے کیا وہ نہیں تم میری نظروں میں گر گئے ہو تم نے کہا میرا باپ ایسا تھا میرا باپ ویسا تھا جبکہ میں تو ان کی بیٹی ہوں ہی نہیں اصل میں تو تم ان کے بیٹے ہو اب تم مجھے بتاؤ جیسا تم ان کے بارے میں مجھے بتا چکے ہو کیا تم اب ان کے جیسے نہیں لگ رہے؟"
کرسی سے ٹیک لگائے دونوں بازو سینے پر باندھے تلخی سے ہنسی یسع کی آنکھیں کھل گئیں وہ بے یقینی سے اس کو دیکھ رہا تھا اس نہج پر تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا
" مجھے لگتا ہے کہ تم ان کی نہیں اپنی کہانی مجھے سنا رہے تھے ایسا ہی ہے نا"
وہ کھل کر مسکرائی
" وہ ایک گھٹیا شخص ہے اس نے میری ماں کو رات کے اندھیرے میں گھر سے نکال دیا تھا"
وہ غرایا
" گھٹیا تو پھر تم بھی ہو کیونکہ تم نے مجھے اغوا کر لیا اب مجھے تمہاری کسی بات کا یقین نہیں ہے میں اپنے باپ کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں میں نے ان کے کردار میں کوئی جھول نہیں دیکھا اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میں اپنے باپ سے نفرت کرنے لگوں تو سن لو ایسا کبھی نہیں ہوگا"
اسے بھی غصہ آ گیا تھا
" تمہاری ماں جب اپنے بھائی کو نہیں جان سکی تو تم کیا جانو گی"
وہ اب بھی اس کے باپ کو اپنا باپ کہہ رہی تھی اب اس نے وہ بات کہی جو اسے سب سے پہلے کہہ دینی چاہیے تھی
" کیا مطلب ہے تمہارا تم آخر جانتے کتنا ہو میری ماں کو"
رخ نے بے چینی اور غصے سے کہا وہ مسکرایا
" تمہاری ماں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس شخص کے گناہوں کا نتیجہ تھا لیکن اب پتہ نہیں کہ تم بھی۔۔۔"
رخ کے چہرے کا رنگ بدلا وہ فوراً خاموش ہو گیا
" خاموش کیوں ہو گئے ہو بولو۔۔۔بولتے جاؤ۔۔۔ بول دو نا کہ میں بھی اپنی ماں کے ناجائز اولاد ہوں بولو نا۔۔۔ رک کیوں گئے"
وہ یک دم ہی غصے سے چلائی تھی وہ چپ بیٹھا رہا
" میں تمہیں کیسا سمجھی تھی یسع مگر تم کیسے نکلے تم میری ماں کے بارے میں اتنی گری ہوئی بات کرو گے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم نے ایسا سوچا بھی کیسے مجھے تو شرم آرہی ہے کہ میں نے تم جیسے شخص سے محبت کر لی"
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
" میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا "
وہ بالکل سپاٹ انداز میں بولا
" میں اب تمہاری مزید کوئی بکواس نہیں سننا چاہتی مجھے ابھی واپس جانا ہے"
وہ تیزی سے کھڑی ہوئی مگر اگلے ہی لمحے یسع نے اس کی کلائی پکڑ کر ایک جھٹکے سے اسے واپس بٹھایا وہ دنگ رہ گئی
" میری اجازت کے بغیر تم کہیں نہیں جا رہی"
وہ سخت لہجے میں بولا
" سن چکی ہوں میں تمہاری ساری بکواس اب کیوں مجھے روک رہے ہو؟"
اسے شدید تاؤ آیا
" ابھی میری پوری بات ختم نہیں ہوئی پہلے مجھے یہ بتاؤ کیا تم واقعی مجھ سے محبت کرتی ہو؟"
اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اچانک وہ بات کر گیا جو وہ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا
" محبت؟ کس نے کہا مجھے تم سے محبت ہے"
اس نے تیزی سے اس کی بات کاٹی
" ابھی تم نے ہی تو کہا ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو "
وہ اسے یاد دلا رہا تھا
" بھاڑ میں گئی وہ محبت"
اسے غصہ آ رہا تھا
" ٹھیک ہے ہم بھی چلتے ہیں پھر"
" کدھر؟"
کیا وہ اسے واپس لے جا رہا تھا
" بھاڑ میں!"
رخ کو سمجھ نہیں آیا کہ اسے کیا کہے کیسا عجیب قسم کا ڈھیٹ انسان تھا وہ لگ تو نہیں رہا تھا کہ وہ عون کا بیٹا ہے
" مجھے جانے دو "
وہ بس اتنا بولی
" ایک شرط پر!"
چہرہ تھوڑا سا جھکائے وہ مسکرایا رخ کو یاد آیا کہ وہ ایسا کیوں سمجھتی تھی کہ اس نے اسے پہلے بھی کہیں دیکھ رکھا ہے کیونکہ۔۔
وہ بالکل عون جیسا تھا صرف شکل میں اگر نور وہاں ہوتی تو وہ اسے بتاتی کہ وہ صرف شکل میں ہی نہیں حرکتوں میں بھی اس کے جیسا تھا
رخ نے گھبرا کر چہرہ موڑ لیا
جاری ہے
Comments
Popular Posts
Zeher e Ishq - Munaza Niaz - Episode 1 - Intense Dark Love story
- Get link
- X
- Other Apps
GUNHEGAAR BY MUNAZA NIAZ COMPLETE NOVEL
- Get link
- X
- Other Apps

Yeh kia hogya i am shocked 😲🥺🥺🥺🥺🥺🥺 koi words ni mre pas kuch kehny do 💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭 owan ki saza khafi hai itna b dukh na dain use please 🥺
ReplyDelete